’سحری سے قبل وہ 2 بچے کھانے کی تلاش میں پھر رہے تھے، گاﺅں والوں نے ترس کھا کر قریب بلایا اور پھر ایک دم ایسی خوفناک تباہی جو زندگی میں کبھی نہیں دیکھی، ہر طرف لاشیں بکھر گئیں کیونکہ۔۔۔‘

’سحری سے قبل وہ 2 بچے کھانے کی تلاش میں پھر رہے تھے، گاﺅں والوں نے ترس کھا کر ...
’سحری سے قبل وہ 2 بچے کھانے کی تلاش میں پھر رہے تھے، گاﺅں والوں نے ترس کھا کر قریب بلایا اور پھر ایک دم ایسی خوفناک تباہی جو زندگی میں کبھی نہیں دیکھی، ہر طرف لاشیں بکھر گئیں کیونکہ۔۔۔‘

  

یاﺅنڈے(نیوز ڈیسک) ماہ صیام کے پہلے جمعہ کے دن سحری کے وقت افریقی ملک کیمرون کے ایک پناہ گزین کیمپ پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب بظاہر کھانے کے متلاشی دو کمسن بچوں نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

غیر ملکی رساں ایجنسی کے مطابق اس کیمپ میں و ہ افراد مقیم تھے جو نائجیریا کی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے ظلم و ستم سے جان بچا کر یہاں پناہ لیے ہوئے تھے ۔ خود کش حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے جبکہ تیس سے زائد زخمی ہوئے۔ دونوں بچے نائجریا کی سرحد کی جانب سے کولو فاتا گاﺅں میں آئے تھے ، جو کہ نائیجریا کی سرحد سے 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ بچوں نے خود کو پناہ گزین ظاہر کیا اور گاﺅں والوں کو بتایا کہ وہ کھانے کی تلاش میں پھر رہے تھے۔ گاﺅں والوں کی بدقسمتی تھی کہ ان پر ترس کھا کر انہیں کھانا دینے کی کوشش کی، لیکن بھیانک حقیقت اس وقت سامنے آئی جب دونوں نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

صدام کی پھانسی پر اسکے گارڈ امریکی فوجی روپڑے تھے

کیمرون کے وزیر ابلاغیات عیسی شیروما باکری نے سرکاری ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا ” دونوں خودکش بمباروں کی عمریں 10 سے 15 سال کے درمیان تھیں۔ اس حملے میں 9 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دونوں خودکش بمبار بھی مارے گے۔ 30 افراد زخمی ہیں جن میں سے 10 کی حالت نازک ہے۔ “ ایک عینی شاہد نے بتایا ” تباہی کا منظر ناقابل برداشت تھا۔ لوگ چیخ رہے تھے اور جان بچانے کیلئے فریاد کر رہے تھے۔ یہ انتہائی وحشت ناک منظر تھا۔ “

یاد رہے کہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام گزشتہ کئی سالوں سے نائجریا میں دہشت گردی کے حملے کر رہی ہے۔ یہ تنظیم سرحد پار کیمرون کے علاقوں کو بھی نشانہ بناتی ہے۔ بوکو حرام کے مظالم سے تنگ آ کر نائجیریا کے سرحدی علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد کیمرون میں پناہ گزین ہو چکی ہے۔ بوکوحرام نائجیریا میں حملوں کے علاوہ ان پناہ گزینوں کو نشانہ بنانے کیلئے سرحد پار بھی دھماکے اور خود کش حملے کرتی رہتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس