’اگر کبھی بینک یا اے ٹی ایم سے پیسے لے کر نکلیں اور کوئی آپ کو یہ اشارہ کرے تو ایک لمحے کیلئے بھی نہ رُکیں بلکہ دوڑ لگادیں کیونکہ۔۔۔‘ جانئے وہ بات جو کسی دن آپ کے لاکھوں روپے بچاسکتی ہے

’اگر کبھی بینک یا اے ٹی ایم سے پیسے لے کر نکلیں اور کوئی آپ کو یہ اشارہ کرے تو ...
’اگر کبھی بینک یا اے ٹی ایم سے پیسے لے کر نکلیں اور کوئی آپ کو یہ اشارہ کرے تو ایک لمحے کیلئے بھی نہ رُکیں بلکہ دوڑ لگادیں کیونکہ۔۔۔‘ جانئے وہ بات جو کسی دن آپ کے لاکھوں روپے بچاسکتی ہے

  

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) بینک یا اے ٹی ایم سے رقم لے کر نکلتے ہوئے بے حد محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ لٹیرے آپ کے آس پاس ہی منڈلارہے ہوتے ہیں اور آج کل تو انہوں نے ایسی شاطرانہ چالوں کا استعمال شروع کر دیا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے ۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ابو ظہبی اور شارجہ میں اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے والوں کو لوٹنے کا ایک نیا طریقہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک بینک ملازم نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا”میں اے ٹی ایم سے رقم نکلوا کر باہر آیا اور یہ رقم ایک لفافے میںڈالتے ہوئے اپنی گاڑی میں جا بیٹھا۔ ابھی میں گاڑی سٹارٹ کرنا ہی چاہ رہا تھا کہ دوسری جانب کھڑے ہوئے ایک شخص نے گاڑی کے ٹائر کی جانب اشارہ کیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ٹائر پنکچر ہو چکا ہے۔ میں گاڑی سے نکلا اور دوسری جانب ٹائر دیکھنے کیلئے پہنچا لیکن اسی دوران ایک شخص نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور رقم کا لفافہ اٹھا کر فرار ہو گیا۔ میں اس کی جانب بھاگا تو پیچھے سے دوسرا شخص بھی فرار ہو چکا تھا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ ایک سوچی سمجھی دھوکہ بازی تھی۔ یہ مجرم بینک یا اے ٹی ایم کے باہر کھڑے ہوتے ہیں اور جب بھی کوئی رقم لے کر باہر نکلتا ہے تو اس کی توجہ بٹا کر رقم لے اڑتے ہیں۔ یہ عموماً ٹائر پنکچر ہونے کا اشارہ کرتے ہیں یا کہتے ہیں کہ گاڑی سے تیل لیک ہو رہا ہے۔ “

عرب شہری اپنی مردانگی سے ہاتھ دھو کر ڈھائی کروڑ روپے کا مالک بن گیا

پولیس نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایسے واقعات بڑی تعداد میں پیش آنے لگے ہیں لہٰذا لوگوں کو بے حد محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ اس کے علاوہ کسٹمر کے کارڈ کی معلومات چرانے کیلئے اے ٹی ایم مشین میں کارڈ ریڈر لگانے ، خفیہ کیمرے کی مدد سے کسٹمرز کے پن کوڈ چوری کرنے اور اے ٹی ایم کے ’کی پیڈ‘ کے اوپر جعلی ’کی پیڈ‘ لگا کر معلومات چوری کرنے کے طریقے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

مزید : عرب دنیا