افطار میں گوشت کیوں کھایا؟ جنونی ہندوؤں کا مزدوروں پر بہیمانہ تشدد

  افطار میں گوشت کیوں کھایا؟ جنونی ہندوؤں کا مزدوروں پر بہیمانہ تشدد

  



اتر پردیش(مانیٹرنگ ڈیسک) مودی کے برسر اقتدار آتے ہی جنونی ہندوؤں کی باچھیں کھل گئیں،ہر معاملے میں مداخلت اور دخل اندازی اور گاؤ ماتا کے نام پر غنڈہ گردی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔اسی تناظر میں بھارت میں انتہا پسند جنونی ہندوؤں نے گائے کے گوشت سے روزہ افظار کرنے کا الزام عائد کر کے 4 مسلمان مزدوروں کو بیلٹ، لاتوں اور گھونسوں سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش میں 4 مسلمان شہری محنت مزدوری کے بعد روزہ افطار کرنے بیٹھے تھے کہ اچانک مشتعل ہندوؤں نے حملہ کردیا۔ ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں پر گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگا کر چمڑے کی بیلٹ سے پیٹھ پر ضربیں لگائیں اور لاتوں، گھونسوں کا آزادانہ استعمال کیا، اس دوران مسلمان مزدور رحم کی اپیل کرتے رہے لیکن جنونی ہندو باز نہ آئے۔مسلمانوں پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی، پولیس نے آدیش ولمکی اور منیش سمیت 4 نامعلوم افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کرلی۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران یہ میڈیا میں رپورٹ ہونے والا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔

جنونی ہندو

مزید : صفحہ آخر


loading...