پٹرولبجلی، گیس مہنگی کر کے عوام کو ریلیف کیسے دیں گے؟

پٹرولبجلی، گیس مہنگی کر کے عوام کو ریلیف کیسے دیں گے؟

  



وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ کوئی شعبہ بھی ٹیکس دینے کو تیار نہیں،حکومت موجودہ حالات میں مراعات دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا مجبوری ہے اور کچھ عرصے کے لئے ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرنا ہو گا، نان فائلر صنعت کاروں کے گیس، بجلی کے کنکشن کاٹ دیں گے،معاشی استحکام کی جانب بڑھنے کے لئے مشکل فیصلے کر رہے ہیں،وفاقی محاصل میں سے57 فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے،آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کی کوشش کریں گے، آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے کم شرح سود پر دو سے تین ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے،انہوں نے کہا تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا تو معاشی حالات اچھے نہیں تھے،حکومت نے مالیاتی خسارہ کم کیا ہے، زرمبادلہ پر دباؤ کم ہوا، حکومت پر کرپشن کے الزام نہیں۔

عبدالحفیظ شیخ پیپلزپارٹی کی حکومت میں بھی وزیر تھے،اُس وقت وہ جو بیانات دیا کرتے تھے ان کے موجودہ بیانات بھی ویسے ہی ہیں، بس الفاظ کا ہیر پھیر ہے، غریبوں کی محبت اُن کو اُس وقت بھی ستایا کرتی تھی اور وہ اُن کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے،لیکن مسئلہ یہ تھا اُس وقت بھی پٹرول بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا اُن کی مجبوری تھی، اب بھی یہ مجبوری ان کے ساتھ ہے۔ اُس وقت بھی مالیاتی خسارہ انہیں درپیش تھا اُنہیں آئی ایم ایف کے پاس اُس وقت بھی جانا پڑا تھا اور اس کے مطالبات ماننے پڑے تھے۔ عبدالحفیظ شیخ کے لئے مشکل یہ ہے کہ حکومت پیپلزپارٹی کی ہو یا تحریک انصاف کی، اُنہیں معاشی حالات ہی مشکل ملے،اِس لئے وہ غریبوں کی بات تو کر سکتے ہیں اُنہیں کوئی ریلیف نہیں دے سکتے۔

شیخ صاحب ویسے تو جانتے ہی ہوں گے،لیکن انہیں یاد دِلانے میں کوئی حرج نہیں کہ فروری2008ء کے الیکشن میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت ڈپو پر بالترتیب53اور32روپے فی لٹر تھی، چھ ماہ کے اندر اندر (یعنی پیپلزپارٹی کی حکومت شروع ہونے کے بعد) جولائی میں یہ قیمتیں بڑھ کر بالترتیب 86 اور 56روپے ہو گئیں،کیونکہ اس وقت کی منتخب حکومت کے پاس بھی اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ وہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نہ صرف سارا بوجھ عوام پر منتقل کرے، بلکہ اس میں تھوڑا بہت مزید اضافہ بھی کر دے،کیونکہ تیل کی فروخت سے اُسے ٹیکسوں کی شکل میں بڑی معقول آمدنی ہو جاتی ہے اور اس پر ہینگ اور پھٹکری نہ لگنے کے باوجود رنگ چو کھا آ جاتا ہے، ایف بی آر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے تو بھی یہ ٹیکس خود کار طریقے سے جمع ہو جاتا ہے، حکومتیں براہِ راست ٹیکس وصول کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلتی ہیں، تب بھی ٹیکس ریونیو کا ہدف کبھی حاصل ہوتا ہے اور کبھی نہیں،جیساکہ رواں مالی سال میں بھی حاصل ہوتا نظر نہیں آتا،ٹیکس جمع کرنا کتنا مشکل ہے اس کا اظہار کھل کر چیئرمین ایف بی آر اور مشیر خزانہ کر رہے ہیں۔حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ”کوئی شعبہ بھی ٹیکس دینے کو تیار نہیں“ ایسے میں حکومت کو آسان راستہ یہی نظر آتا ہے کہ پٹرول اور اس کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھاتی چلی جائے اور لوگوں سے بالواسطہ ٹیکس وصولی کرتی چلی جائے۔صوبوں کو اگر 57فیصد محاصل جا رہے ہیں تو یہ ان کا آئینی حق ہے، اس پر خواہ مخواہ شوروغوغا کرنے کی ضرورت نہیں، وفاق جو ٹیکس وصول کرتا ہے وہ ٹیکس دینے والے بھی تو زیادہ تر صوبوں ہی میں رہ رہے ہیں۔ اس لئے صوبوں کو جو کچھ دیا جا رہا ہے اس پر ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے جس سے لگے کہ انہیں کوئی خیرات دی جارہی ہے۔

موجودہ حکومت بھی نہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کر رہی ہے،بلکہ اب تو ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور ہمارے ہاں بڑھ رہی ہیں، ہمارے حکمرانوں کے پاس جواز یہ ہے کہ روپیہ کی قدر کم ہو رہی ہے۔ ضرورت تو پھر یہ ہوئی کہ روپیہ مستحکم کیا جائے، کیا اس کے لئے کوئی اقدامات ہو رہے ہیں؟ ایسے میں طفل تسلیوں اور لاروں لپّوں کا تو کوئی جواز نہیں رہتا،لیکن حکمرانوں کا حوصلہ ہے کہ وہ بُری معیشت کی تصویر کھینچتے کھینچتے بھی یہ کہنا نہیں بھولتے کہ ”کچھ عرصے کے لئے ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا“ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ”کچھ عرصہ“ کتنے برسوں پر محیط ہو گا، حکومت اس وقت پٹرول کے ایک لیٹر پر جس سے ایک اچھی گاڑی دس کلو میٹر بھی نہیں چلتی26.72 روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے اور گِلہ پھر بھی یہ ہے کہ کوئی شعبہ ٹیکس دینے کو تیار نہیں، دنیا میں کتنے ملک ہوں گے جن میں ایک لٹر پر اتنا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، کون ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس نہیں دیتا،جن کے پاس گاڑیاں ہیں وہ تو مہنگا پٹرول خرید کر ٹیکس میں حصہ ڈالتے ہیں اور جو لوگ اپنی سواریاں نہیں رکھتے اور بسوں ویگنوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں وہ بھی مہنگے ڈیزل کی شکل میں بالواسطہ طور ٹیکس دیتے ہیں۔ اس طرح جی ایس ٹی بھی غریب امیر پر یکساں شرح سے نافذ ہے، ارب پتی اور غریب مزدور ایک ہی شرح سے ٹیکس دیتے ہیں پھر بھی گلہ ہے ٹیکس نہیں دیا جارہا۔

حکومت کسی بھی جماعت کی ہو،جمہوری ہو یا غیر جمہوری، پٹرول ایک ایسی آئٹم ہے کہ ہر حکومت اس کی قیمت بڑھاتی رہتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ دس سال کے عرصے میں پٹرول53روپے سے بڑھ کر اب 112روپے فی لیٹر سے بھی اوپر ہو گیا ہے،لیکن حکومتوں اور مخالف جماعتوں کا رویہ ایک جیسا ہے، جب آج کی مخالف جماعتیں حکمران تھیں تو وہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتی تھیں اور بعض اوقات زچ ہو کر یہ بھی کہہ دیا کرتی تھیں کہ حکومت مہنگا پٹرول اور مہنگی بجلی خرید کر سستے داموں فروخت نہیں کر سکتی، ویسے حکومت کو یہ کہا کس نے ہے کہ وہ یہ گھاٹے کا سودا کرے، اور کسی بھی حکومت نے آج تک ایسا نہیں کیا۔ ویسے یہ سوال تو بنتا ہے کہ عالمی منڈی میں تو تیل مہنگا نہیں ہوا اور روپے کی بے قدری کی وجہ سے یہاں قیمتیں بڑھ گئیں، لیکن جو25فیصد تیل پاکستان کے اندر پیدا ہوتا ہے کیا اس کا بھی عالمی منڈی یا ڈالر سے کوئی تعلق ہے وہ پاکستان کی اپنی پیداوار ہے اور اس پر پاکستان کے عوام کا حق ہے۔ اگر اس25فیصد تیل کو بھی سستے داموں مارکیٹ میں لایا جائے تو مجموعی طور پر تیل کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں،لیکن حکومت اگر تاجرانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرے گی تو پھر اس سے ایسے کسی اقدام کی توقع نہیں کی جا سکتی اور آئی ایم ایف کو تو کوئی ایسا اقدام ویسے ہی پسند نہیں، جس سے غریب عوام کی فلاح کا کوئی پہلو نکلتاہو، اِس لئے عبدالحفیظ شیخ اگر پیپلزپارٹی کی حکومت میں وزیر ہوں یا تحریک انصاف کی حکومت کے مشیر، وہ ہر حالت میں وہی کچھ کریں گے جو آئی ایم ایف چاہے گا، کیونکہ وہ ”عوام کی خاطر“ ہی آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ کیا پتہ کل وہ تحریک انصاف کی مخالف کسی دوسری جماعت کی حکومت میں مشیر کا عہدہ سنبھال کر پھریہ بھاشن دے رہے ہوں کہ عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکتے، اور آج کے حکمران اپنے موجودہ مشیر کے لتّے لے رہے ہوں۔ دراصل نئے بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے کا جو منصوبہ ہے مشیرانِ کرام کو معلوم ہے کہ اس سے مہنگائی کا ایک نیا سونامی آئے گا،جس سے وہ حکومت آسانی سے نہیں نپٹ سکتی، جس کے وزیروں اور غیر منتخب مشیروں میں ایک سرد جنگ جاری ہے جو لوگوں کو اس وقت سے نظر آ رہی ہے جب اس حکومت کے بال و پر نکل رہے تھے،لیکن اب حکومت کے اپنے وزیر اس سرد جنگ کا تذکرہ لے کر بیٹھ گئے ہیں،جس حکومت کے اپنے اندرونی تضادات اس قدرگہرے ہیں وہ کسی مخالف تحریک کا کس طرح مقابلہ کر سکتی ہے خصوصاً ایسے حالات میں جب حکومت کی اتحادی جماعتوں میں سے ایک، بی این پی(مینگل) کے سربراہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو حکومتی اتحاد سے نکل جائیں گے، ایسی صورت میں یہ حکومت قائم بھی رہے گی یا نہیں اس کا تو اختر مینگل کے فیصلے پر بہت کچھ انحصار ہے،لیکن کیا حکومت میں ”منتخب اور غیر منتخب“ کی سرد جنگ کا اونٹ جلد ہی کسی کروٹ بیٹھ سکتا ہے۔ لگتا ہے عید کے بعد مزید غیر منتخب لوگ منتخب لوگوں کے سینے پر مونگ دلنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...