کم سنی کی شادی اورعلمائے کرام

کم سنی کی شادی اورعلمائے کرام
کم سنی کی شادی اورعلمائے کرام

  



بلوغت کے ساتھ ہی جب انسان کے جسمانی تقاضے بیدا رہوتے ہیں تو یہ مسئلہ قانون، ریاست، معاشرے سے زیادہ انسانی حقوق سے مربوط ہو جاتا ہے جن کا کام رکاوٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ معاشرے کے مجموعی میلانات کے اندر نئے جوڑے کا درست ترین مقام متعین کرنا ہو تاہے۔ معمولی مقامی اختلافات کے ساتھ یہ مسئلہ دنیا بھر میں ایک ہی اصول سے منسلک ہے جس کا مذہب سے بہت کم تعلق ہے یہ بات بیان کی جا چکی ہے۔ یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ 50 امریکی ریاستوں میں سے سولہ وہ ہیں جن میں شادی کی کم از کم کوئی عمر مقرر نہیں ہے بلکہ اسے والدین، سماجی کارکنان، عدلیہ اور معاشرے کے عرف پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان خطوط پر آج یورپی دنیا کا مختصر جائزہ لینا پیش نظر ہے۔ ممکن ہے، قارئین کو اس میں قدرے اکتاہٹ ہو، تاہم اس کا مقصد بے جا طوالت کی بجائے مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا ہے۔ یوں یہ معلوم ہو سکے گا کہ دنیا بھر میں معمولی حیثیت کے اس غیراہم مسئلے کو پاکستان اور مسلم دنیا میں ایک ”انتہائی اہم“ مسئلہ بنانے کا سبب آخر ہے کیا؟ تمام یورپ میں شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے، سوائے اسکاٹ لینڈ کے، جہاں دونوں کے لیے 16 سال ہے۔ پھر بتا دوں کہ قانونی عمر وہ ہے جس تک پہنچنے پر فرد آزاد ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کر سکے، والدین، معاشرے یا ریاست کی رضامندی کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس قانونی عمر سے کم شادی کی عمر مختلف ممالک میں مختلف ہے البتہ عدالتی، والدین اور سماجی کارکن کی مرضی سے مشروط شادی ممکن ہے۔ 48 یورپی ممالک میں سے 24 ممالک میں عدالتی رضا مندی سے مشروط شادی کی کم از کم عمر 16 سال ہے۔ والدین کی رضامندی سے ایسے ممالک کی تعداد 6 ہے۔ اینڈورا میں عدالتی رضامندی سے مشروط شادی کی عمر 14 سال ہے۔ لیتھوانیا میں ایسے ہی 15 سال کی عمر میں شادی ممکن ہے۔ ترکی میں یہ عمر 17 سال ہے۔ لیکٹنسٹائن (Liechtenstein)، بلجیم، فن لینڈ، فرانس، یونان، آئس لینڈ، لکسمبرگ اور سلوونیا میں شادی کی کم از کم کوئی عمر نہیں ہے۔ ان ممالک میں کہیں والدین کی رضامندی کے ساتھ عدالتی منظوری کافی ہوتی ہے اور کہیں عدالتی منظوری ہی اصل ہوتی ہے، والدین کو محض سن لیا جاتا ہے۔ کہیں والدین کے ساتھ سماجی کارکن کا کردار بھی ہے۔ لیکن ان تمام وضاحتوں کے باوجود ان آٹھ ممالک میں شادی کی کم از کم عمر کی کوئی زیریں حد نہیں ہے۔

ادھر اپنے ملک میں بعض حلقوں کا ایک ہی واویلا رہتا ہے کہ کم از کم عمر 18 سال کی جائے۔ والدین، غربت،معاشرتی مسائل اور والدین کا کوئی خاص مسئلہ ان لوگوں کا مسئلہ ہی نہیں۔ بہت پہلے ایک دن میں گھومتے گھومتے اینٹوں کی بھٹی پر جا نکلا۔ مرد و زن، غربت کا بدنما اشتہار، اپنے کام میں جتے ہوئے تھے۔ دیکھا کہ بارہ پندرہ سالہ لڑکا لڑکی کام کے ساتھ اٹھکیلیاں بھی کر رہے ہیں۔ ایسے محسوس ہوا کہ ان کی لگاوٹ معاشرتی قدروں کو پامال کر رہی ہے۔ان کے دائیں بائیں کے بزرگوں سے استفسار کیا تو معلوم ہوا۔ جی ہاں، دونوں ننھے ننھے کومل بچے میاں بیوی ہیں۔ فقیہانہ جستجو کیوں کی طرف لے گئی، پتہ چلا پورا خاندان برادری اس بیگار پر لگا ہوا ہے۔ ان دونوں خالہ زادوں میں لگاوٹ جب معاشرتی اقدار سے باہر نکلنے کے قریب جا پہنچی تو بزرگوں نے فیصلہ کیا: ”جب ان دونوں نے ہرحال میں یہی کچھ کرنا ہے تو کیوں نہ ان کی شادی کر دی جائے، تو صاحب ہم نے ان کی شادی کر دی۔“ کچھ دیر تو میں سٹپٹاتا رہا۔ ہمت کر کے گفتگو کو ایک انٹرویو کی شکل دے ڈالی۔

”پولیس یا کسی اور نے آپ کو پکڑا نہیں؟“ جواب ملا: ”جی وہ! وہ جی ہم نے ان کی شادی دھوم دھام (یہی الفاظ تھے) سے کی تو ادھر ادھر سے بہت لوگ آئے۔ بڑے داروغہ تو نہیں آئے، پر تھانہ محرر خود تشریف لائے تھے۔ پھر صاحب جی! ہفتے بعد ایک ویگن میں فیشنی عورتیں اور چند مرد اچانک آ دھمکے پہلے ہماری تصویریں بنائیں۔ دولہا دلہن سے باتیں پوچھیں جب وہ اپنی مرضی کے سارے کام کر چکے تو ہمیں دھمکانے لگے کہ یہ غیرقانونی شادی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے اشارے سے ہمیں کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو۔ ہم بے سوچے سمجھے کام میں جُت گئے۔ رات کو چاچا تاج ولی کہنے لگے، او نیک بختو! سمجھا کرو، یہ شادی تو غیرقانونی ہو گزری، دوپہر کا مرغن کھانا ان سب نے ٹھیکہ دار کے ڈیرے پر مزے لے لے کر کھایا۔ جب وہ یہاں سے رخصت ہونے لگے تو میں ہاتھ جوڑے، دھوتی سنبھالتا ان کی ایک بڑی لیڈر کے آگے جا کھڑا ہو گیا۔ نخوت سے بولی: ہاں بابا جی، جلدی سے بولو ہمیں دیر ہو رہی ہے، کیا بات ہے؟ میں غریب اس سے کیا کہتا، ہاں یہ ضرور کہا میم جی! ہم ٹھیکہ دار کے زرخرید غلام ہیں۔ جب تک ہمارا قرضہ نہیں اترتا، ہم، ہمارے بچے، عورتیں، بوڑھے، بیمار سب ان کے غلام ہیں۔ میم جی ہم نے ریڈیو پر سنا کہ بچوں کی مشقت جرم ہے۔ میم جی، ہم نے سوچا شاید آپ نے ٹھیکہ دار سے اس بارے میں کچھ پوچھا ہو۔ آپ نے پولیس سے کوئی بات کی ہو تو ہمیں بتا دینا، وہ کیا جواب دیتی، منہ بنائے دفع ہو گئی۔ جاؤ تم سب لوگ اپنا اپنا کام کرو! یہ کہہ کر چاچا کروٹ بدل کر سو گیا۔“

تھوڑا حساب کیا تو اندازہ ہوا کہ صغرسنی کی شادی کی مخالف این جی او اور اس پر واویلا کرنے والے اداروں کو سال بھر کام سے روک کر ان کے مالی وسائل چائلڈ لیبر کے خاتمے پر لگائے جائیں، ان ”فیشنی عورتوں“ کے سیمینار بند کر کے وسائل اینٹوں کی صنعت میں غلامانہ زندگی بسر کرنے والوں کے قرض اتارنے میں لگا دیئے جائیں تو ہزاروں خاندان ٹھیکہ داروں سے نجات حاصل کر کے آزاد زندگی بسر کر سکتے ہیں۔تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ یورپ، امریکہ اور تمام مغربی دنیا جب صغر سنی کی شادی پر وہی نقطہئ نظر رکھتی ہے جو ہمارے روایتی علما کا ہے تو پاکستان میں اس کے خلاف واویلا کرنے والوں کا مقصد کیا ہے؟ یہ ”فیشنی عورتیں“ اور ان کے ساتھی چاہتے کیا ہیں؟ اس بات کو سمجھ لیا جائے تو کوئی الجھن باقی ہی نہیں رہتی۔ ان لوگوں کی تاریں ہلانے والوں نے اور غیرملکی کرنسیوں میں وسائل فراہم کرنے والوں نے فی الحقیقت ہمارے علما اور دینی طبقے کو ایسے کام میں لگا رکھا ہے جس کا سرا کبھی کسی کو نہیں ملے گا۔ کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ یہ کام عشروں سے ہو رہا ہے۔ صغرسنی کا مسئلہ اور علما کے دلائل، شرعی دلائل، ایک نسل، الجھن کا شکارنسل تیار ہو کر معاشرتی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہوتی ہے تو ان لوگوں کے سیمینار بابت صغر سنی اسی طرح چل رہے ہوتے ہیں جن کا ہدف اب اگلی نسل ہوتی ہے۔ ان کا جواب اور جواب الجواب علما کرام کی طرف سے اسی مواد پر مشتمل ہوتا ہے جو نصف صدی سے ہمارے دینی طبقے کا اثاثہ ہے۔ یوں الجھن کا شکار ایک اور نسل تیار ہو کر معاشرے میں اپنی جگہ بنا چکی ہوتی ہے اور مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔

قارئین کرام! جہاں تک میں سمجھا ہوں اور درست ہی سمجھا ہوں کہ اس تمام مشق کا مقصد یہ ہے کہ ایک عام شخص اور ایک نوعمر لڑکے لڑکی کے ذہن میں سیرت طیبہؐ کا جو عمومی نقش ہے اس پر خراشیں ڈال کر نبی اکرم ؐ کی ذات والاصفات کے بارے میں شکوک و شبہات کو عام کیا جائے۔ میری پیشگی معذرت قبول ہو، اس کام میں مال پیسہ بنانے والے تو کچھ کما رہے ہیں لیکن ہمارے علما نادانستگی میں وہی کچھ کر رہے ہیں جو اُن لوگوں کے غیرملکی آقائے ولی نعمت چاہتے ہیں۔ یہ لوگ عورت کی صحت، ہجوم آبادی، غربت اور پرورش اطفال جیسے رنگین لبادوں میں دلائل کا رُخ صغر سنی کی شادی کی طرف کرتے ہیں تو سامعین اور قارئین بڑی حد تک ان کے ہمنوا بن چکے ہوتے ہیں۔جواب میں علما کی طرف سے انہی جیسے عقلی دلائل نہیں آتے۔ علما اور دینی طبقے کی دلیل وہی ایک نکاتی ہے کہ اسوۃ حسنہ ہمارا چراغِ راہ ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن کچے ذہن، خام فکر اور جاہلیت جدیدہ کی تعلیم سے آراستہ ذہن اب تک ان سیمیناروں کا اسیر ہو چکا ہوتا ہے:

مسمریزم کے عمل میں دہر اب مشغول ہے

مشرق و مغرب میں اِک عامل ہے اک معمول ہے

مخصوص سکولوں میں تعلیم پانے والے یہ شاہیں بچے چند ہی سالوں میں زاغ و شپرک (کوے چیلیں) بن کر شام کوKFC اور میکڈونلڈ نوچ رہے ہوتے ہیں۔ چند سالوں میں یہ کوے ہنس کی چال چلتے چلتے جب کالج یونیورسٹی پہنچتے ہیں تو آراستہ و پیراستہ ہالوں، ریستورانوں اور ہوٹلوں میں نئے شکاری سیمیناروں کے پھول گجرے لیے ان کا استقبال کر رہے ہوتے ہیں ان کے ذہن میں وہ کچھ انڈیلتے ہیں کہ:

جسم و جاں کیسے کہ عقلوں میں تغیر ہو چلا

تھا جو مکروہ اب پسندیدہ ہے اور مقبول ہے

دین اور سیرت طیبہ پر اس مخلوق کا علم بمنزلہ صفر ہوتا ہے۔ ایسے عالم میں ایک طرف سے اس کچے ذہن پر عورت کی صحت، غربت، ہجوم آبادی، پرورش اطفال، بے روزگاری کے دلائل کی گولہ باری ہو رہی ہو اور دوسری طرف سے، اللہ معاف کرے، نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر، رخصتی کس عمر میں ہوئی۔ جی ایک روایت میں …… جی ایک اور روایت میں جس کی سند متصل ہے …… اور ساتھ رسولؐ اللہ کی عمر، پھر دونوں کی عمروں کا موازنہ۔ محترم علمائے کرام! یہ دلائل اسی ذہن میں قرار پکڑ سکتے ہیں جو ان مصطلحات، اس محاورے، اس روزمرہ سے آشنا ہو بلکہ ان کا رمز آشنا ہو۔ آپ کو پھر یاد دلائے دیتا ہوں کہ حضرت موسیٰ ؑنے سحر کا مقابلہ برتر معجزے سے کیا تھا۔ سانپ سنپولیوں کے مقابلہ میں ایک بڑا اژدھا۔ کم سنی کی شادی کے مخالف ذہن کو تو عہدِ حاضر کی اس کی اپنی زبان میں جواب دیا جانا چاہیے۔ جسمانی اعتبار سے دو عاقل بالغ افراد کو مغربی دنیا اتنی آزادی دیتی ہے کہ اسکولوں میں لڑکے لڑکیاں کچھ بھی کریں، استاد مداخلت کرے تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی! ارے بھئی ہم بھی تو یہی کچھ کہتے ہیں بلکہ ہمارا کہا ہوا زیادہ وزن رکھتا ہے۔ تمہارے ہاں لڑکا اپنا کام کرنے کے بعد مطلقاً آزاد، اس کے آثار و باقیات سمیٹے تو لڑکی اور اس کے والدین کیوں؟ ہم کہتے ہیں اس حیوانی تعلق کو انسانی عہدو پیمان میں ڈبو کر لڑکے کو ذمہ دار بناؤ، اس کا طریقہ نکاح ہے، بولو جواب دو عورت کوہم حقوق د ے ر ہے ہیں یاتم؟۔ کیا فرمایا، کم سن بچی کی شادی معمرمردسے؟ ارے امریکہ یورپ میں ہر سال ایسی ہزاروں شادیاں ہوتی ہیں اور انسانی حقوق کے نام پر ہوتی ہیں۔ محترم علمائے کرام میری عاجزانہ رائے میں اس انسانی مسئلے کے لیے وہی دلائل دیں جو مخالفین کی اپنی دنیا کے ہیں۔ سیرت طیبہ میں سے دلائل کی دنیا الگ ہے جو کچے ذہنوں میں جگہ نہیں پکڑ سکتے۔ امید ہے علمائے کرام ان معروضات پر غورکریں گے ورنہ محرم راز خالق کائنات کی شخصیت پر آپ مزید ڈینٹ ڈالنے کا موجب بنیں گے۔ محرم راز خالق کائناتؐ کا دفاع اس طریقے سے تو نہیں ہو سکتا۔

مزید : رائے /کالم


loading...