پی ٹی آئی میں سرد جنگ

پی ٹی آئی میں سرد جنگ
پی ٹی آئی میں سرد جنگ

  



فواد چودھری سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر ہیں۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے کے بعد فی الحال پڑاؤ پی ٹی آئی کے گھاٹ میں ہے۔ آئندہ کہاں ہو گا، یہ وہ خود بھی نہیں جانتے،چونکہ ان کا خاندان تقریباً سو سال سے سیاست میں ہے جب خان بہادر چودھری فیروزالدین 1921ء میں ڈسٹرکٹ بورڈ جہلم کے سینئر وائس چیئرمین (اس دور کا بڑا سیاسی عہدہ کیونکہ چیئرمین انگریز ڈپٹی کمشنر ہوتا تھا)منتخب ہوئے۔ ایک صدی کے خاندانی سیاسی تجربہ کی وجہ سے دوسروں کی نسبت سیاسی مرغِ باد نما ان سے بہتر شائد ہی کوئی اور ہو۔ ان کے تایا چودھری الطاف حسین گورنر پنجاب تھے اور چچا افتخار چودھری لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس۔ ان سے پہلے ان کے داداچودھری اویس اور خاندان کے کئی اور لوگ پنجاب کی سیاست میں نمایاں رہے ہیں۔ اس خاندان کی سیاست سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن انتہائی سادہ الفاط میں برجستگی سے بات کہہ جانے کی ان کی خداداد صلاحیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

پی ٹی آئی کے اندر منتخب اور غیر منتخب لوگوں کے درمیان جو سرد جنگ جاری ہے اس کی وجہ سے فواد چودھری پھٹ پڑے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دِنوں وفاقی کابینہ میں کی گئی تبدیلیاں غیر منتخب لوگوں کا شاخسانہ ہے۔پاکستان کی سیاست پر نظر رکھنے والے کافی دِنوں سے کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم عمران خان کو غیر منتخب لوگوں نے اپنے نرغہ میں گھیر رکھا ہے،جوکسی بھی طور ان کی حکومت کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اب اس بات کی تصدیق فواد چودھری نے کر دی ہے۔ کابینہ میں تبدیلی سے پہلے وہ اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر تھے، لیکن سب لوگ دیکھ رہے تھے کہ غیر منتخب مشیروں یوسف بیگ مرزا، طاہر اے خان، افتخار درانی اور نعیم الحق وغیرہ نے وزیر اعظم کو گھیر رکھا ہے، جو انہیں روزانہ بریفنگ بھی دیتے ہیں اور اپنی مرضی کے فیصلے کرواتے ہیں۔ اس ماحول میں فواد چودھری کھڈے لائن لگے ہوئے تھے۔اس وقت کے پی ٹی وی کے ایم ڈی ارشد خان بھی اُن کی بات نہیں مانتے تھے۔ہمیں یاد ہے کہ حکومت کے سو دن پورے ہونے پر ’ہم مصروف تھے‘ کے نام سے ایک پورے صفحہ کا اشہار اخباروں میں چھپا۔ فواد چودھری نے وفاقی وزیرکی حیثیت میں اس مضحکہ خیز اشتہار کی مخالفت کی، لیکن ان کی ایک نہ چلی کیونکہ مشیروں کی فوج کے اس اشتہار سے مالی مفادات تھے۔

اسی طرح اور واقعات بھی پیش آتے رہے جہاں وزیراعظم کو گھیرے میں لئے ان کے مشیر ان کرام اپنے فیصلے کرواتے رہے اور فواد چودھری عضو معطل ہی بنے رہے۔ پی ٹی وی کے ایم ڈی کے معاملہ پر ہونے والی جنگ میں فواد چودھری اور نعیم الحق کھل کر آمنے سامنے آ گئے، لیکن فتح غیر منتخب لوگوں کی ہوئی اور بے چارہ منتخب وزیر ادھر ادھر کے بیانات دے کر ہی کام چلاتا رہا۔ پچھلے دِنوں چیئرمین نیب کی مبینہ طور پر ایک ویڈیو لیک ہوئی تھی جس کے بعد ملک میں ایک طوفان برپا ہوا۔ یہ ویڈیو بھی وزیراعظم کے مشیران کرام میں سے ایک طاہر اے خان کے چینل نے چلائی تھی۔ بظاہر اس لیک کا مقصد الزام اپوزیشن پر لگا کر اسے بدنام کرنا تھا، لیکن سٹنٹ بیک فائر کر گیا۔زیادہ بدنامی حکومت اور چیئرمین نیب ہی کی ہوئی۔ اب تک یہ معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا،بلکہ وڈیو میں موجود خاتون مزیدباتیں سامنے لانا چاہتی ہے۔ فواد چودھری غلط نہیں کہتے کہ ایک وقت میں اگر پانچ لوگ وزارت چلائیں گے تو یہی ہو گا۔ منتخب فواد چودھری کی جگہ الیکشن ہار جانے والی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو مشیر اطلاعات لگا دیا گیا ہے،جبکہ بہت سے غیر منتخب لوگ پہلے ہی وزارت اطلاعات میں اپنا اپنا لچ تل رہے تھے۔ صرف وزیر اطلاعات ہی نہیں،بلکہ منتخب وزیر خزانہ اسد عمر کی جگہ غیرمنتخب ڈاکٹر حفیظ شیخ کو مشیرخزانہ اور منتخب وزیر صحت عامر محمود کیانی کی جگہ غیر منتخب ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا کو مشیر صحت لگایا گیا۔ منتخب وزرا کو کھڈے لائن لگا کر جس طرح غیر منتخب لوگوں کو کابینہ میں گھسایا گیا ہے اس سے فواد چودھری کی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ وزارتیں غیر منتخب لوگوں نے تبدیل کرائیں۔

پی ٹی آئی میں منتخب اور غیر منتخب لوگوں کے درمیان جاری سرد جنگ اب باقاعدہ محاذ آرائی میں بدلتی جا رہی ہے۔ فواد چودھری کا کہنا ہے کہ فیصلے منتخب لوگوں کو کرنے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال پوچھا کہ کیا پارٹی ایسے لوگوں کے حوالہ کر دیں جو کونسلر بھی نہیں بن سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اہم فیصلے ہو جاتے ہیں، لیکن پارلیمینٹ میں موجود منتخب ممبرز اور وزراء کو پتہ بھی نہیں چلتا، سب کچھ وزیراعظم کے گرد گھیرا ڈالے غیر منتخب لوگ چلا رہے ہیں، چونکہ پی ٹی آئی کے اندر جاری یہ جنگ اب اوپن ہو چکی ہے، اِس لئے فواد چودھری کا ترکی بہ ترکی جواب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور زلفی بخاری وغیرہ نے دیا۔وفاقی کابینہ میں موجود یہ دونوں لوگ غیر منتخب ہیں۔ مشیر اطلاعات صاحبہ اپنا الیکشن ہار گئی تھیں،جبکہ برطانوی شہری زلفی بخاری پیرا شوٹ جمپ سے نازل ہوئے اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی کمال مہربانی سے کابینہ میں اپنا مشیر کا عہدہ بچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انہیں نہ صرف سمندر پارپاکستانیوں کی اہم وزارت دی گئی ہے،بلکہ سیاحت کے لئے قائم کئے گئے نئے سرکاری ادارے کا سربراہ بھی لگا دیا گیا ہے۔

پہلے سے قائم سرکاری ادارے پی ٹی ڈی سی کے دو سو ارب سے زائد کے اثاثوں کی بندربانٹ کا منصوبہ تیار ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے دس مہینوں میں جن وزارتوں کی کارکردگی صفر ہے ان میں زلفی بخاری کی وزارت بھی نمایاں ہے۔ فواد چودھری برسے تو غیر منتخب فردوس عاشق اعوان اور زلفی بخاری نے جوابی سنگ باری کی۔ فردوس عاشق اعوان نے فواد چودھری کی عقل کو چھوٹی کہا تو زلفی بخاری نے ان کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر بنائے جانے پر پھبتی کسی کہ وہ تو آج کل لیبارٹری بنانے میں مصروف ہیں اس لئے انہیں معاملات کا علم نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت اطلاعات چونکہ صحیح کام نہیں کر رہی تھی،اِس لئے انہیں تبدیل کیا۔ کوئی زلفی بخاری سے پوچھے کہ اگر وزارت صحیح کام نہیں کر رہی تھی تو اس کی ذمہ دار تو مشیران کی فوج تھی، کیونکہ فواد چودھری تو وفاقی وزیر اطلاعات ہوتے ہوئے بھی کھڈے لائن لگے ہوئے تھے اور انہیں صرف مخالفین کے خلاف الٹے سیدھے بیانات دینے کی ڈیوٹی دی گئی تھی، بالکل ایسے ہی جیسے پنجاب میں یہ ڈیوٹی فیاض الحسن چوہان کی تھی۔

پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ منتخب اراکین پارلیمینٹ کو ہی وفاقی کابینہ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کے اراکین شامل ہیں، لیکن سینیٹ سے لئے گئے کابینہ ممبران کی تعداد ایک چوتھائی سے تجاوز نہیں ہو سکتی۔ان کے علاوہ وزیراعظم پانچ غیر منتخب مشیر رکھ سکتے ہیں تاکہ اپنے شعبہ میں ماہر ٹیکنوکریٹس کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔ بس پانچ مشیر، اس سے زیادہ نہیں۔البتہ بہت عرصہ سے ایک سیاسی بدعت ’معاون خصوصی‘ کے نام پر جاری ہے،جس کے بارے میں آئین خاموش ہے۔ پچھلی حکومتوں نے بھی معاونین خصوصی رکھے اور موجودہ حکومت نے بھی معاونین خصوصی کی ایک فوج بھرتی کر رکھی ہے، جن میں سے اکثر کے پاس وزیر مملکت کے مساوی عہدے کا نوٹیفکیشن بھی ہے۔

سی بدعت کی آڑ میں موقع پرستوں کی ایک بڑی تعداد مسلسل وزیراعظم کو گھیرے رکھتی اور اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کرتی رہتی ہے۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان ایسے ہی معاونین خصوصی کے نرغہ میں ہیں جو اپنے اپنے ذاتی کاروبار کے لئے حکومت کو موم کی ناک بنا چکے ہیں، جس کا نتیجہ حکومت کی ناکامی اور بدنامی کی صورت میں نکل رہا ہے۔عمران خان کی حکومت اگر بدنام ہو کر گر جاتی ہے تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے، کیونکہ یہ بھیڑ انہوں نے خود اکٹھی کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی ٹاسک فورسوں کے ممبران ہیں، جن کی تعداد سینکڑوں میں جا پہنچی ہے، جو حکومت چلانے میں تو کوئی مدد نہیں دے رہے، لیکن ان سب کی اپنی اپنی دکانیں خوب چل رہی ہیں۔

موجودہ پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ میں 48ممبران ہیں، جن میں سے 29 منتخب اور 19 غیر منتخب ہیں۔عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں،جن کی کابینہ میں غیر منتخب اراکین کی تعداد 40فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح کرکٹ میں بہت سے ریکارڈ بنانے والے عمران خان وزیراعظم بن کر بھی نئے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔ بقول فواد چودھری کے یہ غیر منتخب ممبران کونسلر بننے کے اہل بھی نہیں ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ ان غیر منتخب اراکین میں سے کئی کے اپنے اپنے ذاتی کاروبار بھی ہیں جیسے مشیر پٹرولیم ندیم بابر انرجی سیکٹر میں پاکستان کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈروں اور ڈیفالٹروں میں شامل ہیں۔ اسی طرح رزاق داؤد ہیں،جب مشرف دور میں وزیر تھے تو منگلا توسیعی پراجیکٹ حاصل کیا تھا اور اب عمران خان کے دور میں مہمند ڈیم کے کئی سو ارب کا پراجیکٹ۔مَیں نے نمونے کے طور پر ابھی دو مشیروں کا ذکر کیا ہے ورنہ صورتِ حال تو یہ ہے کہ بہت سے مشیروں کے اپنے اپنے مالی مفادات ان کی مشاورت سے جڑے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کو حکومت سنبھالے ہوئے دس مہینے بھی نہیں گذرے ہیں،لیکن یہ ہر لحاظ سے دلدل میں دھنس رہی ہے۔

اقتصادی، انتظامی، سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے روزانہ کی بنیاد پر نئے معاملات سامنے آ رہے ہیں۔ وزیر مملکت زرتاج گل کی بہن شبنم گل کی نیکٹا میں بطور ڈائرکٹر تعیناتی ہو یا جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا ریفرنس، پی ٹی ایم کے معاملات ہوں یا پاکستان کی معیشت کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں میں گروی رکھنے کا قضیہ، ہر معاملہ ہی مکمل کالموں کا متقاضی ہے۔ ان کا ذکر ہوتا رہے گا لیکن فی الحال اتنا کہنا کافی ہو گا کہ عمران خان کی حکومت میں پورس کے ہاتھیوں کی بہتات ہو چکی ہے، دیکھتے ہیں کب یہ ہاتھی اپنی ہی حکومت کو روندتے ہوئے اپنے اپنے پرانے ٹھکانوں پر واپس جاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...