وفاقی وزیر کی بہن تحقیقی مواد کی چوری میں ملوث رہیں

وفاقی وزیر کی بہن تحقیقی مواد کی چوری میں ملوث رہیں
وفاقی وزیر کی بہن تحقیقی مواد کی چوری میں ملوث رہیں

  



جی تو چاہ رہا ہے کہ کپتان سے کہوں خدارا اپنے اردگرد موجود چاپلوسوں اور خوشامدیوں سے بچیں اور آستین کے ان سانپوں سے ہوشیار رہیں جو اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور ساکھ کپتان کی خراب ہو رہی ہے۔وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نجانے تبدیلی کا مطلب کیا سمجھتی ہیں، انہیں اپنے کپتان کی میرٹ پالیسی اور شفاف گورننس کے دعوؤں کی اس طرح نفی نہیں کرنی چاہئے تھی،جیسے انہوں نے اپنی بہن کو نیکٹا کی ڈائریکٹر بنوا کے کی،اور پہلے سے مشکلات میں گھری حکومت کے لئے جگ ہنسائی کا ایک اور سامان پیدا کر دیا۔ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو جھوٹ اور بولنے پڑتے ہیں،شبنم گل کی تقرری خالصتاً سفارش کی بنیاد پر ہوئی ہے جسے میرٹ کا نام دیا جا رہا ہے۔ نیکٹا کے ترجمان نے اس جھوٹ بولنے میں اپنا حصہ ڈالا ہے،جو شرم کا مقام ہے، کیونکہ وزیر صاحبہ کا وہ خط بھی سامنے آ گیا ہے جو انہوں نے نیکٹا کے چیئرمین کو لکھا اور اپنی فون کال کا حوالہ بھی دیا،ساتھ ہی اس لیٹر میں بھی لکھا ہے کہ شنم گل کی سی وی بھجوائی جا رہی ہے،اب کون بے وقوف ہے،جو یہ مانے کہ تقرری میرٹ پر ہوئی ہے۔پھر اُس لیٹر پر سیکرٹری نیکٹا سمیت کئی لوگوں کے دستخط موجود ہیں، گویا اُس پر کارروائی ہوتی رہی ہے۔ درخواست تو ایک اور چیز ہوتی ہے۔اُس میں باقاعدہ امیدوار پوسٹ کا ذکر کرتا ہے اور یہ حوالہ بھی دیتا ہے کہ اُسے اس اسامی کا کہاں سے پتہ چلا۔ یہ زرتاج گل کس خوشی میں اپنی فون کال کا حوالہ دے کر بہن کی سی وی بھجوا سکتی تھیں۔ پھر نیکٹا کی طرف سے ایسا کوئی ریکارڈ میڈیا کو فراہم نہیں کیا گیا، جس میں بتایا گیا ہو کہ ان اسامیوں کے لئے اشتہار کہاں شائع ہوا،شرائط کیا تھیں، آخری تاریخ کیا رکھی گئی تھی۔ ایک حساس ادارے میں ایسی سفارشی بھرتیاں غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہیں، پھر جس طرح شبنم گل کی سلیکشن کو درست ثابت کرنے کے لئے نیکٹا کے ترجمان نے اُن کی قابلیت گنوائی ہے،اس پر ہنسی آتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ انہوں نے دہشت گردی کے موضوع پر مضامین لکھے، بھلا اس بنیاد پر انتخاب ہو سکتا ہے۔ اُن کی تحقیقی صلاحیتوں کا بھی بڑا ذکر کیا گیا ہے، مَیں آگے چل کر بتاتا ہوں کہ محترمہ تحقیقی مواد کی چوری پر کیسے نااہل قرار دی گئیں۔

اقربا پروری اور سفارش کے خلاف عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں کیا کچھ نہیں کہا۔ ریاست ِ مدینہ میں ان کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں، لیکن جنہیں حکومت میں آنے کا موقع مل گیا ہے وہ کپتان کے دعوؤں اور اصولوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، میرے سامنے13فروری2007ء کو ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ موجود ہے، جس کی سرخی ہے، ”پنجاب یونیورسٹی نے دو ریسرچ سکالرز کو نااہل قرار دے دیا“۔ اس رپورٹ کے مطابق پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کو آزاد کشمیر کے ویلفیئر محکمے میں تعینات ایک ویلفیئر آفیسر سعید اسد نے شکایت کی کہ یونیورسٹی کے شعبہ کشمیریات کی دو ریسرچ سکالرز نے اس کے ایم اے تھیسز بعنوان ”کے ایچ خورشید، حیات و خدمات“ اور ریسرچ پیپر ”کشمیر کی سیاسی جماعتیں“ سے ہو بہو مواد چرا کر ایک کتاب ”تاریخ کشمیر آغاز سے حال تک“ شائع کی ہے،جس کے پبلشر کا نام فاروق سنز لاہور ہے۔ سعید اسد نے اپنی شکایت میں جن دو سکالرز کا ذکر کیا تھا، ان میں شبنم گل اور عندلیب صابرہ شامل تھیں۔یہ درخواست تحقیق کے لئے انتظامیہ نے اورینٹل لزننگ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم کو بھجوائی،انہوں نے اس شکایت کا تفصیل سے جائزہ لیا اور سعید اسد کے مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے سخت ایکشن کی سفارش کی، ان کی رپورٹ پر پنجاب یونیورسٹی نے شبنم گل اور عندلیب صابرہ کو آئندہ پنجاب یونیورسٹی میں کسی بھی تدریسی جاب کے لئے نا اہل قرار دے دیا اور ساتھ ہی شبنم گل کی بطور سٹوڈنٹ ایم فل رجسٹریشن بھی منسوخ کر دی۔ اب یہ ہے وہ تحقیقی قابلیت جس کا نیکٹا والے بھی اپنے کرتوتوں پر مٹی ڈالنے کے لئے ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، اتنے حساس اور اہم ادارے میں تعیناتی کے لئے کئی انٹیلی جنس رپورٹیں تیار کی جاتی ہیں۔امیدوار کے ماضی کو اچھی طرح کھنگالا جاتا ہے، اس کے کردار اور وقار کی باریکیاں تک دیکھی جاتی ہیں، مگر یہاں تو صرف ایک لیٹر نظر آتا ہے، جو وزیر موصوف نے اپنی بہن کے لئے لکھا اور اس کے بعد سارے مراحل سرعت میں طے ہوتے چلے گئے۔

زر تاج گل سوشل میڈیا پر اپنی بہن کی نیکٹا میں تقرری کا بھرپور دفاع کر رہی ہیں، اسے میرٹ پر قرار دینے کی سرتوڑ کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، مگر سارا بھانڈہ اس لیٹر نے پھوڑ دیا ہے جو انہوں نے اپنے پیڈ پر لکھ کر بھیجا جس میں ان کی ٹیلی فون کال کا حوالہ بھی موجود ہے۔ کیا یہی میرٹ ہوتاہے، ہر امیدوار کا کہ اس کا کوئی وزیر یا مشیر بہن یا بھائی اپنا لیٹر لکھ کر تقرری کی سفارش کرے اور اس سے پہلے فون بھی کر دے تاکہ کام پکا ہو جائے۔ زرتاج گل کو یہ سوچنا چاہئے کہ کیا انہیں میرٹ پر وزارت ملی ہے۔ پھر اگر کسی معلوم یا نامعلوم وجہ کی بنا پر یہ حادثہ ہو ہی گیا ہے تو وہ اپنی ایک نا اہل بہن کو حساس ادارے میں کھپانا چاہتی ہیں، جس کا نہ کوئی اِس حوالے سے تجربہ ہے اور نہ ہی متعلقہ شعبے کی تعلیم ہے۔ تحقیقی مواد چوری میں وہ ملوث رہی ہے، جس سے قابلیت کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے تاہم یہاں ایک سوال سرکاری اداروں میں بیٹھے ہوئے افسران سے بھی کرنے کو جی چاہتا ہے۔کیا وہ مٹی کے مادھو ہیں یا انہیں اپنی نوکری اس قدرپیاری ہے کہ خلاف ضابطہ کام کرتے ہوئے بھی انہیں کوئی حیا نہیں آتی۔جب وفاقی وزیر کی سفارشی چٹھی آ گئی تھی تو سب سے پہلا کام تو ہونا ہی یہ چاہئے تھا کہ شبنم گل کو نااہل قرار دے دیا جاتا کہ اُس نے سیاسی دباؤ ڈلوانے کی کوشش کی،ساتھ ہی وفاقی وزیر زرتاج گل کو بھی ایک جوابی چٹھی جانی چاہئے تھی کہ انہوں نے نیکٹا جیسے حساس ادارے کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کی، آئندہ ایسی حرکت سے باز رہیں، مگر کہاں صاحب یہاں تو سارا دھندہ ہی سفارش اور رشوت پر چل رہاہے، میرٹ تو ایک ڈھکوسلا ہے جسے غریبوں کو طفل تسلی دینے کے لئے استعمال کیا جاتاہے۔ ہاں ایسے اداروں میں کچھ ایسے سرپھرے ضرور ہوتے ہیں، جو حقائق کو سامنے لے آتے ہیں،جیسے زرتاج گل کی سفارشی چٹھی منظر عام پر آ گئی اور میرٹ کی ساری داستان کے بخیے اُدھیڑ کر رکھ دیئے۔

ہمیشہ کپتان کے بارے میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انہوں نے اپنے کسی وزیر کو خلافِ میرٹ بھرتی نہیں کیا،ہاں یہ بات تو سچ ہے،لیکن انہیں اپنے اردگرد والوں پر بھی تو نظر رکھنی ہے۔ابھی کچھ روز پہلے ان کے معتمد ِ خاص نعیم الحق نے اپنے بھتیجے کو تیز رفتار ترقی دے کر ڈپٹی ڈائریکٹر تک پہنچا دیا۔ اب زرتاج گل نے اپنی بہن کو جو اٹھارویں گریڈ کی ٹیچر ہے،19ویں گریڈ کا ڈائریکٹر نیکٹا بنوا دیا ہے، کیا عمران خان اس پر آنکھیں بند کر سکتے ہیں،کیا یہ سب اُن کے دعوؤں کی نفی نہیں،کیا وہ اپنے قریبی لوگوں کی وجہ سے مصلحت کا شکار ہو جائیں گے۔ پچھلے دورِ حکومت میں بھی تو شہباز شریف یہی کرتے تھے کسی جونیئر افسر کو سینئر پوسٹ پر تعینات کر دیتے،اُس وقت احد چیمہ کے بارے میں کپتان بہت کچھ کہتے تھے، اب جو بندر بانٹ ہو رہی ہے اُس کے آگے بند کون باندھے گا۔ میرا خیال ہے اور مطالبہ بھی کہ وزیراعظم عمران خان کو وفاقی وزیر کی بہن کے اس کیس پر انکوائری کا حکم دینا چاہئے اور اس میں اگر سفارش و اقربا پروری روا رکھی گئی ہے تو زرتاج گل سمیت اُن تمام افسروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے،جنہوں نے اس سارے عمل میں کوئی کردارادا کیا۔یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے،جو اس امر کا فیصلہ کر سکتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان واقعتا میرٹ کے حامی ہیں یا اس دعوے پر بھی یوٹرن لے چکے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...