منٹ میں مطاف کے صحن کی مکمل صفائی،اعلیٰ کارکردگی کانیایکارڈ قائم 

    منٹ میں مطاف کے صحن کی مکمل صفائی،اعلیٰ کارکردگی کانیایکارڈ قائم 

  



مکہ مکرمہ(این این آئی)مسجد حرام اور مسجد نبوی کے انتظامی امور سے متعلق جنرل پریذیڈنسی کے محکمہ صفائی اور قالین نے اعلیٰ کارکردگی کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، جس میں 27 رمضان المبارک کی شب تقریباً بیس لاکھ عبادت گذاروں کی موجودگی میں صرف نو منٹ میں مطاف کا صحن مکمل طور پر صاف کیا۔ ستاویں شب مکہ المکرمہ درمیانی بارش ہوئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق محکمہ صفائی اور قالین کے فیلڈ سیکرٹری فھد شراز المالکی نے پریذیڈنسی کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹ میں بتایا کہ ان کے زیر کمان شعبہ صفائی کے عملے نے لاکھوں عبادت گذاروں کی موجودگی میں مطاف کے صحن کو صرف اور صرف منٹ کی قلیل مدت میں شیشے کی طرح چمکا دیا۔ اس موقع پر صحن میں ہلکی بارش کا سلسلہ اور عبادت گذاروں کا جم غفیر حرم کے مطاف اور ملحقہ علاقوں میں موجود رہا۔ پہلے مرحلے میں مطاف کے فرش پر موجود بارش کا پانی خشک کیا گیا تاکہ مغرب کی نماز ادا کی جا سکے۔ بعد میں 200 افراد پر مشتمل صفائی کے عملے نے 22 نگرانوں اور 16 صفائی مشینوں کے ذریعے فرش کی دھلائی کی جس کے بعد مطاف کو 80 لیٹرعود اور مشک گلاب سے دھونی دے کر معطر کیا گیا۔شزار المالکی نے بتایا کہ محکمہ صفائی اور قالین نے رمضان المبارک کے آغاز سے اب تک مسجد حرام کے اندر سے 5000 ٹن کوڑا اٹھایا۔ اس کارروائی کو انجام دینے کے لئے صفائی کے لئے مخصوص 4000 متفرق آلات استعمال کئے گئے اور اتنی ہی بڑی تعداد میں کارکنوں نے حصہ لیا۔ مسجد حرام کے اندر 21000 قالین بچھائے گئے ہیں۔پوری مسجد حرام کی صفائی کا کام 40 منٹ میں مکمل کر لیا جاتا ہے۔ اس کارروائی میں مسجد کا اندرونی حصہ صاف کرنے کے لئے 5600 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔ صفائی کے اس کام میں 130 سعودی شہری صفائی کی مشینوں پر خدمات سرانجام دیتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مطاف کے صحن کی صفائی کا کام 30 میں مکمل کر لیا جاتا ہے، آج ہم نے خود اپنے ہی لئے ایک چیلنج کھڑا کر لیا کہ عین 27 ویں شب لاکھوں افراد کی موجودگی میں صحن مطاف صاف کیا جائے، ہمیں بارش کی توقع نہ تھی لیکن اللہ کی رحمت ہو گئی جس سے ہمارے حوصلوں کو مہمیز ملی کہ ہم نے اللہ کے گھر کی بہترین صفائی ریکارڈ وقت میں مکمل کرنا ہے۔ حرمین شریفین سیکرٹریٹ کے سربراہ عبدالرحمان السدیس صفائی کے اس عمل کی براہ راست خود سے نگرانی کرتے رہے۔

صفائی

مزید : صفحہ آخر