وجدان اور عسکری کمانڈ کا تعلق (3)

وجدان اور عسکری کمانڈ کا تعلق (3)
وجدان اور عسکری کمانڈ کا تعلق (3)

  



 فیلڈ مارشل ولیم سلم مشہور برطانوی عسکری ہیرو تھا جس نے برما میں جاپانیوں کو شکست دی۔ اس نے اپنی مشہور کتاب شکست سے فتح تک (Defeat Into Victory)کے اختتامی پیرا گراف میں اس موضوع پر جو اظہار خیال کیا ہے وہ نہایت سبق آموز ہے۔ وہ لکھتا ہے:

”ان صفحات میں میں نے جرنیلوں اور ان کے سٹاف افسروں کا بہت ذکر کیا ہے۔ ان کے مسائل، ان کی مشکلات، ان کے حل، ان کی فتوحات اور ان کی ناکامیاں …… لیکن ایسا خیال کہ جو میں سمجھتا ہوں کہ اس تمام کتاب کا نچوڑ تصور کیا جائے وہ یہ ہے کہ برما کی جنگ ایک سپاہی کی جنگ تھی۔ ہر لڑائی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے کہ جب خون آشام دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے لڑائی کا نتیجہ درمیان میں لٹک رہا ہوتا ہے۔ اگر ایسا لمحہ آئے تو جرنیل خواہ کتنا ہی پُربصیرت اور مشّاق کیوں نہ ہو اس کا فرض ہے کہ وہ لڑائی کو اپنے سپاہیوں کے ہاتھوں میں سونپ دے اور ان جوانوں اور رجمنٹل افسروں کو دے ڈالے جو اسے اختتام تک پہنچا دیں۔ تب یہ ان کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ تب ان کی جرات، ان کی پامردی، ان کا فطری یا دوسری انسانی مشکلات اور کٹھنائیوں پر غالب آنا اور دشمن کو مات دینا ان کا کام ہے۔ اس قسم کا لمحہ برما کی جنگ میں اول اول ہی آ گیا تھا اور پھر کئی بار آیا۔ بعض اوقات اس وقت آیا کہ جب تھکے ماندے اور بیمار سپاہیوں نے اپنے آپ کو تنہا محسوس کیا اور جب ہمت ہار دینا ان کے لئے بہت آسان سی بات تھی اور جب صرف عزم، قوتِ ارادی، یقین ِ محکم اور نظم و ضبط نے ان کو کاروبارِ جنگ جاری رکھنے پر اکسائے رکھا۔ یہ چودھویں آرمی کے مختلف نسلوں اور قوموں کے وہ لوگ تھے جو آگے بڑھتے رہے اور وہ ہوا باز تھے جنہوں نے ان  آرمی سولجرز کے شانہ بشانہ یہ جنگ لڑی…… دراصل اس فتح کا سہرا، انہی لوگوں کے سر ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے شکست کو فتح میں تبدیل کر دیا“۔

اسلامی جنگوں سے وجدان کی مثالیں 

جیسا کہ ہم اوپر کہیں ذکر کر آئے ہیں، اسلامی عسکری تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ایسے وجدانی فیصلوں کی بے شمار مثالیں ملیں گی جن کی بنیاد پر مسلم سپہ سالاروں نے ناقابلِ یقین کامیابیاں حاصل کیں۔ 

خود مجاہد اعظم سید کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلامی فوج کے سالارِ اعظم کے طور پر کمانڈ کے جو وجدانی فیصلے کئے وہ بعد میں آنے والے ان کے غلاموں اور ان کے نام لیواؤں کے لئے ایک مینارۂ نور ثابت ہوئے۔ حضرت خالدؓ بن ولید سے لے کر مصطفی کمال پاشا تک سینکڑوں برسوں پر پھیلی ہوئی درجنوں لڑائیوں میں وجدان کی اساس پر جو فتوحات حاصل کی گئیں ان کا تذکرہ کرنے بیٹھیں تو ایک ضیخم کتاب کا مواد بن جائے گا۔ اس مختصر آرٹیکل میں ہم حضرت خالدؓ بن ولید کے ایک وجدانی فیصلے کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔

جنگ اجنادین اسلام کی مشہور و معروف جنگوں میں شمار کی جاتی ہے جو جولائی 634ء میں مسلمانوں (عربوں) اور رومیوں کے درمیان لڑی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب حضرت ابوبکر صدیق  ؓ مسلمانوں کے خلیفہ ء اول اور اسلامی افواج کے سپریم کمانڈر تھے۔ عرب افواج مختلف ممالک میں بکھری ہوی تھیں۔ مثنیٰ بن حارث ایران میں،خالد بن ولید عراق میں،ابو عبیدہ اور شرجیل بن حسنہ اردن میں اور یزد بن ابو سفیان اور عمرو بن العاص فلسطین میں مصروفِ جہاد تھے۔ رومیوں نے ان تمام اسلامی لشکروں کو شکست دینے کا ایک منصوبہ تیار کیا۔ انہوں نے  مختلف اسلامی افواج کو مزید بکھرنے (Disperse) پر مجبور کرنے کی حکمت عملی تیار کی تاکہ وہ کسی ایک مقام پر اجتماع کر کے انہیں زیادہ نقصان نہ پہنچا سکیں۔ مسلمانوں کو اجنادین کے مقام پر گھیر کر ان کو تباہ کرنے کی سکیم تیار کی گئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت خالد بن ولید کو حکم دیا کہ وہ عراق سے نکل کر فی الفور اجنادین(شام) پہنچیں۔خلیفہء اول کا یہ حکم جب خالد بن ولید کو ملا تو وہ حیرہ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔وہاں سے اجنادین کا فاصہ1200میل تھا۔راستے میں جگہ جگہ رومی حائل تھے۔علاقہ ریگستانی تھا اور گرمی کا زور بڑھ رہا تھا۔سب سے بڑی بات یہ تھی کہ پانی کمیاب تھا۔ ذرائع آمدورفت محدود اور سڑکیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔

حضرت خالدؓ کے ہمراہ تقریباً9ہزار ٹروپس تھے۔ وقت کم تھا اور فاصلہ طویل۔ جنرل خالدؓ  نے اہل لشکر سے پوچھا کہ آیا کوئی اور مختصر راستہ بھی اجنادین کو جاتا ہے۔ ایک سپاہی رافع بن عمیرہ نے جن کی بینائی کمزور ہو چکی تھی کہا کہ انہیں ایک مختصر راستے کا علم ہے جسے انہوں نے 30سال قبل اپنے والد کے ہمراہ جوانی کی عمر میں دیکھا تھا۔اس راستے میں پانی کا ایک چشمہ ہے جس سے کافی پانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن حضرت خالدؓ کے دوسرے مشیروں نے انہیں صلاح دی کہ یہ راستہ خطرناک اور  دشوار گزار ہے۔ پانچ دن تک مسلسل سفر کرنے کے بعد اس چشمے تک رسائی ممکن نہیں اور پھر کیا پتہ وہ چشمہ خشک ہو گیا ہو!اور  تیس سال پہلے جہاں چشمہ تھا ضروری نہیں کہ وہ چشمہ اب بھی وہاں موجود ہو۔ 

رافع کا حافظہ اگرچہ تیز تھا،لیکن تیس سال کی مدت بھی کچھ  کم نہ تھی۔ صحراؤں میں راستے ویسے بھی بے نام  و نشان ہوتے ہیں۔جولائی کے مہینے میں صحرا کی گرمی کا اندازہ کچھ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے ان علاقوں کو بہ چشمِ خودد یکھا ہو۔…… جنرل خالدؓ  ان تمام حالات سے بے خبر نہ تھے،لیکن دوسری طرف اگر اس مختصر اور مشکل راستے کو عبور کر کے وہ دشمن کے سامنے جا نکلنے میں کامیاب ہو جاتے تو دشمن پر ناگہانیت کا جو اثر ہوتا وہ اسے مفلوج کر کے رکھ دیتا۔ اور یہی وجہ تھی کہ حضرت خالدؓ  نے وجدانی فیصلہ کیا اور فرمایا کہ ہم اسی راستے سے جائیں گے اور رافع بن عمیرہ ہماری رہنمائی کریں گے۔

چنانچہ روانگی سے قبل کافی پانی جمع کر لیا گیا۔ جانوروں نے بھی خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ پانی کا ایک بڑا ذخیرہ ساتھ لے لیا گیا۔بہت سے اونٹوں کو خوب پانی پلایا گیا اور اس کے بعد یہ لشکر روانہ ہوا۔ تین دن کی مسلسل مسافت کے بعد پانی ختم ہو گیا۔ چوتھے دن اونٹوں کو ذبح کیا گیا اور ان کے شکم سے پانی نکال کر استعمال کیا گیا۔ پانچویں دن کا سورج طلوع ہوا تو سب کو چشمے کی تلاش تھی۔ سب کی نگاہیں رافع پر گڑھی ہوئی تھیں یا پھر آسمان کی جانب دُعا کے لئے اُٹھ جاتی تھیں۔ جانور اور ٹروپس بے حال ہو رہے تھے۔ پیاس اور تھکن سے جب لوگ جاں بلب ہو گئے اور چشمہ نظر نہ آیا تو حضرت خالدؓ  نے رافع کی طرف دیکھ کر پوچھا: ”چشمہ  اور کتنی دور ہے؟“رافع نے جواب دیا ”عورت کے پستانوں کی شکل کے دو ٹیلے ہیں ان کو تلاش کیا جائے“۔ مجاہدین بے تاب ہو کر اِدھر اُدھر بھاگے اور آخر کار ان دو ٹیلوں کو تلاش کر لیا گیا۔پھر رافع نے کہا کہ ایک خار دار درخت ہے جس کی شکل بیٹھے ہوئے مرد سے ملتی ہے۔ یہ درخت ان ٹیلوں کے آس پاس ہو گا۔اس کی جڑوں کو کھودا جائے۔جب اس درخت کی جڑوں پر گینتی چلائی گئی تو پانی کا ایک فوارہ اُبل پڑا۔تمام لشکر نے خدا کا شکر ادا کیا اور  خوب سیر ہو کر پانی پیا۔مشکیزے بھرے گئے۔عقب میں بچھڑے ہوئے اور تھکے ہوئے ساتھیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر  لایا گیا…… اور جب  حضرت خالدؓ اجنادین پہنچے تو واقعی رومی لشکر حیرت زدہ رہ گیا۔اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح میں حضرت خالدؓ  کے اس طرح اچانک نمودار ہونے نے بہت اہم رول ادا کیا۔

حرفِ اختتام

وجدان ایک گریز پا صلاحیت ہے جو اللہ کریم کی طرف سے مٹھی بھر انسانوں کو ودیعت کی جاتی ہے۔بعض اسلامی ملکوں میں ان کو اولیائے کرام اور دوسرے مذاہب میں سینٹ وغیرہ کا نام ہی دیا جاتا ہے۔ اس کی مقدار البتہ کم و بیش ہو سکتی ہے۔اسے آپ ایک پیدائشی یا وہبی صفت بھی کہہ سکتے ہیں،لیکن یہ زیادہ تر اس تجربے پر مبنی ہوتی ہے جو  انسان کے تحت الشعور میں کہیں ذخیرہ ہو چکا ہوتا  ہے۔ تجربات کی یہ ذخیرہ اندوزی شرطِ اول ہے۔ بوقت ضرورت یہ وجدانِ تحت  الشعور سے نکل کر شعور میں چلا آتا ہے۔ عام فیصلے تو شعور کی طرف سے تحت الشعور کی طرف کا سفر کرتے ہیں،لیکن وجدان کا معاملہ اس کے الٹ ہے۔یہ گویا ایک تخلیقی اور تخیلیصفت ہے جو عقلی یا منطقی صفت کے برعکس ہے۔ بعض سینئر کمانڈر اپنے تجربات کی بناء پر وجدان کی صفت سے متصف ہوتے ہیں۔ وہ اگر چاہیں تو اس صلاحیت اور مہارت کو مسلسل مشق و ریاضت سے ڈویلپ بھی کر سکتے ہیں۔

عسکری حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ وجدان پر مبنی کمانڈ فیصلوں کے تین بڑے پہلو ہوتے ہیں۔ایک تیزی یا سپیڈ…… دوسرا آفاقیت یا وسعت اور…… تیسرا تخلیقی عمل۔ یہ تینوں عناصر ناگہانیت (SURPRISE) کے حصول میں مدد گار بنتے ہیں۔اور کون کافر ہے جو ملٹری آپریشنوں میں ناگہانیت کی تاثیر سے منکر ہو،بلکہ کمانڈ کا لیول جوں جوں اوپر جاتا  ہے اس پر  ہر طرف سے پریشر بڑھ جاتا ہے۔ زمان و مکاں، سیاسیات، ٹیکٹکس،سٹرٹیجی اور انٹیلی جنس معلومات کا ایک بے کراں سمندر ہوتا ہے جو کمانڈر کے سامنے پھیلا پڑا ہوتا ہے۔اس نے ان تمام پہلوؤں کو نگاہ میں رکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔جہاں یہ باور کر لینا  خطرناک ہو گا کہ کمانڈر کو اندھا دھند  وجدان پر انحصار کرنا چاہئے وہاں اس امر کی سفارش بھی نہیں کی جانی چاہئے کہ اس کا فیصلہ سو فیصد مادی امکانات، منطق، دلیل اور سائنس پر استوار ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ہوتا تو عسکری تاریخ میں فیلڈ مارشل منٹگمری کو فیلڈ مارشل رومیل پر فوقیت حاصل ہوتی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ منٹگمری نے اپنے تمام فیصلے ٹھنڈے دِل و دماغ کے ساتھ اور نہایت سوچ بچار کے بعد اس وقت کئے جب اس کے پاس نفری، سازو سامان اور وسائل کی وہ فراوانی ہو گئی جس کی بناء پر کوئی بھی کمانڈر، عزم و یقین کے ساتھ میدانِ جنگ میں کود سکتا  ہے اور ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ اس اتحادی کمانڈر کا دشمن، جرمن کمانڈر رومیل اپنے فیصلوں میں وجدان کا بار بار سہارا لیتا رہا اور بار بار اتحادی سپاہ کو شکست دیتا رہا تاآنکہ ہٹلر نے اسے مادی وسائل سے بالکل عاری کر کے پسپائی پر مجبور کر دیا…… اگر رومیل کے پاس منٹگمری سے نصف وسائل بھی ہوتے تو اس جنگ کی تاریخ آج مختلف ہوتی۔

عسکری کلچر ایک ایسا کلچر  ہے جس میں وجدان کی ٹریننگ کا کوئی باقاعدہ بندوبست نہیں کیا جاتا۔  یہ اگرچہ بعض افواج کے ڈاکٹرین کا حصہ بن چکا ہے تاہم اس کی سکھلائی کی بنیادیں سائنسی خطوط پر استوار نہیں، البتہ غیر سائنسی، غیر منطقی بلکہ روحانی خطوط پر استوار ہیں۔ اگر جنگ ٹیکٹیکل (Tactical) لیول پر ایک سائنس اور سٹرٹیجک (Stratigic) لیول پر ایک آرٹ ہے تو پھر ٹیکٹیکل کمانڈر کو غیر وجدانی اور سٹرٹیجک کمانڈر کو وجدانی بنیادوں پر مبنی فیصلے کرنے میں دریغ نہیں برتنا چاہیے۔ اقبال نے سینئر کمانڈ کو درویشی اور فقر کا نام دیا ہے اور دیکھئے اس حوالے سے یہ شعر اس موضوع پر کتنا برمحل ہے:

نہیں فقرہ و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا

یہ نگاہ کی تیغ بازی، وہ سپاہ کی تیغ بازی

حقیقت یہ ہے کہ سینکڑوں ہزاروں برسوں  سے وجدان، جنگ کا ایک ایسا اہم اور وقیع عنصر رہا ہے جو بڑے بڑے کمانڈر اپنے کمانڈ فیصلوں کو تشکیل کرنے میں عمداً یا غیر ارادی طور پر استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی بھی فوج نے اب تک اس کی ٹریننگ کا کوئی باقاعدہ بندوبست نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ شائد یہ بھی رہی ہو کہ اس فن کو سکھایا یا سمجھایا نہیں جا سکتا۔ نہ اس کی تدریس ممکن ہے اور نہ اس کی تعلیم کسی مروجہ اور معروف طریقوں سے دی جا سکتی ہے۔ یہ فن کسی مکتب کی کرامت کا نتیجہ نہیں بلکہ  فیضانِ نظر سے ہاتھ آتا ہے۔ آج کے اسماعیل کو بھی آدابِ فرزندی سیکھنے کے لئے کسی ”خبر“ کی نہیں ”نظر“ کی ضرورت ہے اور خرو کے پاس تو خبر کے سوا کچھ اور نہیں! 

ملٹری کلچر بنیادی طور پر ایک آمرانہ کلچر ہے جو وجدانی تربیت کی نفاست کی تعلیم نہیں دے سکتا بلکہ گاہ گاہ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔الحمدللہ پاک افواج کا ثقافتی، تہذیبی اور دینی ورثہ وہ لازوال سرمایہ ہے جس کی بنیادوں پر وجدانی فیصلوں کے کلچر کی تعمیر کی جا سکتی ہے ہمارے نامور مسلم کمانڈر یہی کچھ کرتے آئے ہیں۔ افسوس ہے کہ ہم نے اپنے اسلاف کی یہ میراث گنوا دی۔ وجدان کی اساس طرزِ کہن پر اڑنا نہیں بلکہ آئینِ نو سے فیض یاب ہونے پر ہے۔ اگر ہم سینئر لیول کے کمانڈروں میں وجدانی اہلیت پیدا کرنے کی تمنا رکھتے ہوں تو ہمیں چاہیے کہ اپنے جونیئر لیول کے کمانڈروں کی ”پرورش و تربیت“ میں اسلامی اقدار اور روحانی کلچر کو فروغ دیں:

علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں 

(ختم شد)

مزید : رائے /کالم


loading...