ججز کیخلاف ریفرنس میں قانونی تقاضے نظر اندازکئے گئے،چوہدری افتخار

ججز کیخلاف ریفرنس میں قانونی تقاضے نظر اندازکئے گئے،چوہدری افتخار

  



اسلام آباد (آن لائن)سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا ہے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بھی نظر انداز کردیا گیا،رپورٹ کے مطابق انکا کہنا تھا سپریم کورٹ کے جج کیخلاف ریفرنس وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی ایما پر دائر کیا گیا، اس ریفرنس کو وزیراعظم اور صدر کے آفس سے نہیں بلکہ اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل میں جانا چاہیے تھا۔ ظاہری طور پر اس کیس میں جو کمی دکھائی دیتی ہے اس میں وزیراعظم کے سوا کابینہ معاملے کا حصہ نہیں ہے۔انہوں نے باور کروایا پارلیمانی نظام حکومت میں وزیراعظم اکیلے حکومتی معاملات کو نہیں چلا سکتے۔سابق چیف جسٹس نے آرٹیکل 90 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا 2016ء میں مصطفی امپیکس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا وفاقی حکومت ایک کابینہ ہے جو وزیراعظم اور وفاقی وزرا ء پر مشتمل ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا تھا کیا ریفرنس کابینہ کے سامنے رکھا جائے یا نہ رکھا جائے۔ایک سینئر وکیل نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا آرٹیکل 2019 سپریم جوڈیشل کونسل کے معاملات پر ہے، وہ آرٹیکل 90 کا تابع نہیں ہے کیونکہ اعلیٰ سطح کے معاملات میں فیصلے کیلئے رازداری بہت ضروری ہے۔ادھر سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سوال یہ نہیں ہے معاملہ کس نوعیت کا تھا، سوال یہ ہے کیا اس معاملے میں آرٹیکل 90 کی پیروی کی گئی تھی؟ کیونکہ وزیراعظم کابینہ کی منظوری کے بغیر صدر کو اکیلے ہی سمری بھیجنے کے مجاز نہیں ہیں۔

افتخار چوہدری

مزید : صفحہ اول