ایران، سعودی کشیدگی میں کمی کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار، بھارت سے معاملات بہتر ہونے کے اشارے مل رہے ہے: وزیر خارجہ 

ایران، سعودی کشیدگی میں کمی کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار، بھارت سے معاملات ...

  



ملتان(آئی این پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت سے معاملات بہتر ہونے کے اشارے مل رہے ہیں  بشکک میں سشما سوراج سے میری ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی،  مودی سرکار کی نئی کابینہ بھی آگئی ہے، اب دیکھتے ہیں بات کیسے آگے بڑتی ہے، ہم مذاکرات  سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے، ہم چاہتے ہیں کہ ایران سعودی عرب میں کشیدگی اور غلط فہمیاں مزید نہ بڑھیں کیونکہ یہ خطہ مزید ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، اگر دونوں برادر ممالک پاکستان کو کشیدگی کم کرنے کی اجازت دیں تو ہم اپنا کردارادا کرتے رہیں گے، مکہ سمٹ میں ہم نے اسلامو فوبیا کی طرف مسلم امہ کی توجہ دلائی،اگر ہم یک زبان ہو کر بات کریں گے تو مغرب بھی ہماری بات پر توجہ دے گا، توہین آمیز خاکوں سے مسلم امہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے، او آئی سی اجلاس میں اسلامو فوبیا پر متفقہ لائحہ عمل اپنانے پر اتفاق کیا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر کے حالات پہلے سے زیادہ کشیدہ ہوگئے ہیں اس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھتی جا رہی ہیں، بھارتی بربریت سے متعلق عالمی رپورٹس بھی آچکی ہیں، ہم نے فلسطین پر بھی توجہ دلائی کہ یہ مسئلہ ہی اسلامی ملکوں کی تنظیم کی بنیاد بنا، مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کیلئے مسئلہ فلسطین کا حل ناگزیر ہے۔اتوار کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان اور میں نے مسلم امہ کی توجہ اسلام فوبیا کی طرف دلائی، اگر ہم اس پر یک زبان ہو کر بات کریں گے تو مغرب بھی ہماری بات سنے گا ورنہ ناموس رسالتؐ کے حوالے سے حرکات ہوتی رہیں گی جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوگی، ہم نے طے کیا کہ اس کیلئے مکمل لائحہ عمل اپنایا جائے  اور رسول پاکؐ سے اپنی محبت کے بارے میں بتایا جائے کہ توہین آمیز خاکوں سے ہماری کتنی دل آزاری ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دوسرا اہم نقطہ مقبوضہ کشمیرکی سلگتی ہوئی صورتحال پر بھی بات کی، ہم نے اس سے متعلق زیادہ توجہ پر بات کرنے پر زوردیا، ہاؤس آف کامنز کی رپورٹ، یورپین یونین میں کشمیر سے متعلق لوگوں کے تاثرات  کا بھی حوالہ دیا، مسئلہ کشمیر سنجیدہ بھی ہے اور حل طلب بھی، اگر اس کو حل نہیں کیا تو یہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے  مسئلہ فلسطین پر بھی تفصیلاً بات کی، مسئلہ فلسطین جب تک حل نہیں ہوگا مشرق وسطی میں دیرپا امن یقینی نہیں بنایا جا سکتا، اسرائیل کے کیپیٹل کو یروشلم منتقل کرنے سے متعلق بھی مسلم امہ کے شدید تحفظات ہیں، گولان کی پہاڑیاں کو یکطرفہ طور پر اسرائیل کا حصہ بنا دینے کی وجہ سے  عالمی اسلام میں اضطراب کی کیفیت ہے، ہم نے افغانستان صورتحال پر بھی بات کی کہ اس میں پاکستان کا کیا کردار ہے اور پاکستان نے اس میں کیا کردارادا کیا، ہم نے افغان مہاجرین کی چالیس سال مہمان داری کی، میں نے ترکی ، ملائیشیا،انڈونیشیا، سعودی عرب، مصر کے وزرائے خارجہ سے بھی بات کی، پاکستان کا نقطہ نظر سے بھی آگاہ کیا، او آئی سی کا اجلاس پاکستان کیلئے انتہائی مفید رہا ہے، بھارت سے بھی ہمارے معاملات بہتر ہونے کے اشارے مل رہے ہیں  کیونکہ بشکک میں سشما سوراج سے میری ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، پلوامہ حملے کے بعد سے بند فضائی حدود دوبارہ کھولنے کی بھی بھارت نے پہل کی  اور ہم نے بھی پہل کا مثبت جواب دیا، بھارت کی طرف سے یہ اقدامات برف پگھلنے کے مترادف ہیں۔ مودی سرکار کی نئی کابینہ بھی آگئی ہے، اب دیکھتے ہیں بات کیسے آگے بڑتی ہے، مذاکرات  سے ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹے، ہم جانتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے معاملات مذاکرات سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران سعودی عرب میں کشیدگی اور غلط فہمیاں مزید نہ بڑھیں کیونکہ یہ خطہ مزید ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، اگر دونوں برادر ممالک پاکستان کو کشیدگی کم کرنے کی اجازت دیں تو ہم  اپنا کردارادا کرتے رہیں گے۔

وزیر خارجہ 

مزید : صفحہ اول