احساس پروگرام ریاست مدینہ کے اصولوں کے مطابق تشکیل دیا گیا: ڈاکٹر ثانیہ نشتر

احساس پروگرام ریاست مدینہ کے اصولوں کے مطابق تشکیل دیا گیا: ڈاکٹر ثانیہ نشتر

  



اسلام آباد(آن لائن،این این آئی)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی بہبود و غربت مٹاؤ مہم ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس پروگرام ریاستِ مدینہ کے اصولوں کو مدِ نظر رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احساس پروگرام کی سربراہ ثانیہ نشتر نے کہا کہ یہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے ایک اہم پروگرام ہے، جو بیواؤں، یتیموں، بے گھر افراد اور غریب طلباء کے لیے لایا گیا ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ کا کہنا تھا کہ ایسی پالیسیاں لائی جا رہی ہیں کہ حکومت چھوٹی سطح پر ٹھیکے دے، ہماری کوشش ہوگی کہ اس سلسلے میں سیاسی تقرریوں سے بچا جائے، حساس پروگرام کا وقت کے ساتھ دائرہ بڑھایا جائے گا، ٹاؤن اور مارکیٹ کمیٹیوں میں سیاسی تقرریوں سے گریز کیا جائے گا، سماجی تحفظ کے بجٹ کو مسائل کے با وجود دگنا کریں گے۔  ثانیہ نشتر نے کہا کہ سماجی تحفظ کے ادارے پہلے بکھرے ہوئے تھے، اب یہ ایک ڈویژن سے منسلک کر دیے گئے ہیں، اس اقدام سے سماجی تحفظ کے لیے ون ونڈو  آپریشن کے پروگرام میں آسانی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے جو بھی ضرورت مند ہو اس کو ایک ہی جگہ جانا پڑے، مستحقین کی نشان دہی کے لیے ملک گیر سروے بھی جاری ہے،آیندہ سال تک سروے کے نتائج سامنے آ جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا تو معاشی ٹیم کا کام ہے لیکن احساس کے تحت بھی بہت سارے لوگوں کو روز گار کی فراہم کے لیے مدد کی جائے گی سود سے پاک قرضے دیے جائیں گا اس ماہ میں یہ اسکیم آرہی ہے اس کے لیے بجٹ میں 5 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئر پرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی کے جعلی منیجر بھیجنے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، مستحق افراد کے بینک اکاؤنٹ کھلنے کا سلسلہ اسی سال شروع ہو جائے گا۔انہوں نے کہاکہ احساس صرف سماجی تحفظ کاہی پروگرام نہیں اس میں ایک سو پندرہ پالیسیاں ہیں۔انہوں نے کہاکہ پروگرام کے تحت کچی آبادی کے علاقوں میں پلازے بنانے کی صورت میں اس آبادی کو بھی ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ثانیہ نشتر نے کہاکہ غیر رسمی معیشت میں شامل لوگوں کی رجسٹریشن کا کام شروع کیا جا ریا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج تک پتہ نہیں کہ نجی شعبے میں کام کرنے والے اداروں کے کیا معیارات ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ غریب بچوں کیلیے انڈر گریجویٹ سکالرشپ پروگرام شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ پروگرام کے تحت تعلیم چھوڑنے والی بچیوں کو دوبارہ تعلیم شروع کرائی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر

مزید : صفحہ اول