افطار میں گوشت کیوں کھایا؟ جنونی ہندوﺅں کا مزدوروں پر بہیمانہ تشدد

 افطار میں گوشت کیوں کھایا؟ جنونی ہندوﺅں کا مزدوروں پر بہیمانہ تشدد

  



اتر پردیش(مانیٹرنگ ڈیسک ) مودی کے برسر اقتدار آتے ہی جنونی ہندوﺅں کی باچھیں کھل گئیں،ہر معاملے میں مداخلت اور دخل اندازی اور گاﺅ ماتا کے نام پر غنڈہ گردی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔اسی تناظر میں بھارت میں انتہا پسند جنونی ہندوﺅں نے گائے کے گوشت سے روزہ افظار کرنے (بقیہ نمبر42صفحہ7پر )

کا الزام عائد کر کے 4 مسلمان مزدوروں کو بیلٹ، لاتوں اور گھونسوں سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش میں 4 مسلمان شہری محنت مزدوری کے بعد روزہ افطار کرنے بیٹھے تھے کہ اچانک مشتعل ہندوﺅں نے حملہ کردیا۔ ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں پر گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگا کر چمڑے کی بیلٹ سے پیٹھ پر ضربیں لگائیں اور لاتوں، گھونسوں کا آزادانہ استعمال کیا، اس دوران مسلمان مزدور رحم کی اپیل کرتے رہے لیکن جنونی ہندو باز نہ آئے۔مسلمانوں پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی، پولیس نے آدیش ولمکی اور منیش سمیت 4 نامعلوم افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کرلی ۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران یہ میڈیا میں رپورٹ ہونے والا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔

جنونی ہندو

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...