مشکل حالات میں حکومت ملی شاہ محمود ،اپوزیشن کو بجٹ تیار کرنیکی دعوت

مشکل حالات میں حکومت ملی شاہ محمود ،اپوزیشن کو بجٹ تیار کرنیکی دعوت

  



ملتان(نیوز رپورٹر)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ کچھ ایسے اشارے مل رہے ہیں جس سے پاک بھارت تعلقات بہتری کی طرف جا رہے ۔ امید کرتے ہیں دونوں ممالک کے درمیان برف پگھل سکتی ہے۔ ہم نئی بھارتی حکومت کومذاکرات کے کی دعوت دے چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے مسائل کا واحد حل مذاکرات ہے۔بشکیک میں ششما سوراج سے اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی۔ ہم نے پاک بھارت کشیدیگی کے دوران کمرشل فضائی حدود(بقیہ نمبر31صفحہ12پر )

 کو بند کردیا تھا۔ ہندوستان نے پہل کی کہ فضائی حدود کھولنا چاہتے ہیں۔ ہماری طرف سے مثبت جواب دیا گیا۔ ہمارے ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک سے اچھے تعلقات ہیں ۔ پاکستان سمجھتا ہے یہ خطہ کسی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ امریکہ ایران کی جنگ کا اثر پورے خطے پر پڑے گا۔ او آئی سی اجلاس میں مسلم ممالک کے وزراءخارجہ موجود تھے۔پاکستان نے تین باتوں پر امت مسلمہ کی توجہ دلائی۔ہمیں اسلام فوبیاکوختم کرنا ہوگا۔ مکہ سمٹ میں اسلام فوبیا پر متفقہ لائحہ عمل طے کیا گیا ہے۔توہین آمیز خاکوں سے مسلمہ امہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ یک زباں ہو کر بات کریںگے تو مغرب ہماری بات سنے گا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے گزشتہ روز ملتان میں مخدوم ذوہیب گیلانی کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو اور این اے 156میں حاجی اللہ دتہ بھٹہ کی طرف سے دیئے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری ندیم قریشی ، صوبائی معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری، رانا عبدالجبار، میاں جمیل ودیگر شخصیات اس موقع پر موجود تھیں۔انہوں نے کہا ہم نے او آئی سی اجلاس میں مسئلہ فلسطین پر آواز بلند کی۔ مسئلہ فلسطین نے او آئی سی کو جنم دیا ۔ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا مشرق وسطہ میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ گولائن ہائٹس شام کا حصہ ہے ۔ اس مسئلہ پر پوری مسلمہ امہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ او آئی سی اجلاس میں مسئلہ کشمیر پرآوازبلندکی اورمسئلہ امہ کی توجہ کشمیر کی طرف دلائی ۔ کشمیر پاکستان کا نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ کشمیریوں پرمظالم کے حوالے سے انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارو ںکی رپورٹ سامنے آ چکی ہیں۔ہم نے او آئی سی اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔انہوں نے کہا او آئی سی اجلاس میں ملائشیا، ترکی، انڈونیشیااور دیگر اسلامی ممالک کے وزراءخارجہ سے ملاقات رہی۔او آئی سی اجلاس مسئلہ امہ کے لیے سود مند رہے گا۔ انہوں نے کہا ہمیں مشکل حالات میں حکومت ملی ۔ ہم اپوزیشن کو دعوت دیتے ہیں کہہ ملکی وسائل اور اخراجات کو سامنے رکھتے ہوئے بجٹ بنا دیں ۔ ہم کوشش کریں گے کہ بجٹ میں نچلے طبقے کو ریلیف دیا جائے۔انہوں نے کہا قوم انتظار کرے مشکل وقت جلد دور ہوگا۔ تمام بحرانوں پر قابوپائیں گے۔انہوں نے کہا آزادعدلیہ ہماری ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت قانون کی بالا دستی کی قائل ہے۔ عمران خان نے خود عدلیہ کی آزادی کیلئے کام کیا۔ جج صاحبان ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ اگر ججز صاحبان کے حوالے سے کوئی چیز سامنے آتی ہے تو اس کا ایک اپنا طریقہ کار ہے ۔ اور سپریم جوڈیشل کونسل قائم ہے جج صباحبان اس میں اپنا موقف اچھے طریقے سے بیان کر سکتے ہیںتاکہ ریفرنس کی ضرورت نے پڑے۔ انہوں نے کہا اگر ایسٹ ریکوری یونٹ کو کوئی معلومات ملتی ہے تو اس کا کام ہے اس کو منسٹری آف لاءکو منتقل کرے۔انہوں نے کہا اپوزیشن آڑ کے لیے مہنگائی کو کیوں استعمال کررہی ہے۔ اپوزیشن مہنگائی کے خاتمے کی تجاویز بتائے نہ کہ اس کی آڑ لیکر احتجاج کرے۔ہمیں مہنگائی کی وجوہات تلاش کرناہونگی۔اپوزیشن مہنگائی کم کرنے کیلئے تجاویز پیش کرے۔محسن داوڑ اور وزیر علی کی گرفتاری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا دونوں صاحبان ممبران اسمبلی ہیں۔ان دونوں کیلئے قانون کے مطابق پرو ڈیکشن آرڈر جاری کئے جا سکتے ہیں۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ گرفتار کیوں ہوئے۔وہ ہماری فورسز پر کیچڑ اچھالتے رہے ۔غیر ملکی قوتوں کوپاکستان میں مداخلت کا کہتے رہے ۔ وہ لوگوں کو اشتعال دلاکر فورسز پر حملہ آور ہوئے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ دونوںاراکین نے ذمے داری کا ثبوت دیا ۔کیا یہ محب وطنی ہے۔ انہوں نے حلف کی پاسداری نہیںکی۔ملکی آئین کو پامال کرنے والے پاکستان کے وفا دار نہیں ہوسکتے۔میں قائدین سے درخواست کروں گا کہ وہ ملکی آئین پامال کرنے والوں کے حوالے سے اپنے مطالبات پر غور کرے۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف ایک منظم سیاسی جماعت ہے ۔ ہم پارٹی کی تنظیم نو کررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے پارٹی کے تمام عہدے تحلیل کردیئے گئے ہیں۔

شاہ محمود

مزید : ملتان صفحہ آخر