ملکی وسائل کو احتیاط کے ساتھ عوامی فلاح کے لئے استعمال کرنا چاہیے: اکانومی واچ

ملکی وسائل کو احتیاط کے ساتھ عوامی فلاح کے لئے استعمال کرنا چاہیے: اکانومی ...

  



اسلام آباد(کامرس ڈیسک)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ حکومت تبدیلی کے نعرے پر حقیقی معنوں میں عمل درامد کرتے ہوئے اشرافیہ کے قربانی مانگے کیونکہ غریب عوام اب مزید قربانیاں دینے کے قابل نہیں رہے ہیں۔عوام روٹی کو ترس رہے ہیں جبکہ حکومت کے مطابق انھیں ریلیف دینے کے لئے وسائل نہیں ہیں مگر ارب پتی بروکروں کو بیل آوٹ کرنے کے لئے راتوں رات بیس ارب روپے کا انتظام ہو جاتا ہے جو تشویشناک ہے۔حکومت کا عجلت میں کیا گیا یہ فیصلہ غریب عوام کو کبھی ہضم نہیں ہو گا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ تمام حکومتی عہدیدار وسائل کی کمی کا رونا رو رہے ہیں اور اہم شعبوں میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں تاہم ارب پتیوں کو نقصانات سے بچانے کے لئے نہ وسائل کی کوئی کمی ہے نہ منظوری میں کوئی دقت حائل ہے بلکہ قوانین بھی فوری طور پر نرم کر دئیے جاتے ہیں جو حیران کن ہے۔اگر حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے تو ان وسائل کو احتیاط سے عوامی فلاح کے لئے استعمال کرنا چائیے نہ کہ اشرافیہ پر بے دریغ نچھاور کئے جائیں اور اس سلسلہ میں ریگولیٹر کی رائے لینے کی زحمت بھی گوارا نہ کی جائے۔مارکیٹ سپورٹ فنڈکا نام بدل کر بروکر سپورٹ فنڈ رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا مارکیٹ سے کوئی تعلق نہیں بنتا اور اس فنڈ کا قیام حکومت کے دعووں اور اقتصادی ایجنڈے کی نفی ہے۔اسی با اثر مافیا کو نوازا جا رہا ہے جس نے بار بار سٹاک مارکیٹ کو کریش کر کے عوام اور چھوٹے انوسٹرز کو کھربوں روپے نا نقصان پہنچایا اور ہر بار قانونی کاروائی سے صاف بچ نکلے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کو ظلم قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اوگرا حکومت کی سرپرستی میں عواماور معیشت دشمن ادارہ بن چکا ہے جس کا واحد مقصد عوام کو لوٹنا ہے۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں مگر پاکستان میں الٹی گنکا بہہ رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ برامدی شعبہ کے لئے زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ درست ہے کیونکہ اس سے حکومت کے اخراجات اور ایکسپورٹ مافیا کی آمدنی بڑھی مگر برامدات میں اضافہ نہیں ہوا۔زیرو ریٹنگ کے خاتمہ سے برامدات نہیں بلکہ ملکی وسائل پر پلنے والے مگر مچھ متاثر ہونگے۔

مزید : کامرس


loading...