ہدف پورا کرنے کیلئے نئے ٹیکس گزارنیٹ میں لائے جائیں‘میاں سلیم

ہدف پورا کرنے کیلئے نئے ٹیکس گزارنیٹ میں لائے جائیں‘میاں سلیم

  



لاہور (این این آئی) انجمن تاجران لاہور کے جوائنٹ سیکرٹری میاں سلیم نے کہاہے کہ حکومت 5.5کھرب روپے کا ہدف پورا کرنے کیلئے نئے ٹیکس گزاروں کو ٹیکس نیٹ میں لائے،پہلے سے موجود ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکس نہ لگائے جائیں، آئندہ بجٹ میں تمام ان ڈائریکٹ (ہیڈن ٹیکس) مکمل طور پر ختم کئے جائیں اور ڈائریکٹ ٹیکسز پر انحصار کیا جائے، حکومت اس بجٹ میں تاجروں کے درینہ مطالبہ کو پورا کریں اور فائیلر اور نان فائیلر دونوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے،اس موقت ملک بھر میں چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں لاکھوں نئے کاروباری افراد موجود ہیں جنھیں ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکتا ہے۔ اپنے ایک بیان میں میاں سلیم نے کہاکہ پہلے سے موجود ٹیکس دہندگان کئی طرح کی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اگر ان پر مزید نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا گیا تو وہ ٹیکس کے نظام سے متنفرہو جائیں گے لہذا حکومت اپنے ریونیو میں اضافے کیلئے نئے ٹیکس لگانے کی بجائے اپنے ٹیکس نیٹ کو وسعت دے۔اور تمام طرح کے غیر ضروری اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے 2018-19 کیلئے 4.398کھرب روپے کا ریونیو کا ہدف رکھا گیا تھا لیکن موجودہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ایف بی آر نے صرف 3.303کھرب روپے ریونیو کاحاصل کیا تھا جو مطلوبہ ہدف سے تقریباً 448 ارب روپے کم رہا۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر حکام کو اپنی بھی کارکردگی درست کرنا ہوگی کیونکہ ایف بی آر ٹیکس ریونیو کے تمام ہیڈز بشمول کسٹم، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں جو کہ قابل تشویش امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقص ٹیکس سسٹم کی وجہ سے ریونیو اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے

انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس سسٹم کو جتنا زیادہ آسان اور شفاف بنائے گی اتنا ہی زیادہ ریونیو حاصل کر سکے گی،جبکہ موجودہ چیئرمین ایف بی آر ایک خط کے ذریعے خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ موجودہ ٹیکس سسٹم معیشت کیلئے خطرنا ک ہے،اور ٹیکس سسٹم میں کئی طرح کی پچیدیگیاں ہونے کی وجہ سے بے شمار تاجر اور کاروباری افراد ٹیکس نیٹ میں آنے سے گریزاں ہیں۔

مزید : کامرس


loading...