ضلعی انتظامیہ نے ملی بھگت سے ہمارے گھروں کو مسمار کیا‘ کفایت اللہ

ضلعی انتظامیہ نے ملی بھگت سے ہمارے گھروں کو مسمار کیا‘ کفایت اللہ

  



چارسدہ(بیورورپورٹ) چارسدہ پریس کلب کے سامنے ضلع ناظم،محکمہ اوقاف اور ضلعی انتظامی کے خلاف مرد و خواتین اور بچوں کا مظاہرہ۔ ضلعی انتظامیہ نے ضلعی ناظم فہد ریاض کے ملی بھگت سے ہمارے تین گھروں کو مسمار کر دیا ہے جس کی وجہ سے رمضان کے مہینے میں ہمارے بچے شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ضلع ناظم خو د ایک بڑے قبضہ مافیا کے سرغنہ بن چکا ہے جس نے محکمہ اوقاف کے کئی ایکڑ قیمتی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے علاقہ اتمانزئی کے رہائشی کفائت اللہ،سندھ رینجر کے اہلکار فیض محمد،روح اللہ،ملک ناصر،ثمیرا تاج اور دیگر خواتین نے چارسدہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ اور بعد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ اتمانزئی میں تقریباً تین کنال کے اراضی 1926سے ان کی ملکیت میں آرہی ہے جس پر ان کے تین بھائیوں نے گھر بھی تعمیر کئے ہیں لیکن ہماری قیمتی اراضی کو ہتھیانے کیلئے مقامی خوانین نے ہمارے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا جس پر مقامی عدالت نے 2018میں مزکورہ اراضی کو ہماری ملکیت قرار دیا ہے لیکن سے کے باوجود ضلع ناظم فہد اعظم خان کی ایماء پر ضلعی انتظامیہ نے ہمارے ملکیتی زمین کو محکمہ اوقاف کی ملکیت قرار دیا اور گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ نے بغیر کسی نوٹس کے بھاری مشینری سے ہمارے گھروں کو مسمار کر دیا جس سے گھروں میں موجود لاکھوں روپے کا سامان بھی تبا ہ ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر سے تین دن کی مہلت طلب کی تو انہوں نے پانچ منٹ میں گھر خالی کرنے کے احکامات جاری کیے اور پانچ منٹ بعد بلڈوزر چلا کر ہمارے گھروں کو ملیا میٹ کر لیا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران محکمہ اوقاف کے ایک افسر نے اپریشن روکنے کے لیے پندرہ لاکھ روپے رشوت طلب کیا مگر ہم اپنے پدری زمین پر کیوں کر رشوت دیتے۔ انہوں نے کہا کہ رشوت نہ دینے پر ہمارے تینوں گھروں کو مسمار کیا گیا جس پر بچے اور خواتین پہلے تپتی سورج میں کھلے آسمان تلے بیٹھ گئے جبکہ بعد میں پڑوسیوں نے پناہ دی۔ اس حوالے سے انہوں نے آرمی چیف،چیف جسٹس اور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...