خیبر پختونخوا کی غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کا غیر قانونی ہتھیاروں پر پابندی کا مطالبہ

خیبر پختونخوا کی غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کا غیر قانونی ہتھیاروں ...

  



پشاور (سٹی رپورٹر) خیبر پختونخوا کی غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی نے غیر قانونی ہتھیاروں پر پابند ی کا مطالبہ کردیا۔پشاور پریس کلب میں ہتھیارو ں کیخلاف عالمی ہفتہ عمل کی مناسبت سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سماجی تنظیم بلووینزکے کوآرڈینیٹر قمر نسیم‘ پختونخوا سوسائٹی نیٹ ورک کے کوآرڈینیٹر تیمور کمال‘ گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کے پراجیکٹ کوآرڈینیٹرعمران ٹکر‘ زینت محب کاکاخیل اورثناء احمدنے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ عالمی ہفتہ عمل کو منانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر”انسانیت کیلئے اٹھے، ہتھیاروں کو ختم کیجئے '' مہم میں تمام مکاتب فکر کو شامل ہونا چاہیے کیونکہ پوری دنیا میں چھوٹے اور غیرقانونی ہتھیاروں کے غیر ضروری استعمال کی وجہ سے شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے، انہوں نے کہاکہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں موجود قانونی اور غیر قانونی چھوٹے ہتھیاروں کی تعداد سال 2017 کے اختتام تک 43,917,000 تھی جبکہ 2014 تک جاری کیے جانیوالے لائسنسوں کی تعداد352,843 تھی،سال 2017 تک پاکستان میں رجسٹرڈ چھوٹے ہتھیاروں کی تعداد 6,000,000 جبکہ غیر رجسٹرڈ اور غیرقانونی ہتھیاروں کی اصل تعداد کا کوئی اعداد و شمار موجود نہیں،ان اعداد و شمار میں وہ ہتھیار شامل نہیں جو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے پاس موجود ہیں،پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ چھوٹے اور غیرقانونی ہتھیاروں کی خریدوفروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کی جائے، حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی اس کانفرنس میں چھوٹے اور غیرقانونی ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کرے، غیرقانونی ہتھیاروں تک رسائی،کمزور قوانین اور موجودہ قوانین پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ میں لاقانونیت اور پرتشدد سوچ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے جس کو روکنے کیلئے قانون پر عملداری کو فوری طور پر بہتر بنانا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ غیرقانونی ہتھیاروں اور اسلحہ کے لائسنسوں کو بھی فوری طورپر منسوخ کیا جانا ہوگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر