عید کے بعد بلوچستان میں جمہوری تبدیلی لائیں گے،اختر مینگل

عید کے بعد بلوچستان میں جمہوری تبدیلی لائیں گے،اختر مینگل

  



کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے عید کے بعد بلوچستان میں جمہوری تبدیلی لائیں گے،حکومت کو ووٹ دینے میں جتنے ہم قصور وار ہیں انتے عوام بھی قصور وار ہیں، چیئرمین نیب کے خلاف الزامات کی تحقیقات کے لئے ؎پارلیمانی کمیشن بنانا چاہیے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے مخصوص مقاصد ہیں،امریکہ ایران تنازعہ میں بلوچستان عالمی جنگ کا مرکز ہوگا حکومت کو اس معاملے میں غیر جانبدار رہنا چاہیے، اپوزیشن اگر سر فہرست چھ نکا ت کو ترجیح دے تو انکا ساتھ دیں گے، یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہر اقدام کے پیچھے کچھ مقاصد ہیں چاہے وہ نیب، ریفرنس یا دیگر اشکا ل میں ہوں، ملک اب تک اس مقام پر نہیں پہنچا کہ بلا مقاصد یہ ریفرنس دائر ہو، قاضی فائر عیسیٰ سمیت دیگر ججز کے خلاف جو ریفرنس نکا لے گئے ہیں وہ کس ادارے کی چھان بین کی بناء پر کئے گئے اور یہ کس ادارے نے نکالے، صدر مملکت نے اب تک قاضی فائز عیسیٰ کے خط کا کیوں جواب نہیں دیا؟ عدلیہ کو آزاد رہنے دیا جائے حکومت نے اگر عدلیہ کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش کی تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہونگے،معاشرہ احتساب کے عمل کے بغیر نہیں بڑھ سکتا احتسا ب کے ادارے خود بھی احتساب کے قابل اور صادق وامین ہوں، حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ آج جو بھی عمل ہو رہا ہے وہ انکے اپنے اعمالوں کا رد عمل ہے، انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کے خلاف آڈیو اورویڈیوز ہیں حکومت انکا فرانزک ٹیسٹ کروائے،اخلاقی طور پر چیئر مین نیب کو مستعفی ہو جا نا چاہیے تھا کچھ عناصر ضرور ہیں جو اس کے پیچھے ہیں کیا چیئرمین خود اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں اس تمام معاملے کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن ہونا چاہیے،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ مسنگ پرسنز کا ہے، ہم نے عوام سے وعدہ کیا کہ انکی آواز بلند کریں گے۔

اختر مینگل

مزید : صفحہ اول


loading...