گرین شرٹس ہمیں تم سے پیار ہے

گرین شرٹس ہمیں تم سے پیار ہے
گرین شرٹس ہمیں تم سے پیار ہے

  



ورلڈ کپ کے میچز اپنی چکا چوند روشنیوں کے ساتھ جاری و ساری ہیں اور ٹیمیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہیں۔اس ایونٹ کے آغاز سے قبل دنیا کی فیورٹ ٹیموں میں چار سیمی فائنلسٹ انگلینڈ،نیوزی لینڈ،آسٹریلیااور ویسٹ انڈیز نے اپنے پہلے میچ میں کامیابی حاصل کر کے لوگوں کی امیدوں پر پورا اترنے کی ٹھان لی ہے اور لوگوں کا خیال بھی یہی ہے کہ یہ چار ٹیمیں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لیں گی۔لیکن میرا خیال ان کے خیال سے مختلف ہے میرے لیے اس ایونٹ یا کسی بھی ایونٹ کی کوئی ٹیم بھی فیورٹ نہیں کیونکہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں محنت کر کے اوپر آنے والوں کے کامیابی قدم چومتی ہے۔بطور پاکستانی اگر قومی ٹیم کی بات کی جائے تو دل یہی کہتا ہے کہ اللہ ہمارے ملک کو اور اس کی ٹیم کو کامیابی و کامرانی دنیا کے ہر محاذ پر عطا ء کرے۔اسی لیے ویسٹ انڈیز سے عبرتناک شکست کے باوجود ہم پاکستانی اپنی ٹیم کے لیے دعا گو ہیں۔خیر پاکستان اور میزبان انگلینڈ کے مابین ایک اہم میچ آج ٹرینٹ برج میں کھیلا جائے گا یہ وہی گراؤنڈ ہے جہاں قومی ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے سامنے گٹھنے ٹیکنے پڑے۔لیکن اب ٹیم مختلف ہے اور اس کے باؤلر بھی مختلف ہیں جو شارٹ پچ گیند سے نا تو قومی ٹیم کے بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچوا سکتے ہیں اور نا انہیں بڑا سکور کرنے سے روک سکتے ہیں اور یہ تب ہی ممکن ہو گا جب قومی ٹیم ٹاس جیتے گی کیونکہ میچ سے قبل ٹاس اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔آج کھیلے جانیوالے میچ میں قومی ٹیم میں دو سے تین تبدیلیوں کی ضرورت ہو گی شعیب ملک،آصف علی اور شاہین آفریدی کو شامل کر کے وہاب ریاض،حسن علی اور عماد وسیم کو آرام دیا جائے کیونکہ انگلینڈ سے سیریز میں ،حسن اور عماد کی جبکہ گزشتہ میچ میں وہاب کی باؤلنگ پرفارمنس سب کے سامنے تھی۔ محمد حفیظ سے اٹیکنگ اوور کروایا جائے اور قومی ٹیم کی حکمت عملی کو تبدیل کیا جائے تا کہ کچھ نیا ہو سکے۔ وہاب ریاض کی ورلڈ کپ میں شمولیت کئی سولات کو جنم دے گی اگر قومی ٹیم نے اس ایونٹ میں اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کیا تو شاید وہاب کے بارے سوالاتوں کا رخ مڑ جائے اور اگر خدا نخواستہ وہاب اور قومی ٹیم کچھ نا کر پائی تو نزلہ گرے گا وہ بھی گرمیوں والا۔جس میں ٹھنڈا پانی منع ہوتا ہے۔

دوسری جانب انگلینڈ ورلڈ کپ کا پہلا اور قومی ٹیم کے خلاف سیریز جیت کر اپنا مورال بلند کیے بیٹھا ہے اور شاید ہو سکتا ہے کہ وہ آج ہونے والے میچ میں کوئی بھی ردو بدل نا کر ے اور کرنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ ان کی ٹیم سیٹ ہے اور کسی قسم کے ردو بدل کی گنجائش موجود نہیں۔ورلڈ کپ سے قبل سوشل میڈیا پر نت نئی پوسٹ دیکھنے کو مل رہی ہیں جن میں زیادہ تر قومی ٹیم کے ساتھ اظہار یکجہتی کی پوسٹ دیکھنے کو ملیں۔ایک پوسٹ اپنے لفظوں کے باعث سب سے دلچسپی کا باعث بنی جس میں درج تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم 1992 میں ویسٹ انڈیز سے پہلا میچ ہارنے کے بعد ورلڈ کپ لے اڑی تھی جبکہ دو ہزار سات میں ویسٹ انڈیز اور آئر لینڈ سے شکست کے بعدکوچ باب وولمراپنی زندگی کی بازی ہار گئے تھے اب کی مرتبہ ٹرافی ہاتھ آتی ہے یا کوچ جاتا ہے پتہ چل جائے گا۔ اس کے ساتھ تم ہارو یا جیتو سنو ہمیں تم سے پیار ہے جیسی پوسٹ پڑھنے کو اور دیکھنے کو مل رہیں ہیں۔یہ ہماری قوم کا المیہ ہے کہ ہم صرف جیت کو ہی ترجیح دیتے ہیں جبکہ ہار پسند نہیں۔بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ یہ پورے ایشیاء کا المیہ ہے تو غلط نا ہو گا جبکہ اکثر لوگوں کے منہ سے سنا ہے کہ ہار کے بعد جیت کی بھوک یا جیت کا مزہ ہی الگ ہوتا ہے لہذٰا صبر و استقامت،کے ساتھ میچز دیکھیں اور حکمت و بصیرت سے بات کریں تا کہ ہم نادم نا ہوں۔

مزید : رائے /کالم