پاکستانی عمرہ زائرین کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کرگئی لیکن ٹیکس کتنے لوگ دیتے ہیں؟ یقین کرنا مشکل

پاکستانی عمرہ زائرین کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کرگئی لیکن ٹیکس کتنے لوگ دیتے ...
پاکستانی عمرہ زائرین کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کرگئی لیکن ٹیکس کتنے لوگ دیتے ہیں؟ یقین کرنا مشکل

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستانی عمرہ زائرین کی تعداد ملک میں ٹیکس دہندگان سے بڑھ گئی ، سعودی عرب کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق 30مئی تک 15لاکھ90ہزار731افراد پاکستانی عمرہ ادا کرنے گئے ہیں جبکہ پاکستان کے ٹیکس دہندگان کی تعداد 12سے14لاکھ ہے، پاکستان میں عمومی تاثر یہی ہے کہ ملک میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے، چندروز قبل وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں عوام کو آگاہ کیا تھا کہ 22کروڑپاکستانیوں میں سے صرف ایک فیصد افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ان کے بیان کے مطابق درحقیقت یہ ایک فیصد ٹیکس دینے والے 22کروڑ پاکستانی عوام کا بوجھ اٹھارہے ہیں، ترجمان ایف بی آر ڈاکٹر حامد عتیق کے مطابق سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع کرنے والوں کی تعداد 19لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور حکومت کی کوشش ہے زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، سال 2017-18کے ٹیکس فائلر کی تعدادتو19لاکھ رہی لیکن ان میں سے ٹیکسدہندگان کی تعداد 12لاکھ سے 14لاکھ تک ہے،آمدن ٹیکس کے حوالے سےحکومت نے عوام کو سہولت دینے کے لیے سالانہ آمدنی کے حساب سے درجہ بندی کررکھی ہے جس میں سالانہ چارلاکھ روپے تک کمانے والے افراد کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں ۔

روزنامہ جنگ کے مطابق چار لاکھ روپے سے آٹھ لاکھ روپے سالانہ کمانےوالے افراد محض ایک ہزار ٹیکس دینے کے پابند ہیں ، آٹھ لاکھ سے بارہ لاکھ سالانہ آمدنی والے افراد پر دو ہزار روپے آمدنی ٹیکس اور اس سے زیادہ کمانے والوں پر آمدنی کے حساب سے 15فیصد ، 20فیصد اور 25فیصد ٹیکس لاگو ہوتا ہے، تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس ان کے ادارے جہاںوہ ملازمت کر رہے ہوتے ہیں خود ہی کاٹ لیتے ہیں جنہیں ٹیکس ایٹ سورس کہا جاتا ہے، کاروباری افراد جن کی سالانہ آمدن 12لاکھ تک ہے ان کے لیے ٹیکس کی شرح وہی ہے جو تنخواہ دار طبقے کے لیے ہے جبکہ 12لاکھ سے 24لاکھ سالانہ آمدنی والے افراد پر پانچ فیصد ٹیکس لاگو ہوتا ہے، کاروباری افراد سے یہ ٹیکس تب لیا جاتاہے اگر وہ ایف بی آر میں اپنے سالانہ گوشوارے جمع کراتے ہیں ورنہ ان کا شمار ان پاکستانیوں میں ہوتا ہے جو ٹیکس ادانہیں کرتے، ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر حامدعتیق کے مطابق ملک میں سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع کرنے والوں کی تعداد 19لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔

اخبار کے مطابق سرکاری اعداد وشمارا س امر کا اظہار ہےکہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد مجموعی آبادی کا محض ایک فیصد ہے اورسال رواں30مئی تک تقریباً16لاکھ افراد نے عمرہ اداکیا اور ایک شخص کا عمرہ پر کم سے کم خرچ دو لاکھ روپے ہے ، ، دوسری جانب ٹیکس دہندگان کی تعداد کہیں کم ہے ، سعودی وزارت حج و عمرہ کے مطابق رواں برس30مئی تک بھارت سےعمرہ ادا کرنے والوں کی تعداد6لاکھ43ہزار563، انڈونیشیا سے 9لاکھ46ہزار962، مصر سے پانچ لاکھ 35ہزار861،الجیریا سے 3لاکھ64ہزار707،یمن سے تین لاکھ34ہزار186، ترکی سے تین لاکھ6ہزار987،ملائیشیا سے دو لاکھ74ہزار66، عراق سے دو لاکھ70ہزار995اور اردن سے دو لاکھ 857افراد عمرہ کی ادائیگی کے لیے آئے ، 30مئی تک مجموعی طور پر 75لاکھ84ہزار424افراد نے عمرہ کی ادائیگی کی، سب سے زیادہ تعداد پاکستانی عمرہ زائرین کی ہے۔

مزید : بزنس


loading...