جعلی بھرتیاں کرنے والے افسران کو نکال کر باہر سٹرک پر پھینکیں،سپریم کورٹ،افسران کیخلاف تفصیلات طلب

جعلی بھرتیاں کرنے والے افسران کو نکال کر باہر سٹرک پر پھینکیں،سپریم ...
جعلی بھرتیاں کرنے والے افسران کو نکال کر باہر سٹرک پر پھینکیں،سپریم کورٹ،افسران کیخلاف تفصیلات طلب

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے سندھ پولیس میں غیرقانونی بھرتیوں اور پولیس سروس سے نکالے گئے سابق اہلکاروں کی اپیل پرغیر قانونی بھرتیاں کرنے والے افسران کیخلاف تفصیلات طلب کرلیں ،جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کاکیا قصور جنہیں پیسے لے کربھرتی کیاگیا،جعلی بھرتیاں کرنے والے افسران کونکال کرباہرسٹرک پرپھینکیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزاراحمد نے سندھ پولیس میں غیرقانونی بھرتیوں اورپولیس سروس سے نکالے گئے اہلکاروں کی اپیل پرسماعت کی،سرکاری وکیل نے کہاکہ جعلی بھرتیاں ہوئیں مگردوبارہ این ٹی ایس ٹیسٹ لیاگیا،جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ پیسے لےکرکسی کوبھی لگادوپھرعدالت پرچھوڑدو، ان لوگوں کاکیاقصورجنہیں پیسے لے کربھرتی کیاگیا،سندھ پولیس نے کہا کہ جعلی بھرتیاں کرنے والے افسران کیخلاف تحقیقات چل رہی ہیں،جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایسے افسران کونکال کرباہرسٹرک پرپھینکیں، لگتا ہے ہر پولیس والے نے اپنے بندے کو پولیس میں بھرتی کروا دیا، اتنے پولیس والے بھرتی ہوگئے کہ سندھ حکومت کا سارا بجٹ تو پولیس پرلگ جاتا ہوگا۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے زیادہ کون جانتا ہے یہاں کیا اور کیسے ہوتا رہا،جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ میرٹ پر کتنا کام ہوتا اور کرایا جاتا ہے سب معلوم ہے، سابق پولیس اہلکار نے کہا کہ بغیر شوکاز اور ضروری قانونی کارروائی کے نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا،عدالت نے غیرقانونی بھرتیاں کرنے والے افسران کیخلاف تفصیلات طلب کرلیں۔

مزید : قومی /علاقائی /سندھ /کراچی


loading...