وزیراعظم عمران خان نے او آئی سی میں اچھے نکات بیان کیے،سفارتی محاذ پر کشمیر کا مقدمہ پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے:لیاقت بلوچ

وزیراعظم عمران خان نے او آئی سی میں اچھے نکات بیان کیے،سفارتی محاذ پر کشمیر ...
وزیراعظم عمران خان نے او آئی سی میں اچھے نکات بیان کیے،سفارتی محاذ پر کشمیر کا مقدمہ پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے:لیاقت بلوچ

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستا ن لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ  وزیراعظم عمران خان نے او آئی سی میں اچھے نکات بیان کیے لیکن جم کر اور پوری وضاحت کے ساتھ مسئلہ کشمیر اور بھارتی مظالم اجاگر نہیں کیا،پاکستان کے عوام کشمیریوں کے پشتی بان ہیں، لازوال قربانیاں رنگ لائیں گی،قومی متفقہ کشمیر پالیسی اور سفارتی محاذ پر کشمیر کا مقدمہ پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے،نریندر مودی سے نتیجہ خیز مذاکرات اور خطہ میں امن کی توقعات احمقوں کی دوزخ میں رہنے کے مترادف ہے۔ 

منصورہ میں جے آئی کسان وفد سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ زراعت اور لائیو سٹاک قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن حکومتوں کی غلط پالیسی اور احمقانہ اقدامات کی وجہ سے غربت ، جہالت ، ظلم اور زیادتی بھی دیہاتوں کا مقدر بنا دی گئی ہے، مسلسل پیداوار ی لاگت بڑھنے سے زراعت بھی غیر منافع بخش ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قومی معیشت کو آئی ایم ایف اور بیرونی شکنجوں سے آزاد کرانے کے لیے پیداواری لاگت کم کی جائے ،پاکستان کی زراعت ، کسانوں اور ہاریوں کو بھارت کے برابر سہولتیں دی جائیں ،ڈالر ریٹ میں ہوشربا اضافہ سے زرعی ادویات کی خریداری ناقابل برداشت ہو گئی ہے،حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر ے وگرنہ زراعت اور کسان دم توڑ گیا تو یہ قومی سلامتی اور وقار کے لیے ڈیتھ وارنٹ بن جائے گا ۔ 

 لیاقت بلوچ نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے او آئی سی میں اچھے نکات بیان کیے لیکن جم کر اور پوری وضاحت کے ساتھ مسئلہ کشمیر اور بھارتی مظالم اجاگر نہیں کیے گئے،پاکستان کے عوام کشمیریوں کے پشتی بان ہیں،لازوال قربانیاں رنگ لائیں گی،قومی متفقہ کشمیر پالیسی اور سفارتی محاذ پر کشمیر کا مقدمہ پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے ،نریندر مودی سے نتیجہ خیز مذاکرات اور خطہ میں امن کی توقعات احمقوں کی دوزخ میں رہنے کے مترادف ہے ۔ 

لیاقت بلوچ نے کہاکہ ساہیوال میں نومولود بچوں کی ہلاکت بڑا سانحہ ہے،وزیراعلیٰ نے رپورٹ تو مانگ لی اس سے پہلے بھی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں ساہیوال سانحہ کی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے طلب کی تھی لیکن متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا،عوام لاوار ث اور حکومتی انسان دشمن نظام اور رویوں کا شکار ہیں،ظلم کا نظام بدلنے کے لیے بڑے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت بھی روایتی اور فرسودہ حکومت ہی ثابت ہوئی ہے ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور