انصاف میں تاخیر کا خاتمہ ای نظام اپنانا ہوگا!

انصاف میں تاخیر کا خاتمہ ای نظام اپنانا ہوگا!
انصاف میں تاخیر کا خاتمہ ای نظام اپنانا ہوگا!

  

عدالت عظمیٰ اور اعلیٰ عدالتوں میں عدالتی کام شروع ہو گیا اہم مقدمات کی سماعت ہو گی لیکن ماتحت عدالتیں بند ہیں قرنطائین کے اس دور میں، دنیا دو ماہ سے زیادہ کے لئے بند کر دی گئی تھی اور اس دوران نظام انصاف کو بھی روک دیا گیا تھا، کورونا وائرس کی وجہ سے انصاف تک رسائی اس وقت تک ملتوی کر دی گئی جب تک یہ وائرس ختم نہیں ہو جاتا یا کوئی ویکسین تیار نہ ہو جائے۔ وکلاء اور عام آدمی انصاف کے حصول کے لئے باقاعدہ مقدمات کی سماعت کے منتظر تھے نئے ایس او پیز بنائے جا رہے ہیں اور ان کی پیروی کی جا رہی ہے تاکہ وکلاء، عام آدمی اور قانون اور عدالتوں کے افسران کی سہولت ہو۔ امید ہے کہ کامیابی سے اس مسئلہ اور چیزوں کو جلد ہی باقاعدہ کر دیا جائے گا۔ قرنطینا کے اس دور میں، دنیا بدل چکی ہے اور چیزیں تیزی سے جاری نظام سے ورچوئل سسٹم میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔ ہماری عدالتوں میں بہت گنجائش موجود ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے تبدیلی لائی جائے۔ دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جو ٹیکنالوجی استعمال کر کے ای عدالتوں کے ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔ میں آپ کو اپنے ذاتی تجربے اور تجزیہ سے ایک نقطہ نظر پیش کرتا ہوں کہ ہم کس طرح فرق کر سکتے ہیں۔ یہاں مختلف نقطہ نظر ہیں لیکن ہمارے قانونی نظام میں سہ جہتی اقدامات ہوتے ہیں جن پر ہمیں غور کرنا ہوگا اور حل کرنا ہوگا پہلے ججوں کی سہولت، دوسرا استغاثہ/ مدعی وکلا کی سہولت اور تیسرا دفاع/ مدعی وکیلوں کی سہولت، میں آپ کو ان شعبوں کی ایک مختصر جھلک پیش کرتا ہوں جہاں ہم وکلاء اور عام آدمی کے فائدہ کے لئے ٹیکنالوجی کی ڈیجیٹلائزیشن کا استعمال کر سکتے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی اس ٹیکنالوجی کا کچھ حصہ استعمال کر رہا ہے لیکن اسے ورچوئل کورٹس اور ویبنار کے ساتھ اپ گریڈ کرنا ہوگا۔ ای بیئرنگ پورٹل کو شامل کر کے اس کی قدر میں اضافہ کرنا جہاں ای، عدالت تک رسائی صرف ان تمام نوجوان وکلا کو ملے جو معزز ججوں سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں اور اس گفتگو کے لئے ملک بھر کے بار ممبروں کو بھی یہ سہولت فراہم کی جا سکتی ہے/ مقدمات لڑنے والے سینئر وکلاء کے دلائل یک ٹائم اجازت کا محفوظ دو طرفہ عمل ہر وکیل کو اپنے ذاتی سیل فون نمبر اور ای میل کے ساتھ دیا جا سکتا ہے جب وہ ای کورٹ کے کمرے میں رازداری برقرار رکھنے اور ای کورٹ میں حاضر ہونا چاہتے ہوں یہ نظام اس وکیل کو بھی سہولت دے گا جو اگلی بار ای کورٹ کی کارروائی میں شریک ہوا ہو۔ ابتدا میں یہ سب آسان نہیں ہے کیونکہ سینئر وکلاء کی طرف سے سخت ناراضگی پائی جائے گی ا ور اکثر موجودہ نظام میں تبدیلی کی مخالفت کریں گے بہت سے سینئر وکلاء، جو عدالت میں کیس کی تیاری اور بحث کرنے میں بہت اچھے ہیں، شاید ڈیجیٹلائزیشن کے عمل سے نمٹنے کے قابل نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ بیشتر سینئر اور حتیٰ کہ نوجوان وکیل بھی اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے عادی نہیں ہیں بہر حال مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں معیشت اور حکمرانی کی ڈیجیٹلائزیشن کے پیش نظر دنیا کے ساتھ رفتار برقرار رکھنے کے لئے اپنایا جانا چاہئے۔

مستقبل میں، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس وکلاء، ایک بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ تحقیق، مقدمات کی تیاری اور دلائل کو اے آئی اور روبوٹکس کے ذریعے کیا جائے گا۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کے لئے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کی منظوری سے فیصلہ کرنا ہوگا ٹیکنالوجی اور سسٹم کو بہت دوستانہ ہونا چاہئے تا کہ ہر وکیل اس کو استعمال کرنے سے لطف اندوز ہو، جو کام کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے نظام کی اپ گریڈیشن اور تمام وسائل کے معیار کی بہتری جو احتساب اور شفافیت کو آسان بنائے گی۔ ای سسٹم کی موافقت میں رکاوٹ بار کونسلوں کی ناراضگی ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس کا نتیجہ عہدیداروں کا اثر و رسوخ کم کر سکتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں، اس سے ان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہی ہوگا اور ساری وکلاء برادری کی ترقی ہو گی اور یہ ان کی برادری میں ان کے حامیوں کو بڑھائے گی اور مستقبل کی کوششوں کے لئے فائدہ مند ہوگا۔

وکلاء کے اعتماد کو بڑھانے اور وکلاء کے اتفاق رائے کے لئے بار اور بنچ کا رشتہ بہت ضروری ہے۔ ان کے چہرہ کی رونمائی عدالت میں فرق پیدا کرتی ہے جب وہ ذاتی طور پر بحث کے لئے جاتے ہیں، ایسا طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے کہ ہر مقدمہ میں ایک وکیل معزز جج کے سامنے پیش ہونے کے لئے اپنی رضا مندی دے، دوسرے وکیل بھی اس کے ذریعے پیش ہو سکتے ہیں وہ ویب کے ذریعے یا ذاتی طور پر پیش ہونا چاہتے ہیں فیصلہ ان پر چھوڑ دینا چاہئے اس عمل کو شروع کرنے کے لئے صرف ان تمام امور کا نظام بنایا جا سکتا ہے جن کی ہمیں ضرورت ہے۔

ہر عدالت کے پاس وکلا کی ای پیشی اور میرٹ پر ان کے دلائل سننے کے لئے تمام مطلوبہ سہولیات ہونی چاہئیں۔ یہ تب ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہر ایک کی تربیت ہو جو اس عمل کا ایک حصہ ہے اور وہ وکلاء اور ججوں کی ترقی کے لئے ایک بہترین راستہ ثابت ہوگا۔ لہٰذا وہ اپنے علم اور تعلیم کو بڑھا سکتے ہیں یہاں کچھ خاص کردار ہیں جن کا ہونا ضروری ہے۔ ڈجیٹلائزیشن کے لئے ہی ای الیکٹرانک سے نظام متعارف ہوگا۔ ای فائلنگ اس عمل کا ایک بہت اہم حصہ ہے جسے وکلاء کی برادری کو سیکھنے اور اپنانے میں وقت لگے گا، خصوصی وسائل والے افراد کی ایک کھیپ کو تربیت دی جانی چاہئے جو وکلاء کی مدد کرے اور دستاویزات کو اسکین کرنے کے بعد دستاویزات کے ساتھ ساتھ مقدمات کے اندراج میں ابتدائی طور پر ان کی مدد کرے، دستاویزات کو منسلک کرنے اور اپ لوڈ کرنے کا عمل صارف دوست ہونا ضروری ہے لہٰذا وکلاء خوشی محسوس کریں اور کیس فائل کرنے والی دستاویزات کو اپ لوڈ کرنے میں سہولت فراہم کریں۔ تمام وکلاء کو اجازت دی جانی چاہئے کہ وہ نئے کیس کی ”ہارڈ کاپی“ پیش کر سکیں جب تک کہ وہ اپ لوڈ کرنے کے عمل کے اہل نہ ہوں، ہر وکیل اور اس کے کلرک کو لازمی طور پر نیا مقدمہ آن لائن درج کرانا سیکھنا چاہئے لہٰذا ایک بار جب ہارڈ کاپی کی سہولت بند ہو جائے تو انہیں اس میں کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔

مقدمات درج کرانے کے لئے مقدمے کی سماعت اور غلطی درست کرنے کی اجازت ہونی چاہئے تاکہ ای فائلنگ میں وکلاء کو درپیش تمام پریشانیوں کی نشاندہی ہو اور ان کو حل کیا جائے۔

جیل میں موجود تمام مجرموں کا مقدمہ جیل ای کورٹ کے کمرے سے ہی چلنا چاہئے جہاں مجرموں کو جیل سے اس کے سامنے آنے اور سننے کی سہولت ہو۔ علیحدگی یا رازداری کے لئے علیحدہ اسکرینوں کے ساتھ دو یا تین سے زیادہ کمرے ہونے چاہئیں تاکہ ملزم اس مقدمے کی سماعت میں شریک ہو سکے۔ اس سے مجرم کو مقدمے کی جلد سماعت کے لئے قانون کے مناسب عمل میں آسانی ہو گی کیونکہ جیل میں ایسے افراد کی تعداد بہت ہے جو قصور وار نہیں ہو سکتے یا نا معلوم وجوہات کی بنا پر غلط طور پر ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ انگلینڈ میں اعلیٰ عدالتوں نے مجسٹریٹ عدالتوں کی سطح پر بھی ای پیشی کی اجازت دی ہے جو ”کلاؤڈ ویڈیو پلیٹ فارم“ (سی وی پی) کے ذریعے ہو رہی ہے یہ سہولت کئی عدالتوں میں شامل کی گئی ہے

اسے صرف ایک ”براؤزر“ کی ضرورت ہے اور اس میں کسی سافٹ ویئر یا تشکیل کی ترتیب کی ضرورت نہیں عدالت آپ کو یو آر ایل (لنک) بھیجتی ہے اور آپ اس یو آر ایل پر کلک کرتے ہیں جو آپ کو عدالت/جج/ انصاف کی ویب سائٹ پر لے جاتا ہے اور پھر آپ اپنا نام داخل کرتے ہیں آپ ورچوئل کورٹ روم میں پیش ہوتے ہیں جب آپ اسے ٹیسٹ سے جوڑتے ہیں۔ آپ کا ویڈیو کنیکشن اور مائکرو فون آپ کو ورچوئل کورٹ روم میں لے جاتا ہے۔ ورچوئل کورٹ روم کے بائیں جانب آپ کے پاس تمام فریقوں کی تفصیلات موجود ہوتی ہیں جس میں عدالت میں جج، پراسیکیوٹر اور دوسرا وکیل موجود ہے جو معاشرتی فاصلے کو استعمال کر رہا ہے۔ کسی بھی پارٹی کے وکلاء کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ سی وی پی کے ذریعے دور سے حاضر ہوں۔

ای گواہان کا انتخاب کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی گواہی ریکارڈ کرانے کے لےء وقت سے پہلے عدالت سے وقت لے یا آن لائن پیش ہو اور اپنا مکمل بیان ریکارڈ کرائے جس کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

ای نوٹس کے اجراء پر وکلاء کی طرف سے بہت سارے تحفظات ہوں گے کہ سی پی سی میں لکھے گئے عمل کی تعمیل کی جانی چاہئے لیکن میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ باقاعدہ عمل کو روکا جائے یا یہ گزر جائے، حقیقت میں ای نوٹس آسان باقاعدہ پیغام کا اضافہ سیل فون، ای میل، وائس ایپ اور دیگر ضروری ایپلی کیشنز پر جو اب ہر ایک استعمال کر رہا ہے اس عمل کا حصہ بنانا چاہئے تاکہ آنے والے وقت میں لوگ مذکورہ بالا وسائل کو زیادہ اہمیت دیں اور نظر انداز نہ کریں بھارت میں، دہلی ہائی کورٹ میں سرکاری طور پر عدالت کے نوٹس اور سمن کو ویب ایکس میٹنگ کے ذریعے جاری کرنے کے عمل میں بہت زیادہ کام ہوتا ہے جہاں رسائی کے کوڈ/ میٹنگ، آڈیو یا ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہونے کی دعوت کے ساتھ ای تاریخ برائے سماعت ہوتی ہے۔ نمبر اور میٹنگ کا پاس ورڈ ان کی سہولت کے لئے دیا گیا ہے۔

انگلینڈ، جیلوں میں مجرموں کے لئے ای پیشی کا استعمال جیل ویڈیو لنک اور پی وی ایل کے ذریعے کیا جا رہا ہے جہاں فریقین میں سے ایک سی وی پی کے توسط سے شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے لئے ہر جیل میں یہ سہولت موجود ہوتی ہے۔ مختلف عدالتوں کے لئے ”ای ٹریل“ مختلف ہو سکتی ہے۔ فوجداری مقدمات کی سماعت میں اگر کوئی مجرم جیل میں ہے تو وہ وہاں سے ای پیشی کے طور پر پیش ہو سکتا ہے اور باقی گواہوں کو آن لائن پیشی یا ذاتی طور پر پیش ہونے کے لئے منتخب کیا جا سکتا ہے جیل میں بہت سارے بے گناہ لوگ ہیں جن کے مقدمات کی سماعت اس وجہ سے تاخیر کا شکار ہے کہ انہیں عدالت میں نہیں لایا جا سکتا اور یہ سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے اب اس قسم کے معاملات کو ترجیح دی جانی چاہئے لہٰذا کسی بھی بے گناہ شخص کو اس کا سامنا نہیں کرنا چاہئے۔ نقصان اس وقت تک ہوگا، جب تک انہیں اپنا معاملہ پیش کرنے کا مناسب موقع نہ دیا جائے۔

دیوانی معاملات میں اس نظام کے تحت عدالت کو وقت طے کرنا پڑے گا۔ سول یا قانون کی دیگر تمام عدالتوں میں ای پیشی کی صورت میں، منصفانہ مقدمے کی سماعت کو یقینی بنانے کے لئے بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا جانا چاہئے اور اس کی تعمیل کی جانی چاہئے۔ جیسا کہ عدالتوں کے بارے میں کہا گیا ہے، ابتدا میں کچھ وقت کے لئے، تمام وکلا کو آن لائن یا ذاتی طور پر پیش ہونے کا اختیار ہونا چاہئے اور باقی لوگوں جیسے کہ گواہ، مدعی، مدعا علیہان، کو یہ اختیار ضرور دینا چاہئے کہ وہ عدالت سے خصوصی اجازت لینے کی صورت میں آن لائن سماعت کا حصہ بن سکیں، وکلاء، ججوں اور عدالتوں کے عملے کی زندگی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے سخت ”ایس او پیز“ بنائے جائیں، نجی افراد کے داخلے کی اجازت صرف عدالت کی مناسب اجازت سے ہونی چاہئے۔

اس نظام سے توانائی، ماحول، رقم، وقت اور وسائل کی بچت ہوتی ہے۔ وکلاء اور عام آدمی کے فائدہ کے لئے اس ٹیکنالوجی کی تشکیل، استعمال اور سہولت فراہمی سے بہت فرق پڑے گا۔

اس تبدیلی اور نظام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وکلاء کے لین دین کا معمول ترک کر دیا گیا ہے، حقیقت میں یہ ٹیکنالوجی پورے نظام عدل اور قانون کے مقررہ عمل کی قدر میں اضافہ کرے گی۔ اس سے پہلے، ٹیکنالوجی کے استعمال کی ابتدا سپریم کورٹ کے موجودہ معزز جج جناب منصور علی شاہ نے کی تھی۔ لوگ ان کو ان اقدامات کے لئے یاد کرتے ہیں۔ اب ان لوگوں کے لئے ایک موقع ہے جو چاہتے ہیں کہ ان کا نام سنہری الفاظ میں لکھا جائے اور ان کے کام کو آئندہ لوگ یاد رکھیں۔

مزید :

رائے -کالم -