نیب کے شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے ماڈل ٹاؤن، جاتی امرا میں چھاپے، عدم موجودگی کے باعث بچ گئے، درخواست ضمانت کی آج سے سماعت ہو گی

  نیب کے شہباز شریف کی گرفتاری کیلئے ماڈل ٹاؤن، جاتی امرا میں چھاپے، عدم ...

  

لاہور (کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے چیئرمین کے حکم پر میاں شہباز شریف کو گرفتار کرنے ان کی ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ 96 ایچ چھاپہ مارا لیکن کافی دیر بعد انھیں بتایا گیا کہ اپوزیشن لیڈر یہاں موجود نہیں ہیں۔ جس کے بعدنیب کی ٹیم اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو گرفتار کرنے جاتی امراء چلی گئی وہاں بھی نہب کی ٹیم شہباز شریف کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں گزشتہ روزنیب کے طلبی کے نوٹس پر پیش نہ ہوئے تاہم انہوں نے اپنے نمائندے کے ذریعے جوابات بھجوائے۔ شہباز شریف کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ وہ 69 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور کینسر کے مریض بھی ہیں جبکہ لاہور سمیت ملک بھر میں کورونا وائرس بھی پھیل رہا ہے،کرونا خدشات کے باعث میں پیش نہیں ہوسکتا،نیب نے اپنی جوتحقیقات کرنی ہیں تو مجھ سے ویڈیو لنک اور سکائپ کے ذریعے نیب جواب لے سکتا ہے۔نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے شہباز شریف کے جواب کا تفصیل سے جائزہ لینے کے بعد اجلاس منعقد کیا جس میں تمام تر صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں نیب کی ٹیم پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ شہباز شریف کی ماڈل ٹاؤن میں واقع رہائشگاہ96ایچ پر پہنچ گئی تاہم سکیورٹی گاررڈز کی جانب سے مرکزی دروازے کو بند رکھا گیا۔ متعلقہ پولیس اسٹیشن سے پولیس کی بھاری نفری اور اینٹی رائیٹس فورس کے دستے بھی ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے جنہوں نے شہباز شریف کی رہائشگاہ کی طرف آنے والے راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم اورنگزیب، رانا مشہود، عظمیٰ بخاری، ملک محمد احمد خان، سمیع اللہ خان، خواجہ عمران نذیر سمیت دیگر رہنما بھی شہباز شریف کی رہائشگاہ پہنچ گئے۔ لاہور کے مختلف علاقوں سے (ن) لیگ کے کارکن بھی ماڈل ٹاؤن پہنچے تاہم پولیس نے انہیں آگے جانے سے روکدیا جس پر انہوں نے پولیس سے تلخ کلامی بھی کی تاہم پولیس نے انہیں آگے نہ جانے دیا جس پر کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیدیا اور حکومت اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔ رانا مشہود اور دیگر رہنماؤں نے نیب کی ٹیم سے وارنٹ گرفتاری اور سرچ وارنٹ دکھانے کا مطالبہ کیا جس پر نیب کی جانب سے انہیں دستاویزات دکھا ئی گئیں۔ بعد ازاں نیب کی ٹیم شہباز شریف کی رہائشگاہ کے اندر داخل ہو گئی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ نیب کی ٹیم نے فیملی سیکشن میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق شہباز شریف کے گھر میں داخل ہونے والے افسران کے مطابق انہیں چائے پیش کی گئی تاہم کسی نے بھی فیملی سیکشن میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ نیب کی ٹیم تقریباً ایک گھنٹہ تک شہباز شریف کی رہائشگاہ کے اندر موجود رہی اور بعد ازاں خالی ہاتھ واپس لوٹ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شہبز شریف کے ماڈل ٹاؤن کے گھر میں موجود نہ ہونے کے باعث نیب کی ایک ٹیم جاتی امراء رائے ونڈ بھی گئی۔ علاوہ ازیں پولیس اور نیب کی ٹیم نے رکن اسمبلی سہیل شوکت بٹ کے ڈیرے پر بھی چھاپہ مارا۔ مگر وہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہم اس سیاسی انتقام سے بھاگنے والے نہیں ہیں، کل ہائیکورٹ میں پیش ہونگے۔مریم اورنگزیب نے الزام عائد کیا کہ تمام چیزیں وزیر اعظم کے حکم پر ہو رہی ہیں۔ پوری قوم انتقامی کارروائی سے واقف ہے۔ نیب نیازی گٹھ جوڑ کی کارروائی سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی نیب کارروائیوں کو کارروائیاں بدنیتی قرار دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بلین ٹری سونامی اور چینی چوری ہوئی لیکن کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ چینی چوری رپورٹ پر نیب کا نوٹس کدھر گیا؟ چینی چور وزیراعظم کو ہاتھ لگانے کی کسی میں جرات نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نیب میں پیش ہوتے رہے ہیں، انہوں نے ہر پیشی پر سوالنامہ جمع کرایا۔ شہباز شریف نے نیب کو خط میں بتایا کہ نیب کے افسران کو کورونا ہو گیا ہے، اس لیے پیش نہیں ہو سکتے۔

نیب چھاپہ

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس محمد طارق عباسی اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ میاں محمد شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی آج 3جون کو سماعت کرے گا،اس سلسلے میں کاز لسٹ جاری کردی گئی ہے،یہ درخواست پیر کے روز دائر کی گئی تھی اور گزشتہ روز اس کی سماعت ہونا تھی تاہم بوجوہ یہ درخواست فاضل بنچ کی کاز لسٹ میں شامل نہیں ہوسکی تھی،اب اس کی سماعت آج 3جون کو ہوگی،میاں شہباز شریف نے اپنے درخواست میں موقف اختیار کررکھاہے کہ وہ 1972 ء سے بزنس کے شعبہ سے وابستہ ہیں جبکہ 1988ء میں انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا،موجودہ حکومت سیاسی مخالفت کی بنا پرانہیں انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے،وہ زراعت،شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے کاروبار سے منسلک رہے ہیں،نیب نے بدنیتی کی بنیاد پر آمدنی سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے، موجودہ حکومت کے سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کر رکھی ہے،نیب کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزامات عمومی نوعیت کے ہیں،2018 ء میں بھی انہیں گرفتار کیا گیا تھا،دوران حراست میں نے نیب کے ساتھ بھرپور تعاون کیا،2018 ء میں گرفتاری کے دوران نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا،درخواست میں مزیدکہاگیاہے کہ نئی نیب ایسے کیس اپنے اختیار کا استعمال نہیں کرسکتا جس میں کوئی ثبوت نہ ہو جب سے عملی سیاست میں قدم رکھا ہے اپنے تمام اثاثے گوشواروں میں ظاہر کئے ہیں،منی لانڈرنگ کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں،نیب انکوائری کے دوران نیب اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے خلاف استعمال نہیں کرسکتا،نیب انکوائری دستاویزی نوعیت کی ہے اور تمام کاغذات پہلے ہی نیب کے قبضے میں ہیں،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب انکوائری میں نیب کی جانب سے ایک مرتبہ پھر گرفتار ی کا خدشہ ہے،نیب کو گرفتاری سے روکاجائے اوردرخواست کے حتمی فیصلے تک عبوری ضمانت منظور کی جائے۔

درخواست ضمانت

مزید :

صفحہ اول -