امریکہ میں ہنگامے 350شہروں تک پھیل گئے، ٹرمپ کا واشنگٹن میں فوج تعینات کرنے کا اعلان

    امریکہ میں ہنگامے 350شہروں تک پھیل گئے، ٹرمپ کا واشنگٹن میں فوج تعینات ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) واشنگٹن ڈی سی اور نیو یارک سمیت متعدد شہروں میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلات کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران شرپسند عناصر توڑ پھوڑ اور دکانوں کو لوٹنے میں بھی مصروف رہے اوران پر قابو پانے کی کوشش کرنے والے کم ازکم پانچ پولیس افسروں پر گولی چلائی گئی اور حملے ہوئے جنہیں ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر نیم فوجی دستے نیشنل گارڈز ریاستی انتظامیہ کی مدد کرنے کے لئے متعدد ریاستوں میں پہنچ گئے ہیں تاہم ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر نیشنل گارڈز کی مدد لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ سوموار کی شام واشنگٹن ڈی سی کے قابو سے باہر ہونیوالے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فوجی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔ نیو یارک کے سٹوروں میں وسیع لوٹ مار کے واقعات کے بعد صدر ٹرمپ نے گورنر کومو کو ہدایت کی کہ وہ شرپسندوں پر قابو پانے کیلئے نیشنل گارڈز کو متحرک کریں۔ ٹیلی ویژن کی نشریات میں بتایا گیا ہے کہ نیویارک میں جہاں کچھ مظاہرین پرامن رہے وہاں متعدد شرپسند عناصر نے راک فیلر سنٹر کے قریب دکانوں کے شیشے توڑ دیئے اور 39ویں سٹریٹ پر مشہور ڈیپارٹمنٹل سٹور ”میسی“ کے اندر گھس کر قیمتی سامان لوٹ کر لے گئے۔ نیو یارک ریاست کے شہر بفیلو میں ایک بڑی گاڑی پولیس افسروں پر چڑھ دوڑی جن میں سے تین شدید زخمی ہوگئے۔ صدر ٹرمپ کو ڈیموکریٹک گورنر کومو سے شکایت ہے کہ وہ جان بوجھ کر نیشنل گارڈ کو متحرک نہیں کر رہے تاکہ بدامنی کی فضا برقرار رہنے سے وفاقی حکومت کو مشکلات میں اضافہ ہو۔ تاہم گورنر کومو نے تسلیم کیا کہ ان کی پولیس لوٹ مار کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے پورے ملک میں مظاہرین سے نمٹنے کی صدر ٹرمپ کی پالیسی پر بھی شدید نکتہ چینی کی۔ گورنر نے خرابی کی ذمہ داری نیویارک کے میٹریل ڈی بلالیو پر ڈالتے ہوئے کہاکہ انہیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے کم ازکم 38 ہزار پولیس فورس استعمال کرنی چاہئے تھی۔ واشنگٹن ڈی سی میں فوجی ہیلی کاپٹر مظاہرین کے سروں پر سو سے تین سو فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے رہے جس سے مظاہرین میں خوف و ہراس پیدا ہوا اور منتشر ہونے لگے۔ معلوم ہوا ہے کہ سوموار کی شب وائٹ ہاؤس کے قریب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فوجی دستوں نے ان پر آنسو گیس پھینکی۔ قبل ازیں صدر ٹرمپ ہزاروں فوجی دستوں کو واشنگٹن ڈی سی میں امن و امان کے قیام کے لئے پوزیشن سنبھالنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ ”میں لاء اینڈ آرڈر صدر ہوں“ ادھر ٹیکساس ریاست کے اٹارنی جنرل نے اعلان کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے جو مظاہرین دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے پائے گئے ان کے خلاف باقاعدہ مقدمے چلائے جائیں گے۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق پورے ملک کے 350 سے زائد شہروں میں ہنگامے پھوٹے ہیں جبکہ ان میں سے 23 شہروں میں صدر ٹرمپ کی ہدایت پر نیشنل گارڈز ریاستی انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔

ہنگامے

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں بڑی تعداد میں مسلح افواج تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مسلح افواج تعینات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن میں بے امنی انتہائی ذلت آمیز ہے، لاقانونیت اور تشدد کے خاتمے کے لیے فوج کو متحرک کیا جائے گا، بطور صدر میری پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری امریکا اور اس کے شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوٹ مار، جلاؤ گھیراؤ کو روکنے کے لیے ہزاروں فوجی تعینات کر رہا ہوں، ذمیداروں کو بھاری جرمانے اور طویل وقت کے لئے قید کی سزائیں دلائیں گے۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ جارج فلائیڈ کیس میں انصاف فراہم کیا جائے گا۔دوسری جانب نیویارک کے گورنر انڈریو کومو نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی شہریوں کے خلاف امریکی فوج کو طلب کیا ہے تاکہ وہ چرچ کے باہر تصاویر بنوا سکیں، یہ صدر کے لیے محض ایک ریئلیٹی ٹی وی شو ہے۔ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولس میں گزشتہ دنوں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد مختلف ریاستوں میں گزشتہ ہفتے سے ہنگامے اور فسادات جاری ہیں۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جارج فلوئیڈ کی ہلاکت میں ملوث چاروں اہلکاروں کو سزا دی جائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا میں مظاہروں کو روکنے کے لیے فوج تعینات کرنے کے اعلان پر امریکی ریاست نیویارک کے گورنر انڈریو کومو اور گورنر الینوئس جے رابرٹ پریٹزگر نے انہیں ہدفِ تنقید بنایا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی ریاست نیویارک کے گورنر انڈریو کومو نے کہا کہ فلائیڈ کے ہلاکت امریکی تاریخ کا شرمناک باب ہے، پرامن مظاہرین کے خلاف فوج کی تعیناتی مضحکہ خیز ہے۔جاری کیے گئے ایک بیان میں گورنر نیویارک انڈریو کومو نے کہا کہ ہمیں پولیس کے تشدد اور ناانصافی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بہت ہوگیا، اور کتنے لوگوں کو ماریں گے؟ انتہا پسند گروپ دائیں بازو میں ہیں اور بائیں بازو میں بھی، یہ سب جانتے ہیں۔گورنر نیویارک کا یہ بھی کہنا تھا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر شدید تشویش ہے، مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال شرمناک ہے۔امریکی ریاست الینوئس کے گورنر جے رابرٹ پریٹزگر کا کہنا تھا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیان بازی اشتعال انگیز ی ہے گورنر جے رابرٹ پریٹزگر کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ کی اشتعال انگیز بیان بازی پر شدید تشویش ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وائٹ ہاوس سے ہونے والی بیان بازی حالات کو مزید مشکل بنا رہی ہے، ہمیں ایسی قومی قیادت کی ضرورت ہے جو تحمل و برداشت کی اپیل کرے۔اقوام متحدہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے سلسلے میں صبر و تحمل سے کام لے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکہ سے کہا کہ وہ مظاہرین کے مقابلے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے۔گزشتہ ایک ہفتے سے امریکہ کے پچاس سے زائد شہروں میں نسل پرستی، عدم مساوات اور پولیس کے ظلم و تشدد کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس کا دائرہ اس وقت امریکہ سے باہر نکل کر برطانیہ، ڈنمارک اور کینیڈا سمیت مختلف یورپی اور مغربی ممالک تک جا پہنچا ہے۔دریں اثنا امریکا میں سیاہ فام شہری کی موت کو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل قرار دے دیا گیا۔ مقتول کو حراست اور تشدد کے دوران دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے نے بتایاکہ سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جارج فلائیڈ کو دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔ جبکہ رپورٹ میں گردن سختی سے دبانے کی تصدیق بھی ہوگئی ہے۔مقتول کو پہلے سے دل کی بیماری تھی۔قبل ازیں جارج فلائیڈ کے اہل خانہ کی جانب سے کرائے گئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں بھی موت کی وجہ گردن اور کمر کو دبانا قرار دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکا کے کئی شہروں میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

فوج تعینات

مزید :

صفحہ اول -