صوبائی دارالحکومت میں کوروان وباء پھیل گئی، شہر کے 8زونزخطرناک قرار

  صوبائی دارالحکومت میں کوروان وباء پھیل گئی، شہر کے 8زونزخطرناک قرار

  

لاہور (جنرل رپورٹر)پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کے پوش و گنجان آباد علاقوں میں سب سے زیادہ کروناوائرس کے کیسز کا انکشاف ہوا ہے دوسری طرف یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دیہی و کھلے علاقوں اور احتیاط تدابیر اختیار کرنے والے میں کیسز کم ہوے ہیں محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سمارٹ و رینڈم سمپلنگ میں شہر کے10 میں سے8 زونز خطرناک قرار دیے گئے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سمارٹ سیمپلنگ میں سمن آباد اور کینٹ زون سے 14.7 فیصد کورونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے سمارٹ سیمپلنگ میں داتا گنج بخش زون بھی حساس قرار،سمن آباد زون کی سمارٹ سیمپلنگ میں اچھرہ، گلشن راوی، سمن آباد اور چوبرجی سمیت اطراف کی 40 آبادیوں سے کیسز رپورٹ ہوے۔کینٹ زون میں غازی روڈ، والٹن روڈ اور کماہاں سمیت اطراف کی 36 آبادیوں سے کورونا کیسز سامنے آئے۔ داتا گنج بخش زون میں مال روڈ، لارنس روڈ، کوئنز روڈ اور اطراف کے 32 علاقوں سے کیسز سامنے آئے،اقبال ٹاون زون میں جوہرٹاون، واپڈا ٹاؤن سمیت اطراف کی 26 سوسائٹیز بھی ریڈ زون میں شامل ہیں، شالیمار زون میں بیگم پورہ، گھوڑے شاہ، کوٹ خواجہ سعید سمیت اطراف کی 24 آبادیوں سے کورونا وائرس کے کیسز رپورٹ۔گلبرگ زون میں ٹاؤن شپ، مین بلیوارڈ گلبرگ اور مغلپورہ سمیت 20 مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے، راوی ٹاون زون میں شاہدرہ، شاہ عالم مارکیٹ اور 17 قریبی آبادیوں سے کورونا کیسز سامنے آئے، عزیز بھٹی زون میں ہربنس پورہ،عازی آباد روڈ سمیت اطراف کے 15 علاقے کورونا سے شدید متاثر،واہگہ ٹاون اور نشتر ٹاؤن میں مریضوں کے مثبت ہونے کی شرح 2.11 فیصد ہے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے سربراہ وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ وائرس کی لوکل ٹرانسمیشن 90 فیصد سے زائد پھیل چکی ہے جس سے کیسز کی تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے۔جاوید اکرم نے مزید کہا کہ شہر میں 80 فیصد مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہیں،15 فیصد مریضوں میں درمیانی بیماری جبکہ 5 فیصد سنجیدہ نوعیت کے مریض ہیں۔

خطرناک قرار

مزید :

صفحہ اول -