300ارب روپے کے زرعی منصوبوں پر عملدر آمد جاری،نعمان احمد لنگڑیا ل

300ارب روپے کے زرعی منصوبوں پر عملدر آمد جاری،نعمان احمد لنگڑیا ل

  

لاہور(سٹی رپورٹر) حکومت کی کسان دوست پالیسیوں اور کاشتکاروں کی محنت کے باعث ربیع2019-20 کی فصلات کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سال پنجاب میں گندم کی 1کروڑ 94لاکھ ٹن پیداوارحاصل ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں 10لاکھ23ہزار ٹن زیادہ ہے۔اسی طرح صوبہ پنجاب میں چنے کی 4لاکھ30ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں 53ہزار ٹن زیادہ ہے۔کینولہ کی فصل1لاکھ10 ہزار ایکڑ رقبے پر کاشت ہوئی جس سے76ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوئی ہے جو پچھلے سال کے مقابلہ میں دوگنا ہے یہ بات وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگڑیال نے زراعت ہاؤس لاہور میں صوبہ پنجاب میں فصلات کی کارکردگی اور ٹڈی دل کی موجودہ صورتحال بارے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔پریس کانفرنس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت(توسیع) ڈاکٹر انجم علی، ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات پنجاب محمد رفیق اخترسمیت میڈیا کے نمائندگان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگڑیال نے مزید بتایا کہ صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت نے کاشتکاروں سے 40لاکھ ٹن سے زیادہ گندم کی خریداری کرچکی ہے۔ اس مقصد کے لئے حکومت پنجاب نے 256ارب روپے کے فنڈ مختص کئے۔ زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت 300 ارب روپے کے مختلف منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔اس کے علاوہ حال ہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے 56.6 ارب روپے کے زرعی پیکج کی منظوری دی گئی ہے۔ ٹڈی دل کی موجودہ صورتحال بارے میڈیا کو بریف کرتے ہوئے وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگڑیال نے بتایا کہ صوبہ پنجاب کے25 اضلاع میں ٹڈی دل کی وجہ سے کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت کے تمام متعلقہ ادارے بشمول محکمہ زراعت پنجاب شروع سے ہی ٹڈی دل کی سرویلنس اور کنٹرول کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے 1ارب روپے کی خطیر رقم جاری کی ہے اور ٹڈی دل کی موثر نگرانی کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنا سرکاری ہیلی کاپٹر بھی وقف کردیا ہے۔پنجاب لوکسٹ کنٹرول پلان کے تحت پی ڈی ایم اے کی طرف سے تمام متاثرہ اضلاع میں کنٹرول رومز قائم کردئیے گئے ہیں۔

محکمہ زراعت پنجاب اور دیگر متعلقہ ادارے بشمول پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، فیڈرل پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اور پاکستان آرمی کی ٹیمیں ٹڈی دل سے متاثرہ 25 اضلاع (بھکر،بہاولپور،بہاولنگر،خوشاب،راجن پور، ڈی جی خان، لیہ، جھنگ، میانوالی، اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، رحیم یارخان، قصور، ملتان، لودھراں، وہاڑی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اٹک، فیصل آباد، مظفرگڑھ، چکوال، جہلم، سرگودھا اور چنیوٹ) میں ٹڈی دل کے کنٹرول کے لئے آپریشن جاری ہے اور اب تک1 کروڑ47لاکھ ایکڑرقبے کی سرویلنس کاکام مکمل ہوچکا ہے۔محکمہ زراعت پنجاب اور دوسرے اداروں کی 3 ہزار افراد پر مشتمل ٹیمیں ٹڈی دل کے کنٹرول کے لئے دن رات کام کر رہی ہیں اوراب تک صوبہ پنجاب میں جدید آلات ومشینری کے ذریعے 7لاکھ56ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر75ہزار لٹرزرعی ادویات کا سپرے کیا جاچکا ہے۔ٹڈی دل کے موثر تدارک کیلئے زمینی سپرے کے ساتھ ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ہوائی سپرے بھی کیا جا رہا ہے۔ا س وقت ٹڈی دل مائیگریشن کا عمل جاری ہے۔ٹڈی دل تاحال چولستان کی طرف محوِ سفر ہے جہاں محکمہ زراعت و دیگر متعلقہ اداروں کی خصوصی ٹیمیں موجود ہیں جو اس کے تدارک کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہیں۔

مزید :

کامرس -