سندھ کی اپوزیشن جماعتوں کا جعلی ڈومیسائل کا معاملہ اسمبلی میں اٹھانے کا فیصلہ

  سندھ کی اپوزیشن جماعتوں کا جعلی ڈومیسائل کا معاملہ اسمبلی میں اٹھانے کا ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کورونا کے معاملے پر تین جو کو ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے سندھ میں جعلی ڈومیسائل اور سرکاری ملازمتوں کی بندربانٹ کا معاملہ زیر بحث لانے لانے کا مطالبہ کردیا ہے اور ایم کیو ایم پاکستان جی ڈی اے کے رہنماؤں نے سندھ اسمبلی میں جعلی ڈومیسائل کے معاملے پر اپنی اپنی قرار دادیں جمع کرادی ہیں قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مبینہ کرپشن اور بے قاعدگیوں کا سہارا لیتے ہونے سندھ حکومت نے پیسے لے کر جعلی ڈومیسائل بنائے اور تمام سرکاری نوکریوں کو فروخت کیا ہے. گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماں نے جعلی ڈومیسائل کے حوالے سے قرارداد جمع کرا نے کے بعد نصرت سحر عباسی نے کہا کہ جعلی ڈومیسائل کا مسئلہ اب پورے سندھ کا مسئلہ بن چکا ہے سندھ میں رہنے والوں کا نوکریوں پر پہلا حق ہیکرپشن اور نا اہلی کے پیروں تلے سندھ کے لوگوں کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں قرارداد میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل نہیں دیا جائے گا جنہوں نے جعلی ڈومیسائل بنوایا یا بنایا ان کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ اس غیر قانونی عمل کو روکا جاسکے،نصرت سحر عباسی نے کہا کہ جعلی ڈومیسائل کا مسئلہ اب پورے سندھ کا مسئلہ بن چکا ہے سندھ کے لوگ لاکھوں روپے خرچ کر کے اپنے بچوں کو تعلیم دلواتے ہیں ہماری دوسرے صوبوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔جو جس صوبے میں رہتا ہے اسکا اپنے صوبے میں سرکاری ملازمت پر پہلا حق ہے. قرارداد میں کہا گیا ہے جعلسازی ملوث عناصر کوگرفتار کیا جائے،جی ڈی اے نے جعلی ڈومیسائل پر چھان بین کے لیے بنای گئی حکومتی کمیٹی کو مسترد کردیا اور کہا کہ حکومتی کمیٹی بلی کو دودھ کی رکھوالی پر لگانے کے مترادف ہے ہر معاملے پر بلاول ٹوئٹ کرتے ہیں اس معاملے پر بلاول کہاں غائب ہیں ہم نہیں چاہتے وہ لوگ ہم پر مسلط ہوں جن کا ہمارے صوبے سے تعلق نہیں جے ڈی اے کے رہنما حسنین مرزا نے کہا کہ سندھ کا اہم مسئلہ آپکے سامنے لے کر آئے ہیں۔جی ڈی اے کی جانب سے یہ قرارداد اسمبلی میں جمع کروائی ہے سندھ حکومت کے پیروں تلے ہمارے حقوق روندے جاتے ہیں جعلی ڈومیسائلز پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ہمارا کوٹہ اس ڈومیسائل کے تحت ہمیں دیا جاتا ہے ہم دو ٹوک الفاظ میں جعلی ڈومیسائل کو مسترد کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اسمبلی میں اس قرارداد پر بات ہو. ایم۔کیو ایم پاکستان کے رہنماوں نے سندھ اسمبلی میں جعلی ڈومیسائل کے حوالے سے اپنی قرار داد جمع کراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کرپشن اور بیقاعدگیوں میں شامل ہے سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، سندھ اسمبلی میں کنور نوید جمیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرار داد میں سندھ میں جو بھی نوکریاں دی جارہی ہے وہ حکومت سندھ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہی دی جائیں جو نوکریاں انکے اپنے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دی گئی ہے، انہیں فارغ کیا جائے جو لوگ بھی جعلی ڈومیسائل کے معاملے میں ملوث ہے انکے خلاف جلد کاروائی عمل میں لائی جائے.صرف سندھ میں ہی دہی اور شہری کی تقسیم کی گئی موجودہ سندھ حکومت شہری کوٹہ سسٹم میں بھی غبن کر رہی ہے اور پسندیدہ لوگوں کو ملازتوں ہر بھرتی کر رہی ہے۔سندھ حکومت نے پیسے لے کر جعلی ڈومیسائل بنائے اور تمام نوکریوں کو بیچ دیا سندھ حکومت نے جعلی ڈومیسائل بناکر سینکڑوں روپے کی کرپشن کی جب ہماری شنوائی نہیں ہوئی تو ہم عدالت بھی چلے گئے. خواجہ اظہار الحسن نے جعلی ڈومیسائل پر عدالت میں پٹیشن داخل کی ہوئی ہے ہمارا مطالبہ ہیکرپشن اور سرکاری بے قاعدگیوں میں شامل ہے سرکاری لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائیحکومت سندھ نے یہاں سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کو نظر انداز کرکے اپنے جاہل لوگوں کو ملازمتوں پر بھرتی کر رہی ہے۔قرار داد کے حوالے سے ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ صوبے میں شفاف نوکریوں کی فراہمی یقینی بناء جائے گریڈ ایک سے پندرہ کی ملازمتوں میں مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے اورگریڈ سولہ سے بائیس تک کی بھرتیوں میں دیہی اور شہری سندھ کے کوٹے پر سو فیصد عمل کرایا جائے جبکہ جعلی ڈومیسائل اور پی آر سی بنانے والوں کے خلاف حکومت سخت کارروائی کرے۔ انہوں نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے بدعنوان افسران کے خلاف کارروائی کآ مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت سے کون خوش ہے؟ کیاگندہ پانی پینے والے سندھ حکومت سیخوش ہیں سندھ کے نام پر سندھ کے بھائیوں کو دھوکہ دیاجاتاہے.

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -