پشاور،آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشنز کا احتجاجی مظاہرہ

پشاور،آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشنز کا احتجاجی مظاہرہ

  

پشاور (سٹی رپورٹر)آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشنز خیبرپختونخوا نے دیگر سیکٹر کی 24 ارب روپے کی ماہانہ سبسڈی کا بوجھ سی این جی سیکٹر پر ڈالنے کے خلاف گزشتہ روز پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی قیادت ایسوسی ایشن کے صوبائی چیئرمین فضل مقیم خان اور دیگر کر رہے تھے اس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے حق میں نعرے درج تھے انہوں نے کہا کہ سی این جی واحد سیکٹر ہے جوکہ ماحول دوست اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ میں ممدو معاون ہونے کے ساتھ 5 لاکھ ملازمین اور ان سے جڑے خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے تاہم یہ اہم سیکٹر حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے جس کی وجہ سے سی این جی سیکٹر سے وابستہ افراد کو شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے باوجود حکومت کی جانب سے سیکٹر پر توجہ نہ دینا ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی ڈوبنے سے ملکی معیشت کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس ٹیرف کو جون 2018والے پرانے ریٹ 700 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک لائی جائے کیونکہ موجودہ قدرتی گیس کا ریٹ دیگر صنعتوں کے مقابلہ میں کافی زیادہ ہے بالخصوص پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی سطح پر بتدریج کمی آرہی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے پنجاب میں کئی سی این جی پمپس بند ہوچکے اور اب خیبر پختونخوا میں بھی بند ہورہے ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے دعوی کیا تھا کی ایک کروڑ نوکریاں دیں گے جس میں کوئی صداقت نظر نہیں ارہی ہے جو کہ ہمارے ساتھ سراسر نا انصافی ہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -