صنعتکاروں کا دور وزہ لاک ڈاؤن کو برقرار رکھنے کے فیصلے کی مخالفت

صنعتکاروں کا دور وزہ لاک ڈاؤن کو برقرار رکھنے کے فیصلے کی مخالفت

  

پشاور (سٹی رپورٹر)خیبر پختونخواکے تاجروں اور صنعتکاروں نے وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا لاک ڈان کو برقراررکھنے کے فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لاک ڈان کو متفقہ SOPs کے تحت فوری طور پر ختم کیا جائے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اعلان کردہ 100 ارب روپے کے تحت بزنس کمیونٹی کو ری فنڈز کی رقم بلا امتیاز اور بلا تفریق ادائیگیوں کو یقینی بنایا جائے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں کورونا لاک ڈان سے متاثرہ تاجروں اور صنعتکاروں کے تمام ٹیکسز آئندہ ایک سال کے لئے معاف کئے جائیں۔ گندم کی پنجاب سے سپلائی کی پابندی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اسے فوری طور پر ختم کیا جائے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں گندم کی خیبر پختونخوا کو ترسیل یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات کرے۔ سرکاری عمارات کا کرایہ معاف کیا جائے جبکہ نجی عمارتوں کا کرایہ کاروباری کرایہ داروں کیلئے حکومت ادا کرے۔ گذشتہ روز سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر مقصود انورپرویز نے صنعتکاروں ایکسپورٹرز تاجر رہنماں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈان کوئی حل نہیں جب کورونا کامقابلہ کرنا ہے توہ ایس او پیز پر عمل کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پہلے ہی تاجر برادری کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کم اور مختصر وقت میں بازاروں میں زیادہ ہجوم اور رش ہوجاتا ہے اس لئے حکومت اپنے لاک ڈان کے فیصلے پر نظرثانی کرکے 24 گھنٹے بازاروں کو کھلنے کا حکم جاری کرے تاکہ رش کم ہو۔ پریس کانفرنس کے دوران سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر شاہد حسین نائب صدر عبدالجلیل سابق صدر ایف پی سی سی آئی غضنفر بلور سرحد چیمبر کے سابق صدور ریاض ارشدحاجی محمد افضل فیض محمد فیضی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین آفتاب اقبال جنید الطاف احسان اللہ مجیب الرحمان الطاف بیگ نثاراللہ خان شمس آفریدی اورمحمد شفیق آفریدیمرکزی تنظیم تاجران خیبر پختونخوا کے صدر مہر الہی محمد انیس اشرف اور دیگر تاجر رہنما صنعتکاروں ایکسپورٹرز اور امپورٹرز کافی تعداد میں موجود تھے۔ سرحد چیمبر کے صدر انجینئر مقصود انورپرویز نے کہاکہ دنیا بھر جس میں انڈیا امریکہ اور یورپین ممالک شامل ہیں جہاں پر کورونا سے زیادہ تر افراد کی اموات اور متاثر ہوئے ہیں مگر وہ لاک ڈان کے خاتمے کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 5 دن نہیں 7 دن کاروبار کھولنے کا اعلان کیا جائے اور 24 گھنٹے کام کرنے دیا جائے کیونکہ جتنا کم وقت دیا جائے گا ہر جگہ رش ہوگی اور کورونا کا تیزی سے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ حج عمرے کے لئے لوگوں سے پیسے لیکر ایئر لائنز کو دیئے گئے ہیں ان پیسوں کی واپسی حج و عمرہ زائرین کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر غضنفر بلور نے کہاکہ پنجاب سے گندم کی ترسیل پر دفعہ 144 لگانا قابل مذمت اقدام ہے جس کی وجہ سے 70 لاکھ خاندان متاثر ہوں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت پنجاب سے خیبر پختونخوا کو گندم کی ترسیل پر فوری طور پر پابندی ختم کرنے کے احکامات جاری کرے اورصوبہ کو گندم کی بروقت اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ آٹے کا بحران پیدا ہونے سے بچا جاسکے۔ غضنفر بلور نے کہاکہ حکومت صرف 50 لاکھ روپے تک ری فنڈز جاری کر رہی ہے جبکہ گذشتہ 6 سالوں سے بزنس کمیونٹی کو ری فنڈز کے بقایا جات کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے جو کہ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پسند و ناپسند کی پالیسی ختم کرکے یکساں طور پر تمام بزنس کمیونٹی کو ٹیکس ری فنڈز بغیر کسی تاخیر کے ادائیگی کو یقینی بنائے جو کہ کاروباری حضرات کا حق ہے اس میں اقربا پروری نہ کی جائے۔ سرحد چیمبر کے سابق صدر حاجی محمد افضل نے حکومت سے تمام صوبائی ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کے ساتھ ساتھ سات دن اور 24 گھنٹے کاروبار کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اپنے فیصلوں اور وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے کورونا لاک ڈان سے متاثرہ تاجروں کو ریلیف و مراعات دے۔ سرحد چیمبر کے سابق صدر ریاض ارشد نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ روزگار کی فراہمی پر توجہ دیں اور آئندہ مالیاتی بجٹ سال 2020-21 میں صنعتی ترقی اور نئی انڈسٹریز لگانے کے لئے خطیر رقم مختص کی جائے اور روزگار کی فراہمی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا جائے۔ سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر شاہد حسین نے کہاکہ پاک افغان طورخم و چمن بارڈر سمیت غلام خان اور خرلاچی چیک پوسٹوں کو بھی 24 گھنٹے کے لئے کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر متعلقہ چیک پوسٹوں کی وجہ سے باہمی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سامان اگر افغانستان پہنچ بھی جائے تو کسی کام کا نہیں رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک افغان باہمی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے کاروبار کے لئے احتیاطی ایس او پیز کو واضح کیا جائے۔ اس سے قبل سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر مقصود نے حکومت کے سامنے 48 نکات پر مشتمل مطالبات پیش کردیئے اور کہا کہ حکومت کا کاروباری طبقے کے مسائل کو حل کرے تاکہ معیشت بہتر ہوسکے۔ اس موقع پر مرکزی تنظیم تاجران خیبر پختونخوا کے صدر مہر الہی سرحد چیمبر کے ایگزیکٹو ممبر مجیب الرحمان سابق صدر فیض محمد فیضی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -