عوام کو درپیش مسائل کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں نرمی کی ہے: محمود خان

عوام کو درپیش مسائل کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں نرمی کی ہے: محمود خان

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی روشنی میں صوبے میں کاروباری سرگرمیوں، بازاروں اور دکانوں کوایس او پیز کے تحت صبح سے لیکر شام 7 بجے تک کھلا رکھنے کافیصلہ کیا گیا ہے،اب ہفتے میں تین دن کی بجائے صرف دو دن یعنی ہفتہ اور اتوار کولاک ڈاؤن ہوگا۔ ایس او پیز کے تحت بین الاضلاع ٹریفک کوبھی کھولنے پر کام ہو رہا ہے جس کے لئے ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات ہو رہے ہیں جبکہ سیاحت کے شعبے کو کھولنے کیلئے بھی ایس او پیز تیار کی جارہی ہیں۔ ہم بیک وقت دو محاذوں پر برسر پیکار ہیں، ایک طرف کورونا وباء سے نمٹنا ہے تو دوسری طرف معاشرے کے کمزور طبقے کو بھوک اور افلاس سے بھی بچانا ہے۔ لوگوں کو درپیش مسائل کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کی ہے تاہم اس تمام تر صورتحال میں احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ عوام اپنی اور دوسروں کی جان بچانے کیلئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ تاجر برادری، کاروباری حضرات اور ٹرانسپورٹر ز بھی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ ایس او پیز پر عملدرآمد کی کی سخت نگرانی کی جائے، عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ کاروبار کو دوبارہ بند کردیا جائیگا۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں کورونا وباء کے حوالے سے حکومتی اقدا مات اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے پر یس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے معاشرے کے کمزور طبقات کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ ہم نے نہ صرف کورونا وباء سے نمٹنا ہے بلکہ عمران خان کے وژن کے مطابق کمزور طبقے کا خیال بھی رکھنا ہے۔ ہمیں کورونا کے ساتھ جینے کا ڈھنگ سیکھناہے۔محمود خان نے واضح کیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی حکومت کی طرف سے جاری کر دہ ایس او پیز اور گائیڈ لائنز پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔ اُنہوں نے عوام، تاجر برادری، کاروباری حضرات، ٹرانسپورٹرز اور دیگر تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ ایس او پیز اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اپنی اور دوسروں کی جانیں بچائیں۔ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ کاروبار بند کیا جائے گا۔ کورونا کے ساتھ زندہ رہنا ہے تو ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ حکومت عوام کی جانیں بچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ میری ٹیم ہر جگہ فرنٹ فٹ پر موجود ہے۔ اُنہوں نے موجودہ صورتحال میں ڈاکٹروں اوردیگر طبی عملے کی فرنٹ لائن خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کورونا سے شہید ہونے والے ڈاکٹر ز اور دیگر عملے کے بھی ہمارے اصل ہیرو ہیں، ان کی قربانیوں اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا اور ان شہداء کے اہل خانہ کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بلدیات، پولیس، ضلعی انتظامیہ، میڈیا اور فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے دیگر اہلکاروں کے کردار کی بھی تعریف کی۔ کورونا کی وجہ سے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو درپیش مشکلات اور ان مشکلات کے حل کے لئے حکومتی اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اورسیز پاکستانی ہمارے بھائی ہیں، انہیں درپیش مشکلات کا ہمیں بھر پور احساس ہے، جن کا ازالہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ خلیجی ممالک میں پھنسے خیبرپختونخو اکے باشندوں کو وطن واپس لانے کیلئے ہر سطح پر کوششیں ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب سے پشاور کیلئے پروازیں بحال کر دی گئی ہیں جبکہ شہید ہونے والوں کے جسد خاکی واپس لانے کیلئے خصوصی طیارے بھی بھیجے جارہے ہیں۔اس سلسلے میں ذاتی دلچسپی لینے پر انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان، وفاقی وزیر مراد سعید اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ذولفقار بخاری کا شکریہ ادا کیا۔اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اورسیز پاکستانیوں کے مسئلے کو لیکر حکومت کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے جو قابل مذمت ہے، یہ سیاسی دکان چمکانے کا نہیں بلکہ اتحاد اور اتفاق کا وقت ہے۔

مزید :

صفحہ اول -