کورونا وائرس کے باعث صورتحا ل بہتر نہیں ، عوام احتیاط کریں: ناصر شاہ

کورونا وائرس کے باعث صورتحا ل بہتر نہیں ، عوام احتیاط کریں: ناصر شاہ

  

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث صورت حال بہتر نہیں ہے۔اسپتال میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہماری عوام سے اپیل ہے کہ عوام احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سندھ میں بھی لاک ڈاون کا وقت شام سات بجے تک رکھا جائیگا اور ہفتہ اتوار مکمل لاک ڈاون ہوگا تاہم ضروری دکانیں جن میں میڈیکل اسٹورز شامل ہیں وہ کھلے رہیں گے۔ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وزیر برائے ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ، صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ میر شبیر بجارانی اور ترجمان سندھ حکومت اور وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات اور ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر وزیر اعلی سندھ نے ٹاسک فورس بنائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ نے موثر لاک ڈاون کا بھی مطالبہ کیا تھا جسکے اچھے نتائج سامنے آتے۔ لیکن اب وقت گزر چکا ہے وائرس پھیل چکا ہے اس لئے سب چیزوں کو بند بھی نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبہ جات کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولا جائیگا اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ تمام ایس او پیز پر عمل کروائے وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ ہم ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اور اسپتالوں کے عملہ پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل کروانے میں پاک فوج کو مقرر کیا جائے تو اسمیں بھی کوئی حرج نہیں ہے سب اپنا اپنا کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی خواہش تھی کہ ہم انکا ٹیسٹ کس سے کروائنگے ان کو ڈر تھا کہ انکا ٹیسٹ پوزیٹو نہ کروادیں میرا اور وزیر اعلی کا بھی ٹیسٹ بھی ڈا سے ہوا کل بھی سندھ میں سوا چھ ہزار ٹیسٹ ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم نے بیرون ملک سے آنے والی فلائٹس کی صحیح اسکریننگ کرنے کا کہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نہیں کہتے کہ فیڈرل گورنمنٹ کام نہیں کر رہی ہے لیکن الارمنگ صورتحال ہے اسے سنجیدگی سے لینا ہوگااس موقع پر وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ نے کہا کہ آج ٹرانسپورٹرز کے ساتھ میٹنگ ہوئی اور ہم نے ایس او پیز طے پہلے ہی کرلی تھی جس میں تمام ٹرانسپورٹرز کو اعتما د میں لیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ کراچی کی انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کل سے شروع ہوجائے گی اور آن لائن پبلک ٹرانسپورٹ بھی کل سے شروع ہوگی۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ انٹر سٹی بسز کو اجاز ت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل این سی سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تینوں صوبوں نے ٹرانسپورٹ شروع کردی تھی لیکن سندھ میں ہم نے سب ٹرانسپورٹرز کو آن بورڈ لیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹرانسپورٹرز کا فرض ہے کہ وہ ایس او پیز پر عملدرآمد کروائیں گے۔ وزیر ٹرانسپورٹ سندھ نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ایس او پیزپر عملدرآمد ہوگا اور خلاف ورزی نہیں ہونے دینگے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم تمام ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔ اس موقع پر وزیر برائے پبلک ہیلتھ میر شبیر بجارانی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کشمور کے 90کیسز ہوگئے ہیں اور ہندو کمیونٹی میں بہت تیزی سے وائرس پھیلا ہے انہوں نے کہا کہ تینوں تحصیل میں متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا ہے اور کئی اموات بھی ہوئی ہیں انہوں نے کہا کہ ایسے بھی کیسز ہے جنہیں ٹیسٹ نہیں کیا گیا ہے میر شبیر بجارانی نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلی سندھ کی ہدایات پر ٹیسٹنگ کٹس پہنچا دی ہیں انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ یہ وائرس صرف بزرگوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے بلکہ ہر عمر کے فرد اس سے متاثر ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صرف احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے ہی اس وباسے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ اس وائرس سے ڈرنا نہیں ہے لڑنا ہے اس کی کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوئی ہے کوئی علاج نہیں ہے عوام کی رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے اس لئے غیر ضروری طور پر سے گھروں سے نہ نکلیں اگر گھر سے باہر نکلنا بہت ضروری ہے تو ماسک پہن کر نکلیں۔ سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے اپیل ہے سفر کے دوران سماجی فاصلے کاخیال رکھیں ہاتھ دھوئیں اور سینیٹائزر کا استعمال کریں بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ 26 فروری سے سندھ میں اسکول بند ہیں اسوقت سندھ میں ایک ہزار ایک سو اڑتالیس دس سال سے کم عمر بچے کورونا پوزیٹوو آئے ہیں شاید احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے متاثر ہوئے اسی طرح مرد حضرات زیادہ متاثر ہورہے تھے رمضان کے مہینے سے متاثرہ خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ایک خطرناک حقیقت ہے جسکا کوئی علاج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک ہفتہ میں اموات اور متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ صورتحال بہتر نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ اول -