پاکستان میں پیٹرول سستا ہوتے ہی ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا

پاکستان میں پیٹرول سستا ہوتے ہی ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا
پاکستان میں پیٹرول سستا ہوتے ہی ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تو ہوگئی لیکن شہریوں کے مسائل جوں کے توں ہیں کیونکہ ملک کے بیشتر علاقوں میں پیٹرول کا کم از کم ذخیرہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی قلت پیدا ہوگئی۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور متعلقہ حکام مقررہ ڈپو پر لازمی اسٹاک کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے پیٹرول کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق تیل کمپنیوں کو پیٹرولیم ڈویژن کے حکام اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اسٹاک کے مکمل خاتمے سے بچنے کے لیے مخصوص طریقہ کار اپنانے کا کہا ہے اور پیٹرول پمپس کو ہدایت کی کہ وہ ہر گاڑی کو زیادہ سے زیادہ 500 یا 1000 روپے تک کا پیٹرول فراہم کریں تاہم اس کے باوجود منگل کو اکثر پمپس میں پیٹرول ختم ہوگیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ قلت دس دن تک رہ سکتی ہےکیونکہ تیل کمپنیوں نے درآمد کا حکم نہیں دیا اور انوینٹری نقصانات سے بچنے کے لیے قیمتوں میں کمی کے امکان کے تحت ریفائنریز سے مقامی پیداوار کو کم کیا ہے۔

قواعد کے تحت تمام تیل کمپنیوں اور ریفائنریز لائسنس کے لیے پابند ہیں کہ وہ ہر وقت پیٹرولیم مصنوعات کے کم سے کم 21 دن کے استعمال کا احاطہ یقینی بنائے چاہے ملک حالت جنگ میں ہو یا امن میں۔بدقسمتی سے 80 سے 90 تیل پیداواری کمپنی اور ریفائنریز میں سے کسی نے بھی اس لازمی ضرورت کو پورا نہیں کیا اور گزشتہ چند دنوں سے ملک کا پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کا تقریباً مجموعی اسٹاک اوسطاً 11 دنوں سے زیادہ کا نہیں تھا۔

مزید :

قومی -بزنس -