سی ڈی اے نے ایوارڈز کو کرپشن کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے،سپریم کورٹ،متاثرین کو معاوضہ اور پلاٹ دینے سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ

سی ڈی اے نے ایوارڈز کو کرپشن کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے،سپریم کورٹ،متاثرین ...
سی ڈی اے نے ایوارڈز کو کرپشن کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے،سپریم کورٹ،متاثرین کو معاوضہ اور پلاٹ دینے سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے سیکٹر ای 12 سمیت دیگر کے متاثرین کا معاوضہ ادائیگی سے متعلق کیس کافیصلہ محفوظ کرلیا۔چیف جسٹس پاکستان نے ممبر اسٹیٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سی ڈی اے نے ایوارڈز کو کرپشن کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے سیکٹر ای 12 سمیت دیگر کے متاثرین کا معاوضہ ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمدکی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،سی ڈی اے کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کرا دیا گیا،سی ڈی اے کے وکیل عبدالشکور پراچہ اور ممبر اسٹیٹ عرفان الہٰی عدالت میں پیش ہوئے جبکہ معاون خصوصی برائے سی ڈی اے علی اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس گلزار احمدنے ممبراسٹیٹ سے استفسارکیا کہ آپ کا لینڈ ایکوائر کرنے کا معیار کیا ہے؟۔ممبر اسٹیٹ نے عدالت کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ ابھی تک ہم صرف 527 ایوارڈز کر چکے ہیں،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ پوری دنیا کی پالیسی ہے لینڈ ایکوائر کرنے کا معیار شفاف ہونا چاہیے،ممبر اسٹیٹ نے کہاکہ اراضی ایوارڈ 1985 میں اور بیلٹ اپ پراپرٹی ایوارڈ 2017 میں ہو رہا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ مطلب سی ڈی اے نے ایوارڈز کو کرپشن کرنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ابھی تک بیلٹ اپ پراپرٹی کے کتنے ایوارڈز ہو چکے ہیں؟،ممبر اسٹیٹ نے عدالت کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ بیلٹ اپ پراپرٹی کے 155 ایوارڈ ہو چکے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ پھر سی ڈی اے میں ایوارڈز کے معاملہ زیر التوا کیوں ہیں؟۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ممبر اسٹیٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ماسٹر پلان کو آپ نے تباہ کر دیا،کہاں رول آف لاءموجود ہے؟۔عدالت نے متاثرین کو معاوضہ اور پلاٹ دینے سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -