2009 میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی آمدن3 کروڑ72 لاکھ تھی ،بظاہر لگتا ہے بطور وکیل جسٹس قاضی کے پاس کافی پیسہ تھا وہ کامیاب وکیل تھے ،جسٹس عمر عطابندیال

2009 میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی آمدن3 کروڑ72 لاکھ تھی ،بظاہر لگتا ہے بطور وکیل ...
2009 میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی آمدن3 کروڑ72 لاکھ تھی ،بظاہر لگتا ہے بطور وکیل جسٹس قاضی کے پاس کافی پیسہ تھا وہ کامیاب وکیل تھے ،جسٹس عمر عطابندیال

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس میں جسٹس عمر عطابندیال نے کہاہے کہ 2009 میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی آمدن3 کروڑ72 لاکھ تھی ،بظاہر لگتا ہے بطور وکیل جسٹس قاضی کے پاس کافی پیسہ تھا وہ کامیاب وکیل تھے ،ہمیں جج کی بددیانتی یاکرپشن دکھائیں ایسا کچھ بتائیں جس سے جرم سامنے آئے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیس کی سماعت جاری ہے،جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں لارجر بنچ سماعت کررہا ہے،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ غیرملکی جائیدادیں بچوں کے نام خریدی گئیں،2009 میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی آمدن3 کروڑ72 لاکھ تھی ،بظاہر لگتا ہے بطور وکیل جسٹس قاضی کے پاس کافی پیسہ تھا وہ کامیاب وکیل تھے ۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ ہمیں جج کی بددیانتی یاکرپشن دکھائیں ایسا کچھ بتائیں جس سے جرم سامنے آئے،جج شیشے کے گھروں میں لیکن جوابدہ ہے،آئین ججز کو ذاتی حملوںں سے تحفظ فراہم کرتا ہے ،کچھ ایسا دکھائیں جس سے پتہ چلے یہ جائیداد جج صاحب نے خاندان کے افراد کے نام خریدی ،ہم نے یہاں دیکھا ہے غیر ملکی جائیداد کو ترسٹ کے ذریعے چھپایا گیا ۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل دیتے کہاکہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ بینک ٹرانزیکشنزکاریکارڈ دکھا دیں ،میراایک لائن کاجواب ہے منی لانڈنگ سنگین جرم ہے ،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ اگرپیسہ بینکوں کے ذریعے گیا تو منی لانڈرنگ کی تعریف کیا ہوگی؟،بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاکہ دوسرے جج نے تو دھرنا فیصلہ نہیں دیا حکومت نے ان کیخلاف بھی ریفرنس فائل کیا ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -