سعودی عرب میں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد کیا صورتحال ہے؟ پریشان کن خبر آ گئی

سعودی عرب میں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد کیا صورتحال ہے؟ پریشان کن خبر آ گئی
سعودی عرب میں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد کیا صورتحال ہے؟ پریشان کن خبر آ گئی

  

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں لاک ڈاو¿ن میں نرمی کے بعد کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی وزارت صحت کے ترجمان نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 1800 سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 89 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ ملک بھر میں کورونا سے اب تک 17 ہزار سے زائد مریض صحتیاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 65 ہزار 700 سے زائد ہے۔

ترجمان وزارت صحت کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران وائرس سے 138 مریض انتقال کرگئے ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 549 ہوگئی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ملک میں 22 ہزار 600 مریضوں کی حالت بہتر ہے جب کہ 1264 تشویشناک حالت میں ہیں۔ترجمان وزارت صحت نے مزید کہا کہ گزشتہ چند روز میں کورونا کے کیس میں اضافہ پریشان کن ہے جن میں زیادہ تر ایسے عمر رسیدہ افراد شامل ہیں جن کی حالت پہلے ہی بہتر نہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ کورونا کیسز کی تعداد میں اضافے کی وجہ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر عمل نہ کرنا ہے۔ترجمان نے زور دیا کہ عوام سماجی فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔

عرب میڈیا کا بتانا ہے کہ سعودی حکومت نے گزشتہ ہفتے کورونا کی روک تھام کے لیے قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر جرمانے عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت ماسک نہ پہننے اور عوامی مقامات میں داخلے کے وقت بخار چیک نہ کرانے پر ایک ہزار ریال کا جرمانہ رکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ سعودی حکومت نے 31 مئی سے ملک بھر میں لاک ڈاو¿ن نرم کردیا ہے اور ایس او پیز کے ساتھ مساجد میں با جماعت نمازوں کی ادائیگی کی بھی اجازت دے دی گئی ہے جب کہ سرکاری و نجی اداروں کے ملازمین بھی کاموں پر واپس آچکے ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -کورونا وائرس -