فلمی کہانی حقیقت بن گئی، نسان کمپنی کا سربراہ کس طرح ایک ڈبے میں بند ہوکر جاپانی حکومت کی حراست سے فرار ہوگیا؟ عقل کو دنگ کردینے والی کہانی

فلمی کہانی حقیقت بن گئی، نسان کمپنی کا سربراہ کس طرح ایک ڈبے میں بند ہوکر ...
فلمی کہانی حقیقت بن گئی، نسان کمپنی کا سربراہ کس طرح ایک ڈبے میں بند ہوکر جاپانی حکومت کی حراست سے فرار ہوگیا؟ عقل کو دنگ کردینے والی کہانی

  

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) جاپانی کار ساز کمپنی نسان کے سابق سربراہ کارلوس غوسن پر جاپان میں مالی بدعنوانی کے مقدمات قائم ہوئے جس کے بعد وہ ایسے پراسرار طریقے سے جاپان سے فرار ہو کر لبنان پہنچ گئے کہ جدید تاریخ میں ایسا صرف فلموں میں ہی دیکھا گیا ہے۔ کارلوس غوسن نے پہلے تو دنیا بھر سے ماہر وکلاءکی ایک ٹیم اکٹھی کی اور عدالت میں ان الزامات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا لیکن پھر انہوں نے جاپان سے فرار ہو کر اپنے آبائی ملک لبنان جانے کی ٹھان لی اور اس کے لیے ایک اور ٹیم ہائر کر لی۔ اس ٹیم میں انسانی سمگلنگ اور دیگر ایسے ہی کاموں کے ماہر لوگ شامل تھے۔ حتیٰ کہ ان میں ایک ایسا شخص تھا جو جنگی علاقوں سے جنگی قیدیوں کو نکال کر فرار کرانے میں مہارت رکھتا تھا۔ اس ٹیم نے مہینوں منصوبہ بندی کی اور پھر اسے عملی جامہ پہنایا۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق کارلوس عدالت سے ضمانت پر رہا تھے اور عدالت ہی کے ٹوکیو میں مقرر کردہ ایک گھر میں انہیں رکھا گیا تھا جہاں 24گھنٹے کیمروں سے ان کی نگرانی کی جا رہی تھی۔ ان کے پاس جاپان، برازیل اور لبنان کے پاسپورٹ تھے مگر تینوں پاسپورٹ ضبط ہو چکے تھے اور وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے تھے۔ کارلوس کی اس ٹیم نے ایک بڑے سائز کا سیاہ باکس بنوایا جس کی نچلی طرف سوراخ کیے گئے تھے۔ ایسے باکس عموماً کنسرٹس سے متعلق سازوسامان بیرون ملک لیجانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کارلوس کو اس باکس میں ڈالا اور ٹوکیو سے اسے ٹرین میں لاد کر 300میل کے فاصلے پر واقع شہر اوساکا لے گئے جہاں سے انہیں اس باکس کو ایک نجی ہوائی جہاز پر سوار کرانا تھا اور یہی سب سے کٹھن مرحلہ تھا۔

ٹیم کے کئی اراکین کا بھی خیال تھا کہ اس مرحلے پر وہ پکڑے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے رات کے پچھلے پہر کا انتخاب کیا۔ وہ پہیے لگے باکس کو گھسیٹتے ہوئے اوساکا کے اس چھوٹے سے ایئرپورٹ پر لائے۔ وہاں عملے کے کچھ ہی لوگ تھے۔ یہ باکس اتنا بڑا تھا کہ ایکسرے مشین میں داخل نہیں ہو سکتا تھا اور عملے نے خود اسے چیک کرنے کی زحمت نہ کی اور یوں کارلوس کی ٹیم اس باکس کو کامیابی سے تارکول تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئی۔ وہاں سے باکس ایک چھوٹے نجی طیارے میں لادا گیااور طیارہ 23گھنٹے کی پرواز کرکے ترکی پہنچ گیا۔ وہاں سے اس ٹیم نے کارلوس غوسن کو لبنان سمگل کر دیا اور اب وہ وہیں مقیم ہیں۔

لبنان پہنچنے کے چند ہفتے بعد کارلوس غوسن کی طرف سے ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ ”اب میں جاپان کے دھاندلی زدہ عدالتی نظام کا یرغمال نہیں رہوں گا، جس میں ملزم کو مجرم سمجھا جاتا ہے، امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ”میں انصاف سے فرار نہیں ہوا ہوں بلکہ میں ناانصافی اور ایذا رسانی کی سیاست سے فرار ہوا ہوں۔“لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بھی کارلوس غوسن کاڈیڑھ کروڑ ڈالر مالیت کا عالیشان گھر واقع ہے۔ لبنان میں ہی وہ انگوروں کے باغات اور ایک ’اکسیر‘ نامی کمپنی کے مالک ہیں جوان انگوروں سے اعلیٰ معیار کی شراب کشید کرتی ہے۔ وہ لبنان کی بھی ایک مشہور شخصیت ہیں اور لبنان کے ایک ڈاک ٹکٹ پر ان کی تصویر بھی ہے۔ ان کے رشتہ داروں کی اکثریت لبنان میں ہی رہتی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -