کیا آپ کو معلوم ہے جو بال آپ کٹواتے ہیں ان کے ساتھ نائی کیا کرتا تھا؟ ان سے سمندر کی صفائی بھی کی جاتی ہے، انتہائی حیرت انگیز معلومات جانئے

کیا آپ کو معلوم ہے جو بال آپ کٹواتے ہیں ان کے ساتھ نائی کیا کرتا تھا؟ ان سے ...
کیا آپ کو معلوم ہے جو بال آپ کٹواتے ہیں ان کے ساتھ نائی کیا کرتا تھا؟ ان سے سمندر کی صفائی بھی کی جاتی ہے، انتہائی حیرت انگیز معلومات جانئے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہم حجام سے جو بال کٹواتے ہیں ان کٹے ہوئے بالوں کے کئی استعمالات ہیں جن میں سے ایک ایسا ہے کہ سن کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی۔ ویب سائٹ everwideningcircles.com کے مطابق بالوں یہ حیران کن استعمال ’سمندر کی صفائی‘ ہے اور سمندر کی صفائی کا یہ حیران کن طریقہ بھی ایک حجام ہی کا دریافت کردہ ہے۔ اس آدمی کا نام فلپ مک کرورے تھا جو ہیئر ڈریسر بھی تھا اور موجد بھی۔ وہ ایک فلم دیکھ رہا تھا جس میں پانی کے ایک ذخیرے میں تیل گرتا ہے اور یہ تیل پانی میں موجود جانوروں کے بالوں کی طرف تیزی سے جاتا اور ان سے چمٹ جاتا ہے۔ یہاں سے اس نے مفروضہ اخذ کیا کہ سمندر میں جہازوں سے جو تیل گرتا ہے اسے بالوں کے ذریعے صاف کیا جا سکتا ہے۔

فلپ نے اپنے حمام سے تین کلوگرام بال اکٹھے کیے اور انہیں اپنے ساتھ گھر لے گیا۔ وہاں اس نے ایک ہمسائے کی مدد حاصل کی۔ ان دونوں نے ایک ٹب میں پانی بھر کر اس میں گاڑی کا استعمال شدہ تیل ڈالا اور پھر بال اس ٹب میں پھینک دیئے۔ چند منٹوں میں ہی تمام تیل بالوں میں جذب ہو چکا تھا اور پانی بالکل صاف ہو گیا تھا۔ ان کا تجربہ انتہائی کامیاب رہا۔ یہی تجربہ ناسا کے مارشل سپیس فلائٹ سنٹر میں کیا گیا۔فلپ کے تخمینے کے مطابق 25ہزار پاﺅنڈ وزنی بال نائیلون کے بیگز میں ڈال کر سمندر میں پھینکے جائیں تو وہ 1لاکھ 70ہزار گیلن تیل جذب کر سکتے ہیں۔ اب فلپ کی اس حیران کن دریافت پر عمل ہو رہا ہے اور لوگوں کے کٹے ہوئے بال لے کر ان سے سمندر میں گرنے والے تیل کی صفائی کی جا رہی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -