پینڈورا باکس محاوروں میں تو آپ نے سنا ہوگا لیکن دراصل اس لفظ کا پس منظر اور تاریخ کیا ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی انتہائی دلچسپ کہانی جانئے

پینڈورا باکس محاوروں میں تو آپ نے سنا ہوگا لیکن دراصل اس لفظ کا پس منظر اور ...
پینڈورا باکس محاوروں میں تو آپ نے سنا ہوگا لیکن دراصل اس لفظ کا پس منظر اور تاریخ کیا ہیں؟ اس کے پیچھے چھپی انتہائی دلچسپ کہانی جانئے

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پینڈورا باکس کا ذکر محاوروں میں تو ہم اکثر سنتے آئے ہیں لیکن کبھی آپ نے سوچا کہ اس لفظ کا پس منظر کیا ہے؟ اس لفظ کی کہانی انتہائی عجیب مگر دلچسپ ہے، جس کا سرا قدیم یونان کی تہذیب سے جا ملتا ہے۔ کہتے ہیں کہ قدیم یونان میں دو بھائی رہتے تھے جن کے نام ایپی میتھیس اور پرومیتھیس تھے۔ ان دونوں نے یونانی دیوتاﺅں کو سخت ناراض کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ دیوتاﺅں کے دیوتا زیوس کو بھی اپنی حرکتوں کی وجہ سے ناراض کر بیٹھے تھے اور زیوس نے انہیں سزا دینے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ دیوتا زیوس نے مٹی سے ایک انتہائی حسین و جمیل لڑکی بنائی اور اس میں زندگی پھونکی۔ اسے ہر طرح کی صلاحیتوں اور خوبیوں سے مالامال کیا اور پھر یہ لڑکی دیوتا زیوس نے ایپی میتھیس کو تحفے میں دے دی۔ اس لڑکی کو زیوس نے پینڈورا کا نام دیا تھا۔

پرومیتھیس نے ایپلی میتھیس کو منع بھی کیا کہ وہ دیوتاﺅں سے کوئی بھی چیز تحفے میں نہ لے کیونکہ دیوتا ان پر غصہ ہیں اور یقینا وہ تحفہ خطرناک ثابت ہو گا مگر پینڈورا تھی ہی اتنی خوبصورت کہ ایپی میتھیس خود کو روک نہ سکا اور نہ صرف دیوتا زیوس سے تحفے میں پینڈورا لے لی بلکہ اس کے ساتھ شادی پر بھی رضامند ہو گیا۔دونوں کی شادی ہوئی تو زیوس نے پینڈورا کو ایک باکس تحفے میں دیا لیکن ساتھ ہی نصیحت کی کہ اس باکس کو کبھی بھی مت کھولنا۔ یہ سب زیوس کی چال تھی جس کے ذریعے وہ ایپی میتھیس اور اس کے بھائی کو سزا دینا چاہتا تھا۔ اس چال میں کامیابی پانے کے لیے اس نے پینڈورا کو انتہائی متجسس مزاج بنایا تھا چنانچہ وہ ہمہ وقت یہی سوچتی رہتی کہ اس باکس میں کیا ہے؟ اگر مجھے اس باکس کو کھولنے کی اجازت نہیں تو پھر یہ مجھے تحفے میں دیا ہی کیوں گیا ہے؟ ایسے ہی سوالات اس کے ذہن میں گردش کرتے رہتے۔ ایپی میتھیس نے بھی اسے سختی سے منع کر رکھا تھا کہ وہ اس باکس کو نہ کھولے۔

ایک روز ایپی میتھیس باہر گیا ہوا تھاکہ پینڈورا سے نہ رہا گیا اور اس نے باکس کھول دیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس باکس میں ہیرے جواہرات موجود ہوں گے جو اس کے لیے دیوتا زیوس نے شادی پر بطور تحفہ دیئے لیکن درحقیقت اس باکس میں دنیا بھر کے مسائل، وبائیں ، بلائیں اور مصیبتیں بند تھیں جو ڈھکن کھلتے ہی باہر نکل آئیں۔ یہ دیکھ کر پینڈورا گھبرا گئی اور باکس بند کرکے رونے بیٹھ گئی۔ ایپی میتھیس واپس آیا تو پینڈورا اس سے رو رو کا معافی مانگنے لگی۔ وہ دونوں باکس کے قریب کھڑے تھے کہ باکس کے اندر سے ’کھولو، کھولو، مجھے بھی نکالو‘ کی آواز سنائی دینے لگی۔ پینڈورا گھبرا گئی لیکن ایپی میتھیس نے پینڈورا کو دوبارہ باکس کھولنے کو کہا مگر پینڈورا نے انکار کر دیا۔ اس پر ایپی میتھیس نے اسے بتایا کہ باکس سے ساری بلائیں اور مصیبتیں باہر نکل چکی ہیں۔ اب باکس میں صرف امید باقی رہ گئی ہے۔ تم اسے بھی رہائی دے دو۔ اب ان مصیبتوں، وباﺅں اور بلاﺅں کے درمیان لوگوں کا واحد سہارا ہو گی۔ پینڈورا نے دوبارہ باکس کھول دیا اور ایک چھوٹی خوبصورت سی مکھی اڑ کر باہر آ گئی۔ یہ مکھی امید تھی۔

یہاں سے پینڈورا باکس کے لفظ کا چلن ہوا۔ آج بھی یہ لفظ زبان زد عام ہے اور بالخصوص سیاسی مباحثوں میں تو اس کا بکثرت استعمال ہوتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -