ایم طفیل کی رحلت اور یادیں 

ایم طفیل کی رحلت اور یادیں 
ایم طفیل کی رحلت اور یادیں 

  

پانچ مئی بروز بدھ 22 رمضان المبارک دس بج کر تین منٹ پر وہ لمحات ہیں جو اب ساری زندگی بھولنے سے نہیں بھول سکتے، لکھنے کو متعدد بار قلم کی جانب ہاتھ بڑھائے مگر ہمت جواب دے گئی کہ کیسے اپنے باپ کو مرحوم لکھوں مگر پھر سے یاد آیا کہ یہ اب ایک حقیقت ہے ہم سب نے اپنے رب کے پاس جانا ہے یہ دنیا تو ایک عارضی ٹھکانا ہے موت کا مزا تو ہر زندہ نے چھکنا ہے یہ اللہ رب العزت کا حکم ہے اس سے انکار کفر ہے اللہ کے فیصلوں پر رضا مندی ہی میں ہم سب کی خیر ہے میرا اپنے والد ایم طفیل مرحوم کے ساتھ تقریباً 50 سال کا ساتھ تھا بچپن سے لے کر پانچ مئی تک کا سفر بہت خوبصورتی سے گزرا۔ ان کے لبوں پر کبھی بھی ناشکری نہیں دیکھتی ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتے تھے آخری دنوں میں عارضہ جگر کے باعث جب بیماری کی شدت میں اضافہ ہوا تو بھی اپنی تکلیف کسی کو محسوس نہ ہونے دی میں اکثر دوائی دینے کے بعد انہیں کہتا کہ پریشان تو نہیں ہیں تو مسکرا کرکہتے نہیں شکر الحمدللہ، اللہ پر جتنا توکل اپنی زندگی میں میں نے والد صاحب کو کرتے دیکھا آج تک اس کی دوسری مثال نہیں دیکھی شروع دن ہی سے نماز روزہ اور اللہ کی یاد میں انہیں مگن دیکھا کبھی دنیاوی معاملات میں ان کی دلچسپی ایک حد سے آگے نہ بڑھی البتہ اپنے پروفیشن سے انتہائی مخلص تھے انہیں یہ بھی اعزاز حاصل رہا ہے کہ روزنامہ جنگ کی جب لاہور سے شاعت ہوئی تو اس کا پہلا اداریہ انہی نے تحریر کیا کئی عشروں تک جنگ کا اداریہ لکھتے رہے متعدد بار انہیں دوسرے اداروں سے آفرز آئیں مگر انہوں نے کبھی اس جانب توجہ ہی نہ دی اور نہ ہی جنگ کے مالکان کو یہ باور کرایا کہ انہیں کسی اور جانب سے آفرز آرہی ہیں مگر میر خلیل الرحمن مرحوم اور میر شکیل الرحمن صاحب کو سب پتہ ہوتا تھا یہی وجہ تھی

کہ والد صاحب کی وفات تک ادارے نے ان کا بھر پور ساتھ دیا میں نے آج تک اپنی صحافتی زندگی میں میر شکیل الرحمن جیسا بڑے دل کا مالک نہیں دیکھا یہاں پر یہ لکھنے میں مجھے خود بڑا فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ایم طفیل مرحوم ایشیا کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے سے عشروں تک وابستہ رہے ان کے کالم اور اداریئے اپنی مثال آپ تھے اپنی تحریروں میں انہوں نے ہمیشہ میانہ روی کو اولین ترجیح دی اور آخر میں ہر مسئلے کا حل ضرور تحریر کیا۔ تنقیدبرائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح کے فارمولا پر ہمیشہ کاربند رہے اور یہی طرز عمل ان کا پیشہ وارانہ زندگی سے ہٹ کر روز مرہ کے معمولات پر بھی اثر انداز تھا زندگی میں کبھی لالچ یا حرص جیسی بیماری میں مبتلا نہ ہوئے ظاہری نمود ونمائش سے بہت دور رہے۔ ہمیشہ انہیں ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتے دیکھا وفات سے چند روز قبل بیماری کی حالت میں انہیں ایمرجنسی میں جناح اسپتال لے جانا پڑا جہاں ان کا خون نہیں رک رہا تھا ڈاکٹروں کی بے حسی اور بدانتظامی اپنی جگہ پر میرے سمیت چھوٹا بھائی اختر شدید پریشانی کے عالم میں ڈاکٹروں کی منت سماجت کررہے تھے کہ ان کا خون روکنے کیلئے کچھ کریں لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری سمیت متعدد لاہور کے صحافیوں کی جانب سے جناح اسپتال کی انتظامیہ سے رابطے کیے جارہے تھے مگر والد صاحب مرحوم انتہائی اطیمنان کے ساتھ تھے ان کی زبان پر مسلسل یہ فقرے جاری رہے کہ ”یااللہ رحمت کا مہینہ ہے رحم کریں“  کچھ گھنٹوں بعد خون رکا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ مجھے فوری گھر لے جاؤ میں اب ٹھیک ہوں۔ ہمیشہ انہوں نے یہ کوشش کی کہ ان کی وجہ سے کسی کو دکھ یا کوئی تکلیف نہ ہو خوداری کی انتہا میں نے اپنے والد مرحوم کے اندر جیسی دیکھی اس کا اندازہ ان کی وفات کے بعد اب محسوس ہوتا ہے اس ماہ رمضان سے قبل ہی انہوں نے اپنی باتوں سے کچھ اشارے دے دیئے تھے جب کے بیماری کی شدت غالب آنے سے قبل رمضان المبارک میں جمعہ پڑھنے کے لیے جب میرے ہمراہ مسجد گئے تو مجھے بتایا کہ یہ میرا آخری جمعہ ہے اللہ کے نیک بندوں کی نشانیاں ہمیشہ خاص ہوتی ہیں انہیں خود اندازہ ہوچکا تھا کہ اب اس فانی دنیا میں وہ زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے اسی تناظر میں ایک روز انہوں نے مجھے اپنے پاس بلا کر کہا کہ میری مغفرت کے لئے دعا کرو حالانکہ اس وقت وہ بالکل ٹھیک تھے مگر میں اپنی نادانی میں ابو جی کا یہ اشارہ نہ سمجھ سکا۔ روزنامہ کوہستان سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا ان کے ہم عصر میں اس وقت مولانا کوثر نیازی مرحوم شامل تھے جن کے ساتھ مل کر انہوں نے ختم نبوت کے سلسلے میں جو تحریک چلی تھی اس کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنا اہم کردار ادا کیا۔مذہب سے خصوصی لگاؤ اور عشق رسول ان کی زندگی کا ہمیشہ سے اولین ترجیح رہی ہے اپنی صحافتی زندگی کے آخری دنوں میں جب انہوں نے آخری کالم تحریر کیا تھا اس کا عنوان بھی ”عالم اسلام کے جذبات مجروع کرنے کی سازش“  تھا جو ان کی وفات کے چند روز بعد شائع ہوا تھا

اس میں انہوں نے اپنے کالم کے آخر میں یہ لکھا کہ ”عالم اسلام نے کبھی دوسرے مذاہب کی مرمت اور تقدس کو مجروح نہیں ہونے دیا وہ حضور نبی کریم ؐ کی ذات اقدس کے خلاف توہین آمیز رویہ برداشت نہیں کرسکتا خود اللہ تعالیٰ نے بھی حضورؐ کے تقدس واحترام کو قرآن حکیم میں واضح کیا ہے اور تمام انبیاء کرام پر اس کی فضیلت اور برتری دو ٹوک الفاظ میں واضح کی ہے اس پر خاموشی اختیار کرنے والے اللہ اور اس کے رسول ؐ کے سامنے سر نہیں اٹھا سکیں گے“  ان کی اس آخری تحریر سے مذہب اور اللہ اور اس کے رسول سے ان کے لگاؤ کی کیفیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ والد صاحب سے حلقہ احباب میں ان کے قریبی رفقا میں جناب حبیب الرحمن شامی، امیر العظیم، سبیل وڑائچ، ارشد جیلانی، مجاہد منصوری، میاں طارق شفیع شامل تھے ویسے تو ابو کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا مگر اپنے آخری دنوں میں ان کا رابطہ بہت کم افراد سے ہوتا تھا۔ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی انہوں نے مجھے کہہ دیا تھا کہ اب وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں گے ہر وقت اللہ کی یاد میں مصروف رہتے کرونا کی وجہ سے دفتر آنا جانا انتہائی کم ہو گیا تھا ساری رات قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے ”بینڈو“ ان کا تکیہ کلام بن چکا تھا جس خوبصورت انداز سے وہ اس لفظ کو بولتے سننے والا انتہائی محسوس ہوتا دل کے اتنے صاف تھے کہ کبھی کسی کی برائی نہیں کی کسی کے بارے میں بری برائے نہیں رکھی اور نہ ہی دل میں کسی طرح کا بغض رکھا والد صاحب مرحوم کی بہت ساری یادیں ذہن میں تازہ ہیں مگر حقیقت میں انہیں لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہو پارہی آپ تمام پڑھنے والوں سے خصوصی گزارش ے کہ میرے مرحوم ابو جی کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا فرمائیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب بہن بھائیوں سمیت تمام اہل خانہ کو صبروجمیل عطا کرے۔ آمین۔

مزید :

رائے -کالم -