2023 کا قرعہ کس کےنام نکلے گا؟

2023 کا قرعہ کس کےنام نکلے گا؟
2023 کا قرعہ کس کےنام نکلے گا؟

  

سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو  تمام سیاسی جماعتیں اگلے عام  انتخابا ت میں کامیاب ہو نے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں ۔عام انتخابات کو ابھی دو سال سےزائد کا وقت باقی ہے ۔۔۔ قرعہ کس کے نام نکلے گا اس کا فیصلہ  مقتدر حلقے ہی کریں گے ۔ملک  کی تینوں  بڑی جماعتوں نے الیکشن کی تیاریاں شروع کر د  ی ہیں    ۔۔۔مسلم  لیگ ن ، پاکستان  پیپلزپارٹی  اور موجودہ  حکمران جماعت  پاکستان  تحریک انصاف  اقتدار کےلیےسیاسی  لڑائی لڑ رہے ہیں جس میں واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے   نتیجہ  صفر ہی نکلنا ہے کیونکہ  یہ  تینوں  جماعتیں  جانتی ہیں  کہ پاکستان میں حکومت بنانا مقتدر حلقوں کی حمائیت کے علاوہ بہت مشکل ہے ۔۔۔اگر کوئی  یہ سوچتا ہے کہ  مقتدر حلقوں کے کردار کو کم کیا جا سکتا ہے یا انکے بغیر   جہموریت کا تسلسل  برقرار رکھا جا سکتا ہے تو وہ اپنا وقت ضائع کر رہا ہے    طاقت ورحلقوں کا کردار کلیدی  ہو گا اگلے عام انتخابات میں یہ تینوں جماعتوں کے سربراہان اچھے طریقےسے جانتے اور سمجھتےہیں۔۔۔

ہر جماعت  اس سوچ میں مبتلا ہے کہ کس طرح کا کردار ہو گا ۔۔پی ٹی  آئی یہ امید لگا کر بیٹھی  ہے یا جس کے لیے کوشش کر رہی ہے  کہ انہیں 2018 کی طرح سپورٹ ملے  ۔مسلم  لیگ ن  یہ چاہ رہی ہے  کہ امپائر غیر جانبدار رہیں یا ہمیں  ایک  ایسامیدان دیا جائے جس میں ہم آسانی سے کھیل سکیں  ۔۔ پیپلزپارٹی اس تگ دو میں ہے کہ  ہمارے ساتھ بھی ایسا رویہ رکھا جائے جس کی وجہ سے ہم وفاق میں اپنا کپتان لا سکیں ۔جس کی کوشش شروع کر دی گئی ہے۔یہ بھی ایک   تلخ  حقیقت ہے  کہ تینوں جماعتیں اپنے بیانات میں اس طرح کے فقروں کو نہیں بھولتےکہ  سیاسست میں  اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے ، اسٹیبلشمنٹ کو اپنے آئینی کردار تک محدود رہنا چاہئے۔۔اس طرح کی پوزیشن   یہ جماعتیں  لیتی رہتی  ہیں  مگر یہ  بھی  مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ جماعتیں ابھی سے اپنی حکمت عملی طے کر رہی ہیں ۔

سب سے بڑ ا چیلنچ اس وقت مسلم  لیگ ن کو در پیش ہے جس میں دو بیانیے چل رہے ہیں ۔۔  عام کارکن اس الجھن میں ہے کہ نواز کے بیانیے کو لےیا شہباز کے ۔نوازاور مریم کا خیال ہے کہ امپائر کا رول ختم کردیں یا اتنا دباو ڈال دیں کہ امپائر ہمیں کھل کر کھیلنے کا موقع دیں  جبکہ شہباز کا یہ ماننا ہے کہ  ایمپائر کے ساتھ استدلال کیا جانا چائیے تاکہ ان کو اتنی  رعایت مل جائے جس سے مسلم لیگ ن اقتدار میں واپس آ جائے۔

پی ٹی آئی کو خوف ہے کہ مسلم لیگ (ن) مقتدر حلقوں کے ساتھ  معا ملات ٹھیک کر لے گی  جس کی وجہ سے  انہیں مقتدر حلقوں کی جانب سے وہ سپورٹ یا طاقت نہیں مل سکے گی جو 2018میں ملی تھی  ۔یہ وہ وقت تھا جب  امپائر کی انگلی پی ٹی آئی کےلیے ہی اٹھی تھی کیونکہ ان کے پاس اقتدار نہیں آیا تھا صر ف امیدیں ،توقعات  اور عدے تھے مگر اگلی بار صورت حال اس کے برعکس ہو گی کیو نکہ اقتدار ان کو مل چکا ہے جس میں ابھی تک تو نعرے ہی لگ  رہے ہیں ۔۔پی ٹی آئی یہ چاہتی  ہے کہ  مسلم لیگ ن اور مقتدر حلقوں کے درمیان ایک جنگ رہے جس کا فائد ان کو ہی ہو گا اور وہ اسی کوشش میں ہے۔۔۔۔۔

پیپلز پارٹی 2023 میں اپنی انتخابی کامیابی کےلیے مقتدر حلقوں کے کردار کو مان چکی ہے اس لیے وہ پی ڈی ایم سے بھی الگ ہو گئی کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں ان میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ مرکز میں اپنا کھلاڑی لا سکیں ۔۔۔ پی پی پی کو اقتدار کےلیے امپائر کا ساتھ چائیے۔جنوبی پنجاب سے کچھ  نشستیں جیت سکتی ہے جیسے وہ پہلے کرتی تھی ۔قومی اسمبلی میں اپنا کپتان لانے کےلیے اتحاد کی ضرورت ہو گی جو و ہ کر لے گی ۔۔اس حقیقت کو پی پی مان چکی جس کی وہ کوشش کر رہی  ہے ۔۔۔ امپائر فی الحال بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہا ہے جبکہ  ٹیموں کی کوشش ابھی سے شروع ہو گئی ہے قرعہ  کس کے نام  نکلے اس کا فیصلہ تو امپائر ہی کرے گا ۔۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -