مالکو ہمیں بھی جی لینے دو 

  مالکو ہمیں بھی جی لینے دو 
  مالکو ہمیں بھی جی لینے دو 

  

 کرونا کے بعد ابھی تک دنیا سال 2018 کی پوزیشن پر واپس نہیں آ سکی جہاں کرو نا نے ہرشعبہ زندگی کے نظام کو درہم برہم کیا اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار بھی خطرناک حد تک متاثر ہوئی ہے اس کے سا تھ  ساتھ انٹرنیشنل  طاقتیں جنہوں نے ساری دنیا کے تیل پر قبضہ جما رکھا ہے اور  اوپیک مل کر ایک بہت بڑا کھیل کھیل رہے ہیں خدانخواستہ اگر یہ کھیل جاری رہا تو آنے والے وقت میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت 250 روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے جس کے نتائج انتہائی خطرناک  ہوں گے۔یہ طاقتیں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ یہ بتا رہی ہیں کہ کرونا کے بعد دنیا (بیک ٹونارمل) معمول پر آ رہی ہے جس سے انڈسٹری، ایوی ایشن،ٹورزم  اور ٹرانسپورٹ دوبارہ سے چلی ہے جس کی وجہ سے طلب اور رسد میں بہت بڑا فرق آچکا ہے یہی وجہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زیادہ ہورہی ہیں ان طاقتوں سے ایک معصومانہ سوال ہے کہ کرونا سے پہلے بھی تو یہ سب کچھ چل رہا تھا اس وقت قیمتیں کیوں نہیں بڑھیں ۔

پاکستان میں بہت سے خود ساختہ دانشور یہ گفتگو کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم روس  سے تیس فیصد اور ایران سے چالیس فیصد سستا تیل کیوں نہیں خرید لیتے تو میں ان کے علم میں وینزویلا کا نام لانا چاہتا ہوں ہم وہاں سے بھی سستا اور تین چار سالوں کے ادھار پر تیل خرید سکتے ہیں لیکن یہ فیصلہ ریاست اور حکومت دونوں  کے لیے ناممکن ہے کیونکہ اگر ہم ان ممالک سے پٹرولیم مصنوعات خریدتے ہیں تو سعودی عرب اپنا پیسہ واپس لے جائے گا تیل بچاتے بچاتے سارے ملک کی معیشت برباد ہو جائے گی اور خدانخواستہ کہیں ملک دیوالیہ نہ ہو جائے لہٰذا یہ بات تو طے ہے کہ ابھی ہم اس پوزیشن میں ہی نہیں کہ ہم  اپنا راستہ اوپیک سے الگ کرسکیں۔

دوسری وجہ آئی ایم ایف ہے جس کے  قرضے نے  ہماری نسلیں قید کر رکھی ہیں اگر حکومت تیل پر دی جانے والی سبسڈی جاری رکھتی ہے تو آئی ایم ایف  قرض کی اگلی قسط نہیں دے گا اور ہم پھر سے دیوالیہ ہونے کی طرف ایک قدم اور بڑھ  جائیں گے پاکستان میں وزیراعظم ہونا آسان نہیں حکومت چاہ کر بھی پیٹرول کی قیمتیں کم نہیں کرسکتی۔

جیسے ہی پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے مہنگائی کا جن بے قابو ہو کر اپنے شکنجے اور مضبوط کر لیتا ہے اور عوام کے سر پر ایک اور بم گرا دیا جاتا ہے میرے ملک کے   غریب امیر اور سفید پوش طبقہ کو مہنگائی نے پیس کر رکھ دیا ہے سابقہ اور موجودہ حکومت عوام کو کسی بھی شعبہ زندگی میں ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے حکومت اور ریاست میں اس وقت بڑے بڑے قیمتی دماغ بیٹھے ہیں جو حکومت سے کروڑوں روپے ماہانہ تنخواہ بٹور رہے ہیں  ان سے ہی مشورہ لے لیں کہ کس طرح عوام کو مہنگائی کی دلدل سے نکالا جا سکتا ہے لیکن شاید یہ شاہی نوکر آپ کو کوئی مشورہ نہ دے سکیں  تو چلیں عوام سے ہی مشورہ لے لیں میرے ملک کے عوام کا پہلا مشورہ ملاحظہ فرمائیے 

وہ یہ ہے کہ اگر ایک مزدور یا نوکری پیشہ  موجودہ قیمت میں تیل خریدے گا تو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے قومی خزانے میں جمع ہو جائیں گے جو کہ ایک بہتر قدم ہے لیکن اگر ہو سکے تو صدر، وزیراعظم،وزراء اعلی،ججیز، بیوروکریٹس، اعلی عہدوں پر فائز پولیس افسران، گورنرز، منسٹرز، اشرفیہ اور ان جیسے تمام افراد جن کو ر یاست پروٹوکول، مفت تیل،مفت بجلی اور بہت سی دوسری مراعات سے نواز رہی ہے ان کے اخراجات کو فی الفور75فیصد تک کم کر دیا جائے۔

بقول اسی مراعات یافتہ طبقہ کے ملک اس وقت نازک ترین دور سے گزر رہا ہے تو خدارا آپ خود بھی اس ملک پر رحم فرما دیں یہ بات تو طے  ہے کہ جب تک ریاست آپ لوگوں کو مراعات سے نوازتی رہے گی تب تک آپ اس ملک میں رہیں گے ریٹائرمنٹ سے اگلے ہی دن یہ ملک آپ اور آپ کے اہل خانہ کے لیے غیر محفوظ ہو  جائے گا آپ کسی نہ کسی بڑے ملک میں کوئی جزیرہ، کوئی محل کوئی فلیٹ،خرید کر اپنے بچوں کو پر  سکون زندگی کے لیے وہاں منتقل کر دیں گے،لیکن مالکو ہم نے یہیں رہنا ہے  ہمارا اور ہمارے  اہل خانہ کا تو سب کچھ  ریاست پاکستان ہی  ہے  اس لیے ہم پر رحم فرما دیں اور کل سے ہی رضاکارانہ طور پر اپنے اپنے پروٹوکول واپس کر دیں  غریب اور مقروض قوموں کے افراد کی طرح زندگی کو سادہ کر لیں کیونکہ قوم پر جو کروڑوں ڈالر کا قرض چڑھا ہے اس میں قوم کا کوئی قصور نہیں یہ آپ لوگوں کی نوازشات ہیں جس سے ملک برباد ہو ا۔

دوسرا مشورہ ملاحظہ فرمائیے کہ جو موٹر سائیکل سوار اور ہزار سی سی گاڑی والے افراد ہیں یہ امیر لوگ نہیں ہیں انہیں پیٹرول میں کچھ نہ کچھ رعایت عطا فرما دیں شاید اس طرح یہ لوگ اپنا بچا کھچا بھرم قائم رکھ سکیں۔

ڈیرے دار کو اپنے کالموں اور تحریروں میں سب نے وزیراعظم پر سخت تنقید کرتے دیکھا ہوگا لیکن اب کی بار  میں وزیر اعظم سمیت بیوروکر یسی،جرنیلوں، ججوں،اشرفیہ  اور اس سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے تمام لوگوں سے یہی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ برائے کرم ہمیں زندہ رہنے کا کوئی راستہ دے دیں مالکو اس ملک پر ہمارا بھی کوئی حق ہے مالکو ہمیں بھی جی لینے دو عزت اور وقار کے ساتھ۔

مزید :

رائے -کالم -