ماں 

 ماں 
 ماں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 میری یادداشت کے مطابق اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ میں جس عورت کی محبت میں گرفتار ہوا وہ میری ”ماں“ تھی،سکول کے پہلے دن کا وہ منظر مجھے ابھی تک یاد ہے جب امی مجھے ٹیچر کے حوالے کر کے کلاس روم میں چھوڑ گئی تھیں۔غالباً یہ پہلا موقع تھا جب میں اپنی ماں سے چند گھنٹوں کے لئے ”بچھڑا“ تھا۔مجھے امی کا وہ بہلاوا بھی یاد ہے،میں نے انہیں کلاس روم میں چھٹی تک اپنے ساتھ ہی بیٹھنے کی ضد کی تو انہوں نے کہا کہ چولہے پر دودھ اُبلنے کے لئے رکھا ہوا ہے میں گھر جا کر دودھ اُبال لوں پھر واپس آتی ہوں۔ شاید امی نے یہ بہانہ اس لئے بنایا ہو کہ اس عمر میں بھی ہمیں پتہ تھا کہ گھر میں دودھ ایک ایسی شے ہے جس کا سخت ”پہرہ“ دینا پڑتا ہے، ابالتے وقت بھی اورٹھنڈا ہونے کے بعد بھی نگرانی کرنی پڑتی تھی کہ کہیں بلی نہ پی جائے،گھر کے صحن میں ایک ”چھکو“ لٹکا ہوتا تھا اور رات سوتے وقت دودھ کی دیگچی اس میں رکھ دی جاتی تھی۔ اس زمانے میں گھروں میں فریج وغیرہ نہیں تھے، دوسرا ہماری ”کلاس“ میں بند گھروں کا بھی کوئی خاص رواج نہیں تھا، کھلے صحن، کھلے دروازے اور ”اوپن“ چھتیں۔ مجھ سمیت گلی محلے کے بچے اکثر گُڈی  ”لوٹنے“کے لئے چھتیں پھلانگتے تھے جبکہ کھلے دروازوں کا بھی یہ عالم تھا کہ ساتھ والی ہمسائیاں  جب گھر کے ”پچھلے اندر“ پہنچ جاتیں تب ہمیں معلوم پڑتا کہ کوئی آیا ہے۔ امی کی سہیلیوں میں پابی صفیہ، چاچی بیناں (روبینہ)، خالہ رضیہ، تائی مُسرت اور آپاں جوراں (زہرہ) تھیں، جبکہ خالہ جمیلہ، رشیدہ، صُغراں اور طاہرہ وغیرہ کے ساتھ اچھی سلام دعا تھی۔ لیکن امی کی سب سے قریبی سہیلی آنٹی سیداں (غالباً سعیدہ) تھیں۔ گھر کے لکڑی کے دروازے کے ساتھ لوہے کی ایک کنڈی لگی ہوئی تھی اور اگر دروازے کے دونوں پلڑوں کو ہاتھ سے تھوڑا زور لگا کر دبائیں تو درمیان میں اتنا راستہ نکل آتا تھا کہ اگر دروازے کو کُنڈی لگی بھی ہوئی ہے تو ہاتھ ڈال کر اسے کھولا جا سکتا تھا۔ آنٹی سیداں کو امی نے یہ ”چور سوئچ“ بتایا ہوا تھا اس لئے انہیں دروازہ ”لاک“ ہونے کے باوجود کبھی کھٹکھٹانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی،

وہ اسی ”ٹرک“ کو استعمال کرتے ہوئے دروازے کے باہر سے ہی اندر والی کُنڈی کھول کر گھر آ جاتی تھیں۔ آنٹی سیداں کمیٹی بھی ڈالتی تھیں جبکہ لیڈیز کپڑوں کی سلائی میں بھی ان کاثانی نہیں تھا، تاہم اصل ”سپیشلٹی“ ان کی پر ترنم آواز تھی جس میں وہ نعت پڑھتی اور قرآن پاک کی تلاوت کرتیں، ان کے گھر میں گیارہویں شریف کا ختم ہوتا تو امی خصوصی شرکت کرتیں۔ گلی محلے یا عزیز و اقارب میں کسی کی وفات پر آنٹی سیداں نعتیں اور سورتیں اتنے خوبصورت انداز میں پڑھتی کہ پورا ”ماحول“ بن جاتا۔ امی ان کی اس صلاحیت سے اس قدر متاثر تھیں کہ ایک دفعہ انہوں نے آنٹی کو کہا کہ سیداں جب میں مرُوں گی تو میری چارپائی کے قریب بھی اسی طرح قرآن پاک، نعت رسولؐ اور کلام الٰہی پڑھنا تا کہ میری میت ”سج“ جائے۔تاہم زندگی نے وفا نہ کی اور آنٹی سیداں امی سے کئی برس پہلے ہی بزم جہاں کو الوداع کہہ گئیں۔ جب امی چارپائیاں بنتی تو اس کے لئے ایک ”ہتھا“ استعمال ہوتا تھا جو تائی مُسرت سے اُدھار لیا جاتا تھا، اس کے علاوہ اُن کے گھر ”کونڈے“ کی رسم ہوتی تھی جس میں پوریوں کے ساتھ میٹھی کھیر ہوتی تھی۔ آپاں زہرہ کے ساتھ امی کا بہت احترام بھرا رشتہ تھا، اُن کی بیٹیاں عمروں میں چھوٹی ہونے کے باوجود امی کو ”پابی“ (بھابھی) کہتی تھیں، باجی ”چھما“ اور امی ایک زمانے میں نماز فجر کے بعد صبح کی سیر کے لئے جاتے تھے۔ جب ہم چھوٹے اور ابو جی نوکری کے سلسلے میں دوسرے شہر جاتے تو آپاں زہرہ کے فرمانبردار بیٹے بازار سے کبھی کبھار سودا سلف اور سائیکل پر گیس سلنڈر وغیرہ بھروا کر لا دیتے تھے جس پر امی ہمیشہ شکر گزار رہتیں۔


 دودھ اُبالنے والی بات سے مجھے یاد آیا کہ امی کی معمولی ”بچتیں“ بھی دودھ کے ”ناغوں“ سے ہوتی تھیں۔اسی قسم کی بچتیں کر کے امی نے اپنے گھر کا  ہر کام کر لیا۔ ہمارے گھر میں دو کمرے اور آگے برآمدہ تھا۔ آگے، پیچھے دو کمروں میں ایک کا نام ”اغلا اندر“ اور دوسرے کا نام ”پشلا اندر“ تھا۔ امی نے بچتیں اور کمیٹیاں ڈال ڈال کر ان دو کمروں کے سامنے ”بیٹھک“ بنا لی، پھر اوپر ایک کمرہ اور کچن بنایا،بعد ازاں ایک عدد برآمدہ اور صحن بنا کر گھر کو باقاعدہ ”دو منزلہ“ کر دیا۔ انہی بچتوں سے امی نے مجھے سائیکل اور موٹر سائیکل لے کر دی، بچوں کو بدلتے زمانے سے ہم آہنگ رکھنے کے لئے سٹیریو سسٹم، وی سی آر اور رنگین ٹیلی ویژن خرید کر دیا، جبکہ فریزر، مکھن نکالنے کے لئے الیکٹرک ”مدھانی“، فالودے کی سویاں بنانے والی مشین لا کر گھر میں رکھی۔ بسم اللہ کے نام سے شالیمار لنک روڈ پر ”ہوم ایمپلائنسز“ کی ایک پرانی دکان تھی، لہٰذ گھریلو اخراجات میں ”بچتوں“ سے امی کے پاس جب بھی چار پیسے ”جڑ“ جاتے تو امی اس دوکان پر پہنچ کر گھر کی کوئی ”چیز“ خرید لاتیں۔محدودمالی وسائل کے باوجود امی کی بچتوں کا نتیجہ تھا کہ بہن بھائیوں کی شادیوں سے لے کر زندگی میں آنے والی ہر خوشی اور غم میں امی نے کسی ”خفیہ“ صندوق سے پیسے نکال کر خرچ کئے۔اپنی زندگی کے آخری ایام میں ابو نے امی کا شکریہ بھی ادا کیا کہ تم نے اپنے گھر اور بچوں پر بہت جان ماری ہے۔


مجھے یاد کرنے کے باوجود اپنی زندگی کا کوئی ایک دن یا پل بھی ایسا یاد نہیں جس میں امی نے کبھی نماز چھوڑی ہو۔ باغبانپورہ بازار خریداری کے لئے جاتیں اور اس دوران نماز کا وقت ہو جاتا تو راستے میں ہی کسی اجنبی کا دروازہ کھٹکھٹا کر نماز ادا کر لیتی تھیں۔شدید علالت کے دنوں میں جب ہمت بالکل جواب دے گئی اور نماز ادا کرنے کے قابل نہ رہیں تو ”احتجاجاً“ کھانا پینا ہی ترک کر دیا، کہ اگر نماز نہیں پڑھ سکتی تو کھانے کا کیا فائدہ؟صبح صادق کے وقت امی کے قدموں کی چہل پہل سے ہماری نیند کچی ہوتی تھی، سکول کے زمانے میں ہمارے اٹھنے تک امی عبادت کی ایک پوری ”شفٹ“ لگا چکی ہوتی تھیں جس میں ان کی نماز فجر، قرآن مجید کی تلاوت اور دیگر عبادات وغیرہ شامل ہوتی تھیں۔ساری زندگی امی عشاء کی 17 رکعتوں کے ساتھ شکرانے کے دو نوافل بھی اس لئے ادا کرتیں کہ یا اللہ تیرا شُکر ہے کہ آج کا دن بھی خیر خیریت سے گزار دیا۔
امی کی زندگی دین اور دنیا کا بہترین امتزاج تھی، وہ اپنے بچوں کی خاطر دنیاوی تقاضے پورے کرنے میں تو مگن رہیں، مگران کے دِل میں کبھی بھی ضرورت سے زیادہ مال و اسباب کی خواہش پیدا نہیں ہوئی، نہ کبھی کسی کو دیکھ کر متاثر ہوئیں، ان کی زبان پر بس شکر کا کلمہ رہتا۔ ہر معمولی شے کو بھی اچھا کہتیں،جو کچھ میسر تھا اسی میں خوش رہیں اور ہمیشہ کہتیں کہ ”کیڑی نوں ٹھُوٹھا ای دریا اے“۔ مطلب کہ چیونٹی کے لئے پانی کا پیالہ ہی دریا کے برابر ہے۔


امی کو موت سے کبھی ڈر نہیں لگا تھا بلکہ وہ موت کو ”بلے لگنا“ کہتی تھیں۔انہیں ڈر اس بات سے لگتا تھا کہ انسان بیماریا معذور ہو کر چارپائی سے نہ لگ جائے۔ جب کبھی اخبار میں کسی بم دھماکے کی خبر پڑھتی جس کی سرخی میں لکھا ہوتا کہ دھماکے میں اتنے جاں بحق اور اتنے زخمی ہو گئے تو امی کہتیں جو مر گئے ان کی تو ”خلاصی“ ہو گئی لیکن اصل آزمائش زندہ بچ جانیوالوں کی ہے۔اس دُنیا سے چلتے پھرتے ”بِلے لگنے“ کی امی کی خواہش پوری نہ ہو سکی، جنہوں نے زندگی کے آخری سال شدید علالت میں گزارے۔3 نومبر 2021 ء کو جب ابو کا انتقال ہوا سی دن میرے والدین کی 47 سالہ دُنیاوی رفاقت اختتام پذیر ہوگئی۔ ابو کی وفات کے بعد امی جی بمشکل 7 ماہ گزار کربدھ 8 ذیقعد1443 ء ہجری، 8 جون 2022 ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔پانچ روز بعد(بروز جمعرات) امی جی کی پہلی برسی ہے، دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ماں، باپ کی کامل مغفرت فرما کر انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء کریں اور اگلے جہاں میں بھی ان مُتبرک ہستیوں کو ایک دوسرے کا ساتھ نصیب فرمائیں۔(آمین)

مزید :

رائے -کالم -