عاشق نے نامہ بر کے ہاتھ ایک پنسل بھیجی تھی کہ محبوبہ کے ہاتھ سے کسی طرح چھوا لائے،پھر رومال بھیجا کہ محبوبہ اس پر چھینک دے، لیکن کامیابی نہ ہوئی(شفیق الرحمان کی مزاح سے بھرپور تحریر )

عاشق نے نامہ بر کے ہاتھ ایک پنسل بھیجی تھی کہ محبوبہ کے ہاتھ سے کسی طرح چھوا ...
عاشق نے نامہ بر کے ہاتھ ایک پنسل بھیجی تھی کہ محبوبہ کے ہاتھ سے کسی طرح چھوا لائے،پھر رومال بھیجا کہ محبوبہ اس پر چھینک دے، لیکن کامیابی نہ ہوئی(شفیق الرحمان کی مزاح سے بھرپور تحریر )

  

قسط: 5

سبحان اللہ۔۔۔ تیرا انجام سوچتا ہوں۔۔۔ کیا سوز مضمر ہے اس میں۔۔۔ ایک اور شعر ہے جو وہ عموماً آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر گایا کرتا ہے، 
اپنی صورت کو دیکھتا ہوں
اس کی قدرت کو دیکھتا ہوں
عاشق نے پیٹ کے بل لیٹ کر چار آہیں بھریں، اب اس نے کروٹ لی اور پانچ ٹھنڈے سانس لیے۔ اب وہ سیدھا لیٹ کر چاند کی طرف دیکھ رہا ہے اور منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہا ہے۔ اے لو! وہ لپک کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ سامنے میز پر کاغذات پڑے ہیں۔ عاشق کیا شاعری کر رہا ہے۔۔۔؟ نہیں۔۔۔! اف! یہ تو تارے گن رہا ہے۔ آسمان کو دیکھتا ہے اور کاغذ پر پرکار وغیرہ سے نقشہ بنانے لگتا ہے۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ عاشق علم ریاضی میں ماہر ہے۔ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عاشق نے نامہ بر کے ہاتھ ایک پینسل بھیجی تھی کہ محبوبہ کے ہاتھ سے کسی طرح چھوا لائے۔ پھر ایک رومال بھیجا کہ محبوبہ اس پر چھینک دے، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ 
سامعین! آپ افسردہ نہ ہوں۔ سچی محبت میں ایسی باتیں اکثر ہواکرتی ہیں۔ دنیامیں رنج والم نسبتاً زیادہ ہیں۔ یہ کون مسخرہ آرہاہے۔۔۔؟ اوہ! یہ چارہ گر ہے۔ اس کے ہاتھ میں چائے کا سیٹ ہے۔ اگر عاشق چائے نہ پیے تو اس کا سٹیمنا ختم ہو جائے۔ عاشق نے جلدی جلدی چائے پی۔ چائے دانی کو ایک پتھر پر دے مارا، پیالیاں ادھر ادھر پھینک دیں۔ چھلانگیں مارتا ہوا بھاگا اور گھاس کے ایک قطعے پر لیٹ کر مجبوبہ کو یاد کرنے لگا۔ اتوار کے روز ریگستان کا پروگرام ہوتا ہے۔ عاشق ایک چھوٹی سی ٹوکری میں کھانے پینے کی چیزیں، تھرماس اور چند دیوان ساتھ لے جاتا ہے۔ وہاں صبح سے شام تک ٹیلوں پر بھاگنا، فرضی اونٹوں کا تعاقب کرنا، دھول اڑانا، کانٹوں پر ننگے پاؤں پھرنا اور آہ وزاری وغیرہ کرنے کا پروگرام ہوتا ہے۔ 
وہ اس نے منہ میں تھرمامیٹر لگایا اور گھڑی نکال کر نبض گننا شروع کی۔ تھرمامیٹر پڑھا، کاغذ پر ٹمپریچر لکھا اور نبض درج کی۔ یہ اس لیے کہ اس سے گرمی عشق کا اندازہ رہتا ہے۔ اگر ٹمپریچر یا نبض گر جائے تو ظاہر ہے کہ عشق کا جذبہ سرد ہوتا جا رہا ہے۔ چنانچہ جب کبھی یوں ہونے لگتا ہے تو عاشق دگنے جوش سے اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ 
سامعین! ہم نے یہ چارٹ دیکھا تھا، عاشق کا ٹمپریچر ایک سو ایک اور نبض ڈیڑھ سو تک پہنچ چکی ہے۔ ویسے آج صبح بھی ٹمپریچر خاصا تھا۔ شاید اس لیے کہ آج عاشق کو زکام ہے اور وہ کچھ بیزار بھی ہے۔ عاشق کے کمرے میں ایک گراموفون ہے اور بے شمار ریکارڈ ہیں۔ نوکر ہر پندرہ منٹ کے بعد ایک ریکارڈ لگا دیتا ہے۔ خواہ عاشق باغ میں ہو یا چھت پر۔ چنانچہ اگر آپ اب بھی کانوں پر زور ڈالیں تو مدھم آواز میں ایک ریکارڈ سنیں گے۔ (آواز آتی ہے۔۔۔ ) عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب۔ 
اس کے محبوب ترین ریکارڈ یہ ہیں!
’ہم تو تنگ آکے دنیا سے مرجائیں گے۔، 
’کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو۔‘
’تیرے جہاں سے چلے دل میں دل کی بات لیے۔‘
ان ریکارڈوں کے نمبر ہیں۔۔۔ تین ہزار پانچ سو سترہ سے بیس تک اور یہ آپ کو نیلے گنبد کی دکان سے مل سکتے ہیں۔ عاشق ایک دو بجے کے قریب بستر پر لیٹ جائے گا جس پر بے شمار سلوٹیں پڑی ہوں گی، اور ساری رات آہ و زاری میں گزارے گا۔ خوب کروٹیں لے گا اور شاید ایک دو مرتبہ پلنگ سے نیچے بھی گر پڑے گا۔ پھر صبح صبح اٹھ کر بھاگتا ہوا دریا کے کنارے جائے گا۔ وہاں پانی کی لہروں سے دل کے راز کہے گا۔ دوپہر تک جنگلوں میں پھرے گا۔ شام کو غروب آفتاب دیکھنے ایک مینار پر چڑھ جائے گا۔ چاندنی راتوں میں عاشق کی صحت بہت گرجاتی ہے۔ جب بارش ہو رہی ہو تو اس کی حالت مخدوش ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات تو ترس آنے لگتا ہے۔ اس کی آہ وزاری سے تنگ آکر اڑوس پڑوس کے تمام ہمسائے مکان خالی کر گئے ہیں۔ ان میں سے چند ایک تو دیکھا دیکھی عاشق بن گئے۔ چارمہینوں سے عاشق نے سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔ تبھی اس کی جیبوں میں اکثر خشک میوے ملتے ہیں۔ آج کل اس کا گزارا چائے پر ہے۔ 
اچھا سامعین! اب ہم اجازت چاہتے ہیں۔ ایک ننھی سی چڑیا ہمارے کان میں کہتی ہے کہ یہ عاشق اس وقت کیا کرے گا جب اپنی محبوبہ کو سچ مچ دیکھ پائے گا۔ نہ تو ہم نجومی ہیں، نہ غیب کی باتیں جانتے ہیں۔ اچھا خدا حافظ!

(جاری ہے )

 "شگوفے " سے اقتباس