اسرائیلی جنگی کابینہ نے غزہ سیز فائر تجاویز کی منظوری دیدی، حماس کی رضا مندی کاانتظار
مقبوضہ غزہ،تل ابیب، واشنگٹن(این این آئی) اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دیدی۔اسرائیلی حکام نے کہا ہے اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دیدی ہے اور انہیں اب حماس کے ردعمل کاانتظار ہے، تاہم اسرائیلی حکام نے یہ بھی کہا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگی مقاصد پورے ہونے، مغویوں کی رہائی اور حماس کی تباہی تک مستقل جنگ بند ی کیلئے رضامند نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے اگر حماس امریکی تجاویز پر رضا مند ہوجائے تو اسرائیل بھی مان جائیگا۔جان کربی نے امریکی صدر جو بائیڈن کے جانب سے غزہ میں جنگ بندی کیلئے تجویز کیے گئے معاہدے کے حوالے سے کہا امریکا کی دی گئی تجاویز اسرائیلی تجاویز تھیں، حماس مان جائے تو اسرائیل بھی ہاں کہہ دیگا۔خیال رہے صدر بائیڈن کے تین مراحل پر مشتمل مجوزہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 6 ہفتے کی جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کی واپسی، امداد کی فراہمی، دوسرے مرحلے میں مستقل جنگ بندی کی بات چیت اور تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو شامل ہے۔علاوہ ازیں غزہ میں 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں مزید 95 فلسطینی شہید اور 350 زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک بیان میں غزہ وزارت صحت کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 36 ہزار 379 ہوگئی جبکہ 82 ہزار 407 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔دوسری جانب امریکی ریاست اوکلاہوما میں غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے قبضہ جرم ہے، اسرائیل فلسطین سے نکلو کے نعرے لگائے۔لندن میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلیے خواتین، بچوں سمیت سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکلے اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔فرانس میں ہزاروں افراد نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا، پیرس میں فلسطینی پرچم لہراتے لوگوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔بھارت میں بھی فلسطین کے حق میں مظاہرہ ہوا، فلسطین آزاد کرو کے نعرے لگاتے مظاہرین نے مودی حکومت سے اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔علاوہ ازیں امریکی صدر جوبائیڈن بالآخر غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ دیگر ثالثوں قطر اور مصر نے بھی فریقین (اسرائیل اور حماس) پر اس روڈ میپ کو قبول کرنے پر زور دیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے امریکی صدر جوبائیڈن کے جنگ بندی روڈ میپ کی کئی تجاویز کو قبول کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے اگر حماس نے انحراف کیا تو اسرائیل دوبارہ جنگ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔صیہونی ریاست کے سرکاری براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ورڈ میپ کے مرحلے میں اپنے 33 یرغمالیوں کی زندہ یا مردہ حالت میں واپسی اور دوسرے مرحلے میں جنگ ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔دو سری طر ف اسرائیل کی مخلوط حکومت کے دو انتہا پسند اتحادی وزرا نے نیتن یاہو کو حماس جنگ بندی کی صورت میں حکومتی اتحاد چھوڑنے اور حکومت گرانے کی دھمکی دے دی۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق بن گویر اور بزالیل سموٹریچ نیتن یاہو کابینہ کے انتہا پسندی میں سب سے آگے بڑھے ہوئے اتحادی ہیں اور دونوں کے خیالات جنگ کے بارے میں انتہا پسندانہ رہے ہیں، بن گویر نے صدر جو بائیڈن کے جمعہ کے روز پیش کی جانیوالی جنگ بندی تجاویز پر سخت ردعمل دیا ہے۔اسرائیلی کابینہ میں داخلی سلامتی کے امور کے وزیر ایتمار بن گویر نے نیتن یاہو کو دھمکی دی ہے کہ اگر نیتن یاہو نے امریکی صدر جوبائیڈن کی جنگ بندی تجاویز کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کی تو وہ حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔بن گویر کے علاوہ سموٹریچ نے بھی نتین یاہو کو تنبیہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے حماس کے مکمل خاتمے کے بغیر جنگ بندی قبول کی تو دونوں حکومت کا حصہ نہیں رہیں گے اور حکومت چھوڑ دیں گے۔بن گویر کے مطابق ان تجاویز پر معاہدہ کرنا سخت احمقانہ اور دہشت گردی کو فتح یاب کرنے کے مترادف ہوگا، جس کا مطلب اسرائیلی سلامتی کو مستقل خطرے میں ڈالنا ہے، جب تک ایک مکمل فتح نہیں ہوتی تو ایسا معاہدہ کرنا مکمل شکست کے برابر ہوگا۔ اسی طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر وزیر خزانہ اور مخلوط اسرائیلی حکومت کے دوسرے بڑے اتحادی بزالیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ وہ ایسی حکومت کا حصہ نہیں رہیں گے جو تجویز کردہ جنگ بندی کے خاکے سے اتفاق کرے گی۔انہوں نے لکھا ہم جنگ کے تسلسل کا مطالبہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ حماس کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے اور یرغمالیوں کو واپس گھروں میں لایا جائے۔ دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے حماس سے جنگ بندی معاہدے کی صورت میں نیتن یاہو کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ دوروز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیل، حماس جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کرتے ہوئے حماس سے قبول کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد سے نیتن یاہو پر عالمی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔علاوہ ازیں قطر، امریکا اور مصر نے اسرائیل اور حماس سے صدر جوبائیڈن کے مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔مصری سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ مصررفح راہداری دوبارہ کھولنے کے معاملے پر مذاکرات کے لیے اسرائیلی اور امریکی حکام کی میزبانی کرے گا۔عرب ٹی وی کے مطابق یہ راہداری محصور غزہ کی پٹی میں امداد کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ نامعلوم سینئر اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ قاہرہ مصر کے ساتھ غزہ کی جنوبی سرحد پر واقع ٹرمینل سے مکمل اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کر رہا ہے۔امریکی سپر ماڈل بہنوں بیلا اور جیجی حدید نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت سے تباہ حال فلسطینیوں کیلئے 10 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان کردیا۔
غزہ
