قومی آزادی:مضبوط معیشت و دفاع کی متقاضی

قومی آزادی:مضبوط معیشت و دفاع کی متقاضی

پاکستان ایک غریب اور ترقی پذیر ملک ہے۔ اگرچہ اسے قائم ہوئے 65سال کا عرصہ گزر گیا ہے، لیکن تاحال اہلِ وطن،آزادی کے اصل ثمرات سے فیض یاب ہونے سے قاصر و لاچار چلے آ رہے ہیں۔ملکی معیشت مفلوج و مخدوش ہونے کی بنا پر، بعض بڑی طاقتیں اور غیر ملکی مالیاتی ادارے، قرضے اور امداد دینے کے ساتھ یہاں کی اقتصادی، دفاعی اور تعلیمی پالیسیاں بھی بناتے اور چلاتے ہیں۔یہ ان کی مرضی اور صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ کسی ملک کے نظم و نسق کو امن و سکون سے جاری رکھنے دیں یا اسے مسلم شعائر پر مائل اور راغب دیکھ کرکسی وقت دہشت گردی، انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کی الزام تراشی کا ملزم ٹھہرا کر، اس کی آزادی و خود مختاری اور ترقی کو محدود و مسدود یا تہہ و بالا کرکے رکھ دیں، معاشی ضروریات اور دفاعی مسائل، بیشک ایسے عوامل ہیں، جن سے مطلوبہ وسائل کی موجودگی ، رسائی اور فراہمی کے بغیر،تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر عملدرآمد کرنا ممکن نہیں ہوتا۔اس طرح مالی وسائل اور قرضے فراہم کرنے والے ممالک، مختلف خطہ ہائے ارض میں اپنی بالادستی اور اجارہ داری قائم رکھنے کی خاطرکڑی شرائط عائد کرکے اپنی مرضی کی پالیسیاں مسلط کرنے کی ڈگر پر تادم تحریر رواں دواں ہیں۔

ان پابندیوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے متعلقہ اصلاح احوال پر اولین ترجیح دی جائے۔دہشت گردی عائد کرنے کا جرم، افغانستان پر حملہ آور ہونے کے لئے تخلیق کیا گیا۔امریکہ کے عالمی طاقت ہونے کے مقام و مرتبے کا غیر قانونی اور ناجائز طور پر استعمال ،مہذب اور غیر جانبدار قوتوں اور اداروں کے لئے ایک کھلا چیلنج اور حق و انصاف کے مسلمہ اصولوں اور اقدار کو ماپال کرنے کی دورِ حاضر کی ایک ناقابل فراموش مثال ہے۔کہاں افغانستان کے مفلوک الحال اور پسماندہ لوگ اورکہاں امریکہ کا جدید اور ترقی یافتہ ملک، جو معاشی اور دفاعی لحاظ سے عالمی سطح پر بلند مقام رکھتا ہے۔

کیا یہ ستم نہیں کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی موجودگی میں، امریکہ بہادر نے برطانیہ اور دیگر یورپی اتحادی ممالک کو بھی اس تخریب کاری کے ارتکاب کے لئے اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔دہشت گردی کے الزام میں پاکستان کے کئی مقامات پر خودکش حملے اور ڈرون میزائلوں کی تباہ کاریاں رونما کی گئیں۔عراق میں تو زیادہ تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کرنے اور ذخیرہ کرنے کا کوئی ٹھوس ثبوت، اقوام متحدہ کے اسلحہ انسپکٹروں کو بھی نہیں ملا تھا، حالانکہ انہوں نے امریکہ کے مطالبے پر وہاں کے کئی مشکوک مقامات کے چند بار دورے کئے تھے، لیکن ان حقائق کے باوجود امریکی اتحادی افواج نے مارچ 2003ءمیں عراق پر حملہ کرکے چند سال کی جارحانہ کارروائیوں میں اس ملک کے لاکھوں بے قصور لوگوں، بشمول خواتین اور بچوں کو،شب و روز کی فضائی بمباری میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔دیگر لاتعداد افراد زخمی و معذور ہونے کے علاوہ بے گھر اور بے در ہوگئے۔ کئی شہروں میں ہزاروں عمارتوں کو مسمار کرکے ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل کردیا گیا۔پاکستان کو بھی ایک مسلم اور ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہونے کی حیثیت سے گزشتہ گیارہ سال سے دہشت گردی کے ارتکاب و معاونت کی بے بنیاد الزام تراشی کا ہدف بنا کر انہی قوتوں کی جانب سے ظلم و جبر کا ہدف بنائے رکھنا انسانی حقوق اور انصاف کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور تضحیک پر مبنی کارروائیاں ہیں۔ڈرون حملوں سے ہزاروں بے قصور افراد اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔یہ مظالم پاکستان، افغانستان اور عراق کے کمزور معاشی اور دفاعی حالات اور انتظامات کی بنا پر روا رکھے گئے ۔ان شعبوں کی کمزوریاں اور خرابیاں جلد دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔       ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...