پنجاب حکومت کے تعلیم دوست منصوبے

پنجاب حکومت کے تعلیم دوست منصوبے
پنجاب حکومت کے تعلیم دوست منصوبے

 جہالت اورغربت کے خاتمے کے لئے معیاری و جدید تعلیم کا فروغ ضروری ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ میرٹ پالیسی کو اپناتے ہوئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ دانش سکو لز، یونیورسٹیز اور لیپ ٹاپ و سولر لیمپ آنے والی نسلوں کا مقدر سنواریں گے اور یہ اثاثے قوم کی امانت ہیں۔ نوجوان طبقہ کو آگے لانے کیلئے اجالا پروگرام کے تحت اڑھائی ارب روپے سے سولر لیمپس دئیے جا رہے ہیںتاکہ لوڈشیڈنگ سے ان کی پڑھائی کا نقصان نہ ہو۔ موجودہ دس ارب روپے کے پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ سے پچاس ہزار طلباکو وظائف دئیے جا رہے ہیں۔ موجودہ مالی سال کے دوران سوا لاکھ لیپ ٹاپ ذہین طلبا میں تقسیم کئے جائیں گے اور انتخابات میں کامیابی کے بعد اگلے مالی سال کے دوران سوا لاکھ لیپ ٹاپ کی بجائے تین لاکھ لیپ ٹاپ ہونہار طلبا میں تقسیم کریں گے۔ 5سالوں کے دوران 50کالجز قائم کئے ہیں جن میں سے 12 لاہور میں کھولے ہیں۔ حکومت نے میرٹ پالیسی کو فروغ دیتے ہوئے میڈیکل کالجز و انجینئرنگ یونیورسٹیز میں سیلف فنانس کی سیٹیں ختم کر دی ہیں اور صرف میرٹ پر آنے والے طلبا ہی ان اداروں میں داخلہ لے سکتے ہیں۔

5ہزار سے زائد ہائی سکولوں اور 515 مڈل سکولوں میں آئی ٹی لیپزقائم کی گئی ہیں۔ ایک ارب روپے کی لاگت سے صوبہ میں ایک ہزار ہائی سکولوں میں جدید سائنس لیبز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ صوبہ بھر میں سکول اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لئے میرٹ پر شفاف انداز میں 70 ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کئے گئے ہیں۔

صوبے کے پانچ اضلاع ڈیرہ غازی خان،ساہیوال، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور لاہور میں میڈیکل کالج قائم کئے گئے ہیں جبکہ بھکر میں بھکر میڈیکل کالج کے قیام کی منظوری بھی دے دی گئی ہے اسی طرح پہلے سے کام کرنےوالے میڈیکل کالجز میں نشستوں کا اضافہ کیا گیا ہے نوجوان نسل آئی ٹی کی جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لئے لاہور میں پہلی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی گئی ہے صوبے بھر میں پسماندہ ترین طبقات سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے بچوں کے لئے ایچی سن کالج سے بھی زیادہ سہولیات کے حامل دانش سکولز قائم کئے گئے یہ سکول حاصل پور، چشتیاں، رحیم یار خان میں کام کر رہے ہیں۔ میانوالی میں دانش سکولوں کا افتتاح کر دیا گیا ہے جبکہ اٹک میں دانش سکول کا افتتاح چند دنوں میں کر دیا جائے گا حکومت پنجاب نے صوبے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے یوتھ انٹرن شپ پروگرام کا آغاز کیا ہے ۔ اس پروگرام کے تحت 50 ہزار نوجوانوں کو پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے ذریعے 3 سال کے لئے انٹرن شپ پر رکھا جارہا ہے۔ انٹرن شپ پروگرام کے تحت ہر امیدوار کو 10 ہزار روپے ماہانہ وضیفہ بھی دیا جا رہا ہے پڑھے لکھے نوجوانوں میں 20ہزار گاڑیوں کی میرٹ پر تقسیم بھی نوجوانوں کو برسرروزگار کرنے کی ایک کڑی ہے اس سکیم پر حکومت پنجاب نے اربوں روپے خرچ کئے ہیں تاکہ نوجوان باعزت روزگار حاصل کر سکیں اور صوبے کی معیشت پر بوجھ بننے کی بجائے اسے سہارا دینے کے قابل ہو سکیں۔

پنجاب حکومت نے تعلیمی شعبہ کی بہتری اور علم کی کرنیں صوبے کے کونے کونے میں بکھیرنے کے لئے اربوں روپے خرچ کئے ہیں جس کی ملک کی 65 سالہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں تعلیمی شعبے پر صرف 10 ارب روپے خرچ کئے گئے ”پڑھا لکھا پنجاب “ کے نام پر کروڑوں روپے اشتہار بازی پر ضائع کئے گئے۔ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت نے تعلیمی شعبے کی بہتری پر گذشتہ پانچ برسوں میں 111 ارب روپے خرچ کئے ہیں۔ صوبے بھر کے میرٹ سکالرز میں اربوں روپے سے لیپ ٹاپ، سولر لیمپس، تعلیمی وظائف کی تقسیم کے علاوہ 4 ہزار سے زائد سکولوں میں آئی ٹی لیبز قائم کر کے تعلیمی شعبے میں انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔ پنجاب میں میرٹ پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ تمام تعلیمی پروگراموں اور دیگر منصوبوں میں میرٹ اور شفافیت کو ہی اولین ترجیح دی گئی ہے۔ میرٹ ملک کی ترقی کا واحد راستہ ہے اسے پاکستان اور معاشرے کا جھومر ہونا چاہئے۔ اگر میرٹ پالیسی کو پورے پاکستان میں لے جانا ہے تو پھر 18 کروڑ عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت سے فیصلہ کرنا ہو گا اور ایسی قیادت منتخب کرنا ہو گی جو ملک میں اندھیروں کو ختم کر کے اجالے لیکر آئے۔ میرٹ، انصاف کے بول بالا، قانون کی حکمرانی کے ذریعے پاکستان کو قائد و اقبال کا ملک بنایا جا سکتا ہے۔ غربت، بیروزگاری، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے اندھیرے دور کئے جا سکتے ہیں۔ لاہور میں دنیا کا بہترین میٹرو بس سسٹم رائج کیا گیا ہے جس سے ٹرانسپورٹ کے کلچر میں تبدیلی آئے گی۔ میٹرو بسوں میں خادم پنجاب ، صوبائی وزرا، ارکان اسمبلی، پروفیسرز، وکلا، سرکاری افسران اور محنت کش اکٹھے سفر کر رہے ہیں۔ ان بسوں کی وجہ سے طالب علم وقت ضائع کئے بغیر مختلف تعلیمی درسگاہوں میں وقت پر پہنچ رہے ہیں ۔     ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...