غریبوں کا ”احساسِ مسرت“

غریبوں کا ”احساسِ مسرت“

مَیں اپنے گھر سے نکلوں تو راستے میں دو سے تین ”تھڑے“ پڑتے ہیں، کوئی دس ماہ قبل دس سے بارہ ”گڑھے“ بھی پڑتے تھے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں موجود تھڑے جن کی تعدا اب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، لاہور کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی رونقیں تھے۔ ان تھڑوں پر بیٹھنے والے لوگ دنیا جہان کی نئی تازی ایک دوسرے کے ساتھ سانجھی کرتے تھے۔ ان تھڑوں کی حیثیت اور اہمیت کا ہر شخص قائل تھا۔ ان تھڑوں پر ہونے والی گفتگو اور بحث مباحثے آگے چل کر ایک سوچ پیدا کرتے تھے۔ ان تھڑوں کے ذریعے ہی سیاسی گرما گرمی بڑھتی تھی۔ مختلف لوگ اپنی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت اور سیاسی شخصیات کے بارے میں رائے عامہ ہموار کیا کرتے تھے۔ وہ مذاکرے اور مباحثے جو آج کل بڑے بڑے ہوٹلوں اور نیوز چینلوں پر دکھائے اور سنائے جاتے ہیں، ان کی ابتدا انہی تھڑوں سے ہوئی، جو اب آہستہ آہستہ ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ گو کہ پرانے لوگوں نے ان تھڑوں پر بیٹھ کر حالات حاضرہ پر گفتگو کی مشق جاری رکھی ہوئی ہے، مگر نوجوان نسل ان تھڑوں پر ہونے والی گفتگو کو بالکل پسند نہیں کرتی، ان کا زیادہ وقت کمپیوٹر اور ٹیلی ویژن کے سامنے گزرتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی اُکتا جائیں تو گلی کی نکڑ پر کھڑے ہو کر آنے جانے والوں کا تماشہ یا تعداد گنتے ہوئے دل پشوری کرنا شروع کر دیتے ہیں، اگر پھر بھی اداسی نہ جائے تو موٹر سائیکل کے اگلے ٹائر اٹھا کرخود تماشہ دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ کمپیوٹر اور ٹیلی ویژن کے ذریعے وہ دنیا بھر کے حالات جان لیتے ہیں، مگر انہیں اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ محلے میں کیا ہو رہا ہے۔ کون بیمار ہے، کس کے گھر چوری ہوگئی ہے۔ کون فوت ہوگیا ہے۔ محلے میں کون سا اجنبی آیا ہے، کیا کرتا ہے، کہاں رہتا ہے۔ اچھا آدمی ہے بھی یا نہیں؟ یا پھر شریف آدمی کے بھیس میں چور، اچکا، بدمعاش یا کوئی دہشت گرد ہے، مگر تھڑے پر بیٹھنے والوں کو ہر ایک کی خبر ہوتی ہے اور ہوتی تھی۔ خود مَیں جب پہلی بار ایک تھڑے پر گیا تو، تھڑے پر موجود بزرگوں میں سے ایک بزرگ نے تفتیشی نظروں سے دیکھتے ہوئے پہلا سوال یہی کیا کہ:”باو¿ جی تسی کدے مہمان ہو“.... باو¿جی آپ کس کے مہمان ہیں؟ پھر جب مَیں نے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے چائے کی پیالی ختم ہونے تک باتوں ہی باتوں میں میرا پورا ”شجرہ نسب“ پوچھ لیا۔ ممکن ہے، میرے جانے کے بعد انہوں نے میرے بارے میں مزید معلومات بھی حاصل کی ہوں، مگر اب تھڑے پر جانے کے لئے، مجھے دوبارہ تعارف کی ضرورت پیش نہ آئی، کیونکہ میرے جاتے ہی وہ مسکراتے ہوئے کہتے:”افضل باو¿ بڑے دناں بعد آئے او“....آو¿ افضل باو¿ بہت دنوں کے بعد آئے ہیں۔

 مطلب یہ کہ یہ تھڑے ایک طرح سے تفتیشی مراکز بھی تھے، مگر اب یہ تھڑے اپنے خاتمے کے قریب ہیں۔ ممکن ہے آنے والے چند برسوں میں ان کا وجود بالکل ہی ختم ہوجائے اور لفظ تھڑہ بھی صرف کتابوں اور کہانیوں میں ہی لکھا نظر آئے اور آنے والی نسلوں کا کوئی نمائندہ نوجوان اپنے والد سے پوچھ رہا ہو کہ ابا یہ تھڑے کیا ہوتے تھے؟ تو ابا جواباً کہے کہ بیٹا، ہمارے ابا کے زمانے میں کوئی جانور ہوا کرتا تھا، اب اس کی نسل ختم ہوگئی ہے۔

تھڑوں کے ساتھ ہی مَیں نے گڑھوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ تو یہ گڑھے بھی ہمارے محبوب سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کے زمانے کے تھے جو درجنوں بزرگ شہریوں کے گِٹے، گوڈے توڑنے کے بعد وزیراعلیٰ شہباز شریف کے دور میں برابر کئے گئے۔ ویسے ان گڑھوں کے پڑنے کی ایک کہانی یہ بھی ہے کہ سابق وزیراعلیٰ ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں بہت ”جلدی“ میں ہوتے تھے۔ کئی بار ایسا بھی ہُوا.... کہ کسی سڑک، کالج، ہسپتال کی عمارت کا سنگ بنیاد تو رکھ دیا گیا، مگر جلدی میں سڑک، کالج، ہسپتال بنانا بھول گئے۔ اب بھی پنجاب کے کئی شہروں میں مختلف مقامات پر وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے ہاتھوں ”افتتاح“ کی تختی تو نظر آتی ہے، مگر یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہاں بنایا کیا گیا ہے؟

خیر یہ تو سابق وزیراعلیٰ کے کئے گئے ترقیاتی کاموں کی ”تختیاں“ ہیں جو نظر آتی ہیں، مگر کچھ کام ایسے بھی ہیں جو صرف ان کے بیانات اور اخباری اشتہارات میں ہی نظر آتے ہیں اور یہ وہ ترقیاتی منصوبے تھے جو کم از کم دس، بیس سال کے عرصے میں ہی مکمل کئے جاسکتے تھے۔ مثال کے طور پر لاہور کے لئے وہ ایک زیر زمین ٹرین چلانا چاہتے تھے ، یہ منصوبہ کسی صورت میں بھی پانچ سال سے پہلے مکمل نہیں ہو سکتا تھا، اسی طرح وہ پنجاب کے ہر شہر اور گاو¿ں میں کالج، ہسپتال اور سڑکیں بنانا چاہتے تھے، جو سیدھا سیدھا چالیس سالہ منصوبہ تھا اور ان کا خیال تھا کہ جنرل پرویز مشرف چونکہ صدر پاکستان ہیں اور وہ کم از کم چالیس سال تک تو جانے والے نہیں ہیں، خود سابق وزیراعلیٰ دس بار پرویز مشرف کو صدر بنانے کا اعلان کرتے رہتے تھے۔ سو ان خیالات کے ساتھ وہ اپنے منصوبے ترتیب دیتے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ نہ جنرل پرویز مشرف جائیں گے، نہ پی پی پی آئے گی اور نہ نواز شریف، شہباز شریف کی واپسی ممکن ہوگی، یعنی خیال ان کا یہ تھا کہ:

سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے

مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ نواز شریف اور شہباز شریف کو واپس آنا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کو پردیسی ہونا تھا اور پی پی پی کی حکومت بھی قائم ہونی تھی، مزید یہ کہ چودھری پرویز الٰہی کو پی پی پی کی حکومت میں ڈپٹی وزیراعظم بھی بننا تھا۔ ان بدلے ہوئے حالات میں سابق وزیراعلیٰ کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ادھر شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب میں حقیقی ترقیاتی کاموں کا آغاز اس انداز میں شروع کر دیا.... کہ نئی سڑکیں، ہسپتال، دانش سکول اور دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعلیٰ کے ادھورے منصوبے بھی مکمل کرنا شروع کر دئیے، جن گڑھوں کا مَیں نے ذکر کیا ہے اور جو پرویز الٰہی کے زمانے میں پڑے تھے، انہیں بھی وزیراعلیٰ شہباز شریف کے زمانے میں ہموار ہونا نصیب ہوا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف جس انداز میں کام کر رہے ہیں، لوگ ان پر خوش ہیں، مگر سابق وزیراعلیٰ تنقید کرتے رہتے ہیں، حالانکہ اب وہ ڈپٹی وزیراعظم ہیں۔ ان کے اس منصب کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ قومی سطح کے مسائل کے حوالے سے بات کیا کریں، مثلاً انہیں کراچی اور بلوچستان کے حوالے سے بات کرنی چاہئے اور وفاقی نمائندے کے طور پر کراچی اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے وزیر داخلہ سے پوچھ گچھ کریں۔ ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے گفتگو کریں۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نے عوام کو پریشان کیا ہوا ہے، اس حوالے سے بہتری کے لئے کوئی کام کریں۔ ملک میں بے روزگاری عام ہے۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دینے کے لئے کچھ کریں، مگر انہیں پنجاب، بالخصوص میٹرو بس سروس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ انہیں میٹرو بس میں کرپشن ہی کرپشن نظر آتی ہے۔ وہ میٹرو بس سروس پر کئے جانے والے اخراجات بڑھاتے بڑھاتے ایک سو بیس ارب روپے تک لے گئے ہیں۔ انہیں اس منصوبے میں خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہیں۔ انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ پاکستان میں پہلی بار ایک ایسے منصوبے کو تکمیل تک پہنچایا گیا ہے، جس کے ذریعے اس ملک کے غریب لوگوں کو پہلی بار اپنے وی آئی پی ہونے کا احساس ہوا ہے۔

ایک غریب آدمی جب گجومتہ سے شاہدرہ تک سفر کرتا ہے تو جہاں اسے کم کرائے اور اعلیٰ بس سروس میں بیٹھنے کا سکون ہوتا ہے، وہاں وہ اس بات پر بھی خوش ہوتا ہے کہ اب ایک غریب آدمی کو بھی عزت سے سفر کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ پورے روٹ پر اسے کہیں بھی کسی جگہ بھی کسی وی آئی پی کے گزرنے کے لئے نہیں روکا گیا، بلکہ وہ خود وی آئی پی بن کر سفر کر رہا ہے او راس کی بس گزارنے کے لئے کئی وی آئی پی اشارے پر رُکے ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے مطابق اس پر 30 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں، زیادہ بھی خرچ ہوئے ہوتے تو وہ غریب مسافروں کے اس احساسِ مسرت اور تفاخر کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، جو وہ اس بس سروس کے ذریعے سفر کر کے حاصل کرتا ہے۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ، مگر سابق وزیراعلیٰ کو غریبوں کے اندر پیدا ہونے والے ”احساس مسرت“ کے جذبات کو مجروح نہیں کرنا چاہئے۔    ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...