عمران خان کی تنہا پرواز!

عمران خان کی تنہا پرواز!

بنتے بگڑتے انتخابی اتحادوں کی موجودگی میں عمران خان اپنی جماعت کو تنہا انتخابی اکھاڑے میں اتارنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف نے ابھی تک کسی سے انتخابی اتحاد کیا ہے اور نہ ہی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے۔ شیخ رشید احمد اگرچہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی جماعت کا چند نشستوں پر ایڈجسٹمنٹ کے لئے عمران سے خاموش معاہدہ ہوگیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف نے ابھی کسی کو بھی اپنے ساتھ ملانے کا عندیہ نہیں دیا اور تنہا پرواز کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس کے پس پردہ کیا سوچ کار فرما ہے، اس بارے میں کچھ کہنا تو قبل از وقت ہوگا، تاہم تحریک انصاف کی مقبولیت کا جو منظر اس کے داخلی انتخابات سے ابھرا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی یہ تنہا پرواز کسی خودکشی کے مترادف ہے، بلکہ اس حکمت عملی کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ تحریک انصاف سب سے جدا اور مختلف سیاسی قوت کے طور پر امتیازی حیثیت اختیار کر گئی ہے....چونکہ تبدیلی کا نعرہ عمران خان نے متعارف کرایا، اس لئے تحریک انصاف کا اتحادی سیاست کے حوالے سے محتاط رویہ سمجھ بھی آتا ہے، اگر یہ جماعت بھی روایات کی پیروی کرتے ہوئے ایسے سیاسی و انتخابی اتحادوں کا حصہ بن جاتی ہے، جس میں وہ قوتیں بھی شامل ہیں، جنہیں ہدف بنا کر عمران خان نے عوام میں مقبولیت حاصل کی تو اصل سیاسی خودکشی یہی ہوگی۔

پاکستان کا سیاسی نقشہ پچھلی چند دہائیوں میں ایک انتہائی پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ کہنے کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) قومی جماعتیں ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی جڑیں بھی اس قدر پھیلی ہوئی نہیں کہ پورے ملک کی سیاست کا احاطہ کر سکیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب چاروں صوبوں کو دیکھ لیجئے، کہیں مسلم لیگ (ن) نظر نہیں آئے گی اور کہیں پیپلز پارٹی منظر سے غائب ہوگی۔ ایسے میں اتحادی سیاست کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ جس طرح پیپلز پارٹی مستقبل کے حوالے سے مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور اے این پی سے مل کر انتخابات میں حصہ لینے کا منصوبہ بنا چکی ہے، مسلم لیگ (ن) بھی سندھ کی سیاست میں اثر و رسوخ کے لئے مسلم لیگ فنکشنل اور قوم پرست جماعتوں سے انتخابی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر رہی ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑی کامیابی کے لئے اس نے جمعیت العلمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) سے اتحاد کر لیا ہے۔ اس تناظر میں یہ بات اچنبھے کا باعث نظر آتی ہے کہ عمران خان کیسے تن تنہا انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں؟ اگر بالفرض ایسا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف سنگل اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آتی ہے تو یہ ملکی تاریخ میں ایک بہت بڑا سیاسی کرشمہ اور انتہائی دور رس نتائج کا حامل یوٹرن ہوگا.... عمران خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی گیند سے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت العلمائے اسلام کی وکٹ اُڑا دیں گے، لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟.... کیا اس کے لئے زمین تیار ہو چکی ہے؟.... کیا انہوں نے اتنی بڑی کامیابی کے لئے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے؟ کیا اُن کے پاس ایسے امیدوار موجود ہیں جو انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنا سکیں؟

مَیں ایک سے زائد بار عمران خان کی زبان سے یہ بات سُن چکا ہوں کہ تحریک انصاف آئندہ انتخابات میں1970ءکی پیپلز پارٹی سے بھی بڑی کامیابی حاصل کرے گی۔ ان کی جیت کا انحصار امیدواروں پر نہیں، بلکہ اُس لہر پر ہے جو تبدیلی کے حوالے سے موجود ہے اور جس کے لئے لوگ ووٹ دینے نکلیں گے۔ عمران خان کے مخالف ان کے ایسے دعوو¿ں کو بے وقت کی راگنی قرار دے کر رد کر دیتے ہیں۔ کچھ سیاسی مخالفین عمران خان کو خوابوں کی دنیا میں رہنے والا شہزادہ قرار دے کر ان کی سب باتوں کو مسترد کرتے ہیں، مثلاً پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ عمران خان کو سندھ سے کون سی سیٹیں ملیں گی؟.... کیا وہ کراچی سے ایم کیو ایم کی روایتی نشستیں جیت سکیں گے۔ کیا لاڑکانہ سے انہیں کوئی کامیابی ملے گی؟.... اسی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ، جہاں قبائلی سیاست سے جُڑی مذہبی و سیاسی جماعتوں کا مکمل کنٹرول ہے، وہ کیسے کوئی سیٹ جیت سکتے ہیں؟ پنجاب میں بھی ان کی سیاسی جڑیں نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے پاس ”وننگ ہارسز“ ہیں، جنہیں ان کے حلقوں میں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

بادی النظر میں دیکھا جائے تو زمینی حقائق یہی ہیں۔ بظاہر تنہا پرواز کے ذریعے انتخابی معرکہ سر کرنے کا معاملہ ایک خواب ہی لگتا ہے، تاہم کچھ پہلوو¿ں کا اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو عمران خان کی سوچ کچھ زیادہ غیر منطقی اور حقائق سے ہٹی نظر نہیں آتی....اس کا ذکر آگے چل کر کرتے ہیں....فی الوقت اس نکتے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا معروضی حالات موجود ہیں جن کی وجہ سے عمران خان کو تنہا پرواز، اتحادی سیاست سے زیادہ کارآمد محسوس ہو رہی ہے.... عمران خان ایک کرکٹر ہیں اور کرکٹر جب تک رسک نہ لے، بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا، مثلاً باو¿لر کھلاڑی کو آو¿ٹ کرنے کے لئے باو¿نسر پھینکتا ہے، تاکہ وہ اسے اونچا کھیلے اور کیچ آو¿ٹ ہو جائے۔ اگرچہ اس میں چھکا لگنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں، تاہم وہ رسک لیتا ہے۔ اسی طرح بیٹسمین کو اگر معلوم ہو کہ دو گیندوں میں آٹھ سکور بنانے ہیں تو وہ چھکا یا چوکا مارنے کا خطرہ ضرور مول لیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں شکست ویسے بھی اس کی ٹیم کا مقدر بن چکی ہے۔ کھلاڑی کی اس سوچ کو آپ ذہن میں رکھ کر عمران خان کی حکمت عملی پر غور کریں تو یہ عقدہ حل ہو جاتا ہے کہ وہ کیوں تنہا پرواز کرنا چاہتے ہیں۔

عمران خان اور تحریک انصاف کے بارے میں عوامی سطح پر تبدیلی کا جو تاثر بن چکا ہے، وہ اس امر کا متقاضی ہے کہ عمران خان تنہا پرواز کا خطرہ مول لیں اور چھکا لگانے کی کوشش کریں۔ اگر وہ یہ رسک نہیں لیتے تو پھر وہ بھی اتحادی سیاست میں غرق ہو کر چند سیٹوں کے ساتھ آنے والی اسمبلی میں موجود ہوں گے اور تحریک انصاف ایک عام سی جماعت بن کر رہ جائے گی۔ تحریک انصاف کی مقبولیت ہی اس میں ہے کہ وہ سال ہا سال سے مسلط دقیانوسی اور استحصالی نظام کو للکارے.... اگر وہ ان قوتوں کے ساتھ مل جاتی ہے، جو ہمیشہ سے اس نظام کے طفیل عوام کا لہو نچوڑ رہی ہیں تو پھر وہ ایک نقل ثابت ہوں گے، اصل نہیں اور عوام سوچیں گے کہ اگر یہ سب ایک ہیں تو پھر ایسی سیاسی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہ دیں، جنہیں ہمیشہ سے دیتے آئے ہیں۔ عمران خان کے پاس انتخابی سیاست کے لئے دیکھا جائے تو کوئی چوائس ہی موجود نہیں۔

وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تحریک انصاف کا ایسی کسی جماعت سے انتخابی اتحاد نہیں ہو سکتا جو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اقتدار میں رہی ہو۔ یوں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم، اے این پی اور جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے ساتھ عمران خان اتحاد کے امکانات کو رد کر چکے ہیں، باقی جو سیاسی جماعتیں بچتی ہیں، ان کا ووٹ بینک اتنا نہیں کہ تحریک انصاف کو اتحادی کی شکل میں کوئی بڑا فائدہ پہنچا سکے، اس لئے نظر تو یہی آ رہا ہے کہ عمران خان آئندہ انتخابات میں ایک بڑا رسک لینے جا رہے ہیں، لیکن جیسا کہ مَیں پہلے کہہ آیا ہوں، اگر وہ یہ رسک نہیں لیتے تو تحریک انصاف کے لئے دوسرے درجے کی ان سیاسی جماعتوں جیسا کردار رہ جائے گا جو کبھی اقتدار میں نہیں آتیں، البتہ اقتدار میں آنے والی بڑی سیاسی جماعتوں کا دم چھلہ ضرور بن جاتی ہیں.... جبکہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ابھی تک روایتی انتخابی سیاست کا انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ وہی جوڑ توڑ، وہی بااثر امیدواروں کی پارٹی میں شمولیت کے لئے تگ و دو اور وہی برادری ازم یا علاقائی سوچ رکھنے والے طبقوں پر انحصار، حالانکہ مَیں سمجھتا ہوں کہ آنے والے انتخابات کا ٹیمپو روایتی سیاست سے بالکل مختلف ہوگا....کوئی مانے یا نہ مانے اس بار پول ہونے والے ووٹوں کی شرح 75 فیصد سے کم نہیں رہے گی۔

گویا ماضی کے مقابلے میں 40 فیصد ووٹ زیادہ ڈالے جائیں گے۔ یہ کون لوگ ہوں گے؟.... اگر ووٹر لسٹوں کو دیکھا جائے تو ان میں نوجوانوں کی تعداد پچاس فیصد سے زیادہ نظر آئے گی۔ کم از کم ساڑھے تین کروڑ ووٹ ایسے ہیں، جن کا پہلی بار اندراج ہوا ہے اور یہ سب لوگ ووٹ ڈالنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ یہ کہنا تو مناسب نہیں کہ سب نوجوان ووٹر تحریک انصاف کو ہی ووٹ دیں گے، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی کو بھی ووٹ دیں، پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈالنے ضرور جائیں گے۔ عمران خان انہی نوجوان ووٹروں پر انحصار کر کے تنہا پرواز کا رسک لے رہے ہیں۔ عمران خان جس سونامی کی بات کرتے ہیں، وہ درحقیقت انہی ووٹروں میں چھپا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اس نئے ووٹ بینک پر کوئی توجہ نہیں دے رہیں اور اپنے روایتی ووٹ بینک پر ہی انحصار کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ساری توجہ ماضی کے معروف اور مقبول امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانے پر مرکوز ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں کس کی حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے؟....البتہ عمران خان نے تنہا پرواز کا رسک لے کر یہ تاثر ضرور قائم کیا ہے کہ تحریک انصاف ”سٹیٹس کو“ کے خلاف جدوجہد کرنے والی واحد جماعت ہے اور تبدیلی صرف اسی کے ذریعے آسکتی ہے۔ ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...